ہفتہ، 4 اپریل، 2026

 


سننے کے لیے کلک کریںکی فضیلت اور برکتیں

 لا حول ولا قوة إلا بالله

کی فضیت واہمیت

پڑھنے کےلیے کلک کریں




 

ہمارے استاذ ہمارے محسن ومرشد

حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندوی رحمہ اللہ کا تذکرہ

=============

(mp3 سنیے)

16 ستمبر 2025 کو یعنی رواں برس حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ کی وفات کو دس برس بیت گئے، وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نئے لوگ، نئے افکار اور نئے رجحانات گویا عالم جوانی کو پہنچ گئے، اور اس عرصے میں حضرت مولانا رحمہ اللہ کے سنوارے ہوئے باغ سے تقریبا پوری ایک نئی جنریشن نے بھی جنم  لے لیا، جس نے یقینا حضرت کا نام سنا ہوگا،  لیکن دیکھا نہیں، البتہ جن لوگوں نے حضرت کو دیکھا، سنا اور بطور خاص جنھیں حضرت مولانا رحمہ اللہ کے شاگرد بننے کا شرف حاصل ہوا، وہ لوگ خوش نصیب ہیں۔ حضرت مولانا ؒصرف کسی جامعہ کے ایک ایڈمنسٹریٹر ہی نہیں تھے، آپ محض  کسی مدرسے کے فارغ عالم دین ہی نہیں تھے، نہ آپ کسی مدرسے کے  محض معلم تھے، اور نہ آپ کسی معاشرے کے ایک قائد وذمہ دار ہی نہیں تھے، بلکہ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے علامہ ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ اور اکابر علمائے ہند کی فکر وکڑھن اور دیار ہند میں ان کے ویژن اور مشن کو آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھا رکھا تھا۔ ہم نے آپ ؒ کی زندگی صبغۃ اللہ  میں رنگی دیکھی، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے دیکھا،  آپ کا رکھ رکھاؤ، چال ڈھال، طرزِ تکلم اور نظم وضبط اس بات کا اشارہ تھا کہ آپ پورے معاشرے کو ایک مہذب ومتمدن سماج میں ڈھالنے کے قائل  ہی نہیں بلکہ فکر مند تھے اور بذات خود عمل کرکے اپنے طلباء اور ماتحت کام کرنے والوں کو عملی پیغام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ ہم نے آپ کے قریبی رفقا میں جن جن کو دیکھا ، ان سب میں  وہی رنگ نظر آیا ، جس  صبغۃ اللہ کو مولانا نے اپنے لیے  چن رکھا تھا، چاہے مرحوم عبدالوہاب جذب ؒ ہو، چاہے مرحوم نعیم الدین ؒ صاحب ہو، چاہے حضرت مولانا مجیب الدین صاحبؒ ہو، اس جماعت  کے تمام ہی افراد گویا ایک ہی رنگ میں رنگے ہوءے تھے۔ ان کا لباس، ان کی فکر، ان کے طرز کلام اور ان کا ایک ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا سب للہ تھا۔ جس کا نتیجہ جامعہ کی وہ زندگی تھی جو بغیر کسی رکاوٹ کے کامیابی کی جانب رواں دواں تھی۔

 حضرت مولانا ؒ جب اپنے گھر سے جامعہ آتے تو پورے شان وقرار کے ساتھ، نگاہوں کو نیچی رکھ کر، ایک ہاتھ میں کتاب ہوتی اور درمیانی رفتار سے چلتے ہوئے جامعہ پہنچتے، کام کی جگہ کا احترام اور وقار کا لحاظ اس قدر تھا کہ ہم نے اپنے زمانے طالب علمی میں آپ کو کبھی بغیر شیروانی اور بغیر شوز کے نہیں دیکھا، چاہے گرمی کا موسم ہو یا ٹھنڈ کا، آپ نے اپنے عہدے ومنصب کے وقار کا پورا پورا خیال رکھا۔ تقریبا سات سے آٹھ برس تک حضرت رحمہ اللہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، لیکن سوائے ایک دفعہ کے کبھی آپ کو کام کی جگہ غصے ہوتے نہیں دیکھا۔ ایک دفعہ شاید سال 1998 یا 99 کی بات ہے جب جامعہ میں عالیہ رابعہ کی ایک بینچ نے ندوۃ العلماء کا امتحان دینے کی صورت میں ندوہ ہی کی سند دینے کے مطالبے میں کئی روزہ احتجاج کیا تھا، اس وقت ہم شعبہ حفظ میں تھے، عالیہ رابعہ کی اس بینچ نے بغاوت جیسا رخ اختیار کرلیا تھا، حضرت رحمہ اللہ سمیت پورے ادارے پر دباؤ تھا، اس طرح کے حالات کو قابو میں کرنا معمولی نہیں تھا، اس وقت کسی مدرسے اور جامعہ کے ذمہ دار و ناظم کو غصے میں دیکھنے کا تجربہ ہوا تھا، اس کے بعد چاہے آپ کا دفتر ہو، کمرہ جماعت ہو یا کوئی جلسہ یا تقریب آپ نے اپنے آپ کو پورا جامعہ، اس کے اساتذہ ، طلبہ اور جامعہ کے عملے کے لیے ایک باپ اور ایک مرشد ومحسن کے روپ میں پیش کیا۔

عموما آج کل کے مربی حضرات اور اعلی مناصب کے حامل لوگ اپنے ماتحتوں کے ساتھ یا تو بہت زیادہ سخت ہوتے ہیں یا ماتحتوں سے بہت زیادہ بے تکلفی ان کے کام میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ لیکن حضرت رحمہ اللہ کا اپنے ماتحتوں کے ساتھ ایک محسن مربی جیسا برتاؤ ہوتا تھا، ہم نے آپ کو دفتر سے لے کر کمرہ جماعت تک اور دیگر مواقع پر  ایک حقیقی سرپرست اور مربی ومرشد کے طور پر پایا۔کبھی بھی بآواز بلند حکم دیتے ہوئے یا ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ آپ اپنے سے چھوٹوں سے ان کے مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھ کر مخاطب ہوتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں آپ کے دفترِ خاص میں جانے کا کئی دفعہ موقع ملا، آپ کے دفتر کے ان مناظر کو تصور کرکے آج بھی ایمانی وروحانی سکون ملتا ہے، جہاں وسط کی کرسی پر مثلِ گلدستہ حضرتؒ تشریف رکھتے تھے، یمین سے آپ کے عزیز دوست وساتھی مرحوم نعیم الدین صاحب، حضرت مولانا مجیب الدین صاحب رحمہ اللہ اور یسار سے جامعہ کے دیگر اکابر اساتذہ ہوتے تھے، ہم نے سات سال کے عرصے میں حضرت ؒکے دفتر سے کبھی بھی بحث وتکرار اور اونچی آوازوں میں بات چیت اور ڈانٹ ڈپٹ کا منظر نہیں دیکھا۔

حضرتؒ کی طبیعت میں ایک وقار اور سنجیدگی تھی جو آپؒ کی پوری شخصیت پر چھائی رہتی۔ کمرۂ جماعت میں آپؒ سراپا شفقت و رہنمائی ہوتے، مگر اس کے باہر طلبہ سے بلا تکلّف گھلنے ملنے کے عادی نہ تھے۔ اسی ظاہری سنجیدگی نے ہمارے دل میں یہ خیال پیدا کر دیا تھا کہ حضرتؒ کو نہ ہماری پہچان ہوگی اور نہ جماعت کا علم۔ مگر بعد کے واقعات نے یہ خوش فہمی دور کر دی۔ ثانویہ رابعہ کے سال علمِ صرف کی تدریس حضرتؒ کے سپرد تھی۔ نصف تعلیمی سال گزر چکا تھا۔ ان دنوں جامعہ میں دینی و عصری تعلیم کے بیک وقت حصول کی سخت ممانعت تھی، لیکن میں اور عم زاد تصور الرحمٰن ندوی جامعہ سے کوئی باضابطہ اجازت لیے بغیر خاموشی سے عصری تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ایک صبح، درس کا وقت تھا اور گھڑی دس بجا رہی تھی۔ ہمیں کالج کی کسی سرگرمی کے لیے جامعہ سے نکلنا تھا، اور اس کے لیے ہم نے تمام تدبیر ایک دن پہلے ہی کر رکھی تھی۔ ہم دونوں سائیکل پر سوار گیٹ سے باہر نکل ہی رہے تھے کہ اچانک نہرو بھون کے قریب کی گلی سے حضرتؒ نمودار ہو ئے ۔ ہم نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ سلام کیے بغیر نکل جائیں گے، مگر قبل اس کے کہ ہم اپنی "جاں بخشی" کی تدبیر پوری کر پاتے، حضرتؒ نے خود ہی سلام میں پہل کر دی۔ پُرسکون لہجے میں پوچھا: "کہاں جانے کا ارادہ ہے؟" ہم نے مبہم سا جواب دے کر راستہ بدلنے کی کوشش کی، مگر حضرتؒ کے ایک اشارے نے ہمیں واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ہم دونوں خاموشی سے پلٹے، اور تیزی کے ساتھ جامعہ کے گیٹ میں داخل ہو کر، حضرتؒ کے اندر پہنچنے سے پہلے پہلے دوسرے دروازے سے دوبارہ باہر نکل گئے۔ ہمیں اب بھی یہی گمان تھا کہ حضرتؒ کو ہمارے ناموں کی خبر نہیں اور نہ جماعت کی۔ لیکن چند ہی گھنٹوں بعد معلوم ہوا کہ حضرتؒ نے نہ صرف استاذِ محترم مولانا نسیم الدین صاحب مفتاحی حفظہ اللہ  کو ہمارے نام بتا دیے بلکہ جماعت بھی پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرما دی۔یوں ہماری ساری چالاکی حضرتؒ کی دوربین نگاہ کے سامنے بے نقاب ہوگئی، اور ہمیں پہلی بار احساس ہوا کہ باوقار شخصیات کی خاموشی میں کبھی کبھی سب سے زیادہ خبرداری چھپی ہوتی ہے۔

 

  سننے کے لیے کلک کریں کی فضیلت اور برکتیں  لا حول ولا قوة إلا بالله کی فضیت واہمیت پڑھنے کےلیے کلک کریں