از
قلم – ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی
( اے اللہ، ہمیں رمضان عطا فرما!)
لیکن سوال یہ ہے: کیا ہم نے رمضان کی تیاری کرلی ہے؟
انسانی
زندگی میں کوئی بھی کام ہو، اس کی کامیابی کی بنیاد اچھی تیاری اور بہتر منصوبہ
بندی پر ہوتی ہے۔ تیاری محض کامیابی تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ تیاری اور
منصوبہ بندی میں ہی کامیابی پوشیدہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سے کسی کام کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ ﷺ سب سے
پہلے اس کی تیاری اور منصوبہ بندی کے متعلق دریافت فرماتے تھے۔چنانچہ جب ایک سائل
نے نبی کریم ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ایسا جامع اور شافی جواب دیا
جو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ما أعددت لها؟تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ (صحیح بخاری)
ماہِ رمضان المبارک آتے ہی اکثر یہ بات ذہن
میں آتی ہے کہ اسلام کی بڑی جنگیں اور عظیم معرکے اسی مہینے میں پیش آئے، اسی لیے
اسے فتح و نصرت کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ تصور پختہ ہو گیا کہ کامیابی
صرف رمضان ہی میں حاصل ہوتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اُس طویل، منظم اور مسلسل
تیاری کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو ہر فتح سے پہلے کی گئی تھی۔ رمضان کامیابی کا
وقت ضرور ہے، مگر اس کامیابی کی بنیاد اس تیاری میں ہوتی ہے جو اس سے پہلے کی جاتی
ہے۔
اگر ہم نبی کریم ﷺ کے غزوات کا گہرائی سے
مطالعہ کریں، بالخصوص بڑے اور فیصلہ کن معرکوں کو دیکھیں، تو یہ بات واضح ہوتی ہے
کہ رمضان میں صرف دو اہم واقعات پیش آئے: غزوۂ بدر اور فتحِ مکہ۔ اس کے برعکس
زیادہ تر غزوات شوال کے مہینے میں ہوئے، جو رمضان کے فوراً بعد آتا ہے۔ یہ حقیقت
ہمیں ایک عملی سبق دیتی ہے کہ رمضان دراصل تیاری، تربیت اور مضبوطی کا مہینہ ہے،
اور اسی تیاری کا نتیجہ بعد کے مہینوں میں کامیابی اور فتح کی صورت میں ظاہر ہوا۔
رمضان دراصل وہ حقیقی مرحلہ ہے جس میں انسان
اپنی ذات پر قابو پاتا ہے، اپنی خواہشات کو زیر کرتا ہے اور زمین کی طرف جھکنے کے
بجائے ایمان کے سہارے بلند ہوتا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جو مسلمان کو اپنی نفسانی
کمزوریوں پر غلبہ حاصل کرنا سکھاتا ہے اور اسے اندر سے مضبوط بناتا ہے۔
رمضان
کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچان لے اور یہ جان
لے کہ نفس پر قابو پانے میں جن باتوں کو وہ ناممکن سمجھتا تھا، وہ دراصل نہ صرف
ممکن ہیں بلکہ مشق کے ساتھ آسان بھی ہو جاتی ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف شاعر نے خوب
اشارہ کیا ہے:
كلُّ
ما لَم يكن من الصعب في الأَنفُسِ
سهـلٌ فيها إذا هـو كـانا
)ہر وہ چیز جو نفس پر مشکل نہیں ہوتی، چاہنے والے کے لیے وہ آسان
ہوتی ہے(
واقعی رمضان نفس کی خواہشات پر قابو پانے کا
عملی امتحان ہے۔ جو کام انسان مہینوں میں نہیں کر پاتا، وہی کام وہ رمضان میں
بخوبی انجام دے لیتا ہے۔ یہ مہینہ دل میں یہ مضبوط یقین پیدا کرتا ہے کہ نفس کو
قابو میں رکھنا، اسے بلند رکھنا اور ہر وقت خود کو تیار رکھنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ
انسان کی پہنچ میں ہے۔ رمضان ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل طاقت ہمارے اندر ہی
موجود ہے، بس اسے جگانے کی ضرورت ہے۔
سیدُالتابعین حضرت ابو مسلم خولانیؒ نےقبل از وقت تیاری کی اصل حقیقت
کو نہایت حکمت اور سادگی سے بیان فرمایا۔ ایک موقع پر وہ روم کی سرزمین میں جہاد
کے سفر پر تھے۔ شدید گرمی سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنے خیمے میں ایک گڑھا کھود
رکھا تھا، اس میں چمڑا بچھایا، پانی بھرا اور اسی میں بیٹھے ہوئے تھے۔کچھ لوگوں نے
تعجب سے پوچھا:“آپ سفر میں ہیں، پھر بھی روزہ کیوں رکھ رہے ہیں؟”آپؒ نے بڑے بصیرت
افروز انداز میں جواب دیا:
“اگر جنگ سامنے آ جائے تو میں روزہ چھوڑ دوں
گا، تاکہ پوری تیاری کر سکوں اور خود کو مضبوط بنا سکوں۔”پھر انھوں نے مثال
دیتے ہوئے فرمایا:“گھوڑے منزل تک اس وقت نہیں دوڑتے جب وہ موٹے تازے ہوں، بلکہ اس وقت دوڑتے
ہیں جب دبلا پن آ جائے اور زائد چربی ختم ہو چکی ہو۔”پھر فرمایا: “یاد رکھو!
ہمارے اصل دن ابھی باقی ہیں، وہ آنے والے ہیں۔ ہم آج جو محنت کر رہے ہیں، وہ انہی
دنوں کی تیاری ہے۔
سال 2012ء میں جرمنی کی
معروف الیکٹرانکس چین Saturn نے اپنی 150ویں شاخ
کے افتتاح پر ایک دلچسپ مقابلے کا اعلان کیا۔ شرط یہ تھی کہ جیتنے والا شخص نئی
شاخ میں 150 سیکنڈ کے لیے داخل ہوگا
اور جو چاہے گا مفت لے جا سکے گا۔ مقابلے کے نتائج آئے تو کامیاب افراد میں
27 سالہ سباستیان بھی شامل
تھا۔ افتتاح کے دن میڈیا کا ہجوم تھا۔
جیسے ہی جدید برقی آلات سے بھرا ہوا اسٹور کھولا گیا، شدید رش ہو گیا۔ لوگ ایک
دوسرے سے ٹکراگئے، راستے بند ہو گئے اور بدنظمی پھیل گئی۔ اس ہجوم میں زیادہ تر
لوگ کچھ خاص حاصل نہ کر سکے،لیکن سباستیان نے اس ہجوم کے باوجود بہت کچھ حاصل
کرلیا۔سب حیران رہ گئے کہ اس نوجوان نے نہ صرف کئی قیمتی مشینیں سمیٹی بلکہ ایک بڑی
فریج تک اٹھا لے گیا۔ اندازے کے مطابق اس نے 29 ہزار یورو سے زائد مالیت کا سامان حاصل کیا۔اسٹور سے نکلتے ہی اس کے منہ سے بے ساختہ
جملہ نکلا:میری حکمتِ عملی کامیاب ہو گئی۔
میڈیا سے گفتگو میں اس نے بتایا کہ مقابلے
کے اعلان کے بعد سے وہ روزانہ اسٹور آتا تھا، راستے طے کرتا، ترجیحات
بناتا، یہ فیصلہ کرتا کہ کیا اٹھانا ہے اور کیا چھوڑنا ہے۔ یہی پہلے سے کی گئی
تیاری تھی جس نے عملی لمحے میں اسے کامیاب بنایا۔ کامیابی چاہنے والے ہر انسان
کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ:کیا آنے والے رمضان کے لیے ہماری مکمل تیاری ہے، یا
ہم اس سال بھی ہمیشہ کی طرح ماہِ رمضان کو اچانک آتے اور اچانک رخصت ہوتے
دیکھیں گے؟
نبی
کریم ﷺ نے ہمیں غلط تیاری سے بھی خبردار فرمایا، اور بتایا کہ وہ کس طرح انسان کو
ہلاک کر دیتی ہے اور اس کے وسائل کو برباد کر دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے مثال دیتے ہوئے
فرمایا:
«إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ
فَأَوْغِلْ فِيهِ بِرِفْقٍ، وَلَا تُبَغِّضْ إِلَى نَفْسِكَ عُبَادَةَ اللَّهِ،
فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لَا أَرْضًا قَطَعَ وَلَا ظَهْرًا أَبْقَى»
”بے
شک یہ دین نہایت مضبوط ہے، اس میں نرمی سے گھسو اور اپنے نفس کو اللہ کی عبادت سے
متنفر نہ کرو کیونکہ تیز سواری دوڑانے والا نہ تو (ساری) زمین کا سفر طے کر سکتا
ہے اور نہ سواری کو باقی رہنے دیتا ہے۔ ] مسند الشهاب/حدیث: 1147[
یہ مثال اُس شخص جیسی ہے جو سفر میں اپنی
سواری پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ راستے ہی میں جواب دے جاتی
ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ وہ منزل تک پہنچ پاتا ہے اور نہ سواری سلامت رہتی ہے۔بدقسمتی
سے ہمارا حال بھی اکثر رمضان میں یہی ہوتا ہے۔ ہم اس مقدس مہینے کا آغاز تو بڑے
جوش سے کرتے ہیں، مگر بغیر کسی تیاری کے۔ پھر جب رمضان کا آخری اور سب سے قیمتی
حصہ آتا ہے،جس میں اصل روح پوشیدہ ہے اور جس میں لیلۃ القدر بھی شامل ہےتو ہم تھکن
کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔ سستی اور اکتاہٹ ہم پر غالب آ جاتی ہے، اور ہم اس عظیم
موقع سے پورا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔
جو شخص خود پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال لیتا
ہے، آخرکار وہی بوجھ اس کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے۔ اسی لیے دینِ اسلام میں
اعتدال اور تسلسل و ثابت قدمی کو بڑی
اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہے جو پابندی کے
ساتھ کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے ان الفاظ میں
بیان فرمایا:
«أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى
اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ»
(اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو
ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہو)
اس حدیث رسول ﷺ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت
میں وقتی جوش کے بجائے مستقل مزاجی اختیار کی جائے، تاکہ انسان تھکے بغیر، بوجھ
محسوس کیے بغیر، آہستہ آہستہ روحانی بلندی کی طرف بڑھتا رہے۔
رمضان کی تیاری کے چند اہم مراحل یہ ہیں:
خالص نیت اور عزم:رمضان کی اصل
تیاری نیت سے شروع ہوتی ہے۔ ہر مسلمان کو
عزم کرنا چاہیے کہ وہ آنے والے اس بابرکت
مہینے میں عبادت، نیکی اور خدا کی رضا کے لیے ہر لمحے کو بھرپور استعمال کرے گا۔
نبی ﷺ نے فرمایا: “إنما الأعمال بالنيات” یعنی اعمال
کا دارومدار نیت پر ہے۔ یاد رکھیں، موت کبھی بھی آ سکتی ہے، اس لیے ہر لمحے کی قدر
کریں۔ بزرگان دین رمضان کی آمد سے چھ مہینے پہلے سے ہی رمضان پانے کی دعا کیا
کرتے تھے۔
سچی توبہ:رمضان میں داخل ہونے سے پہلے اپنے چھوٹے بڑے گناہوں کی
معافی اور دل کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔ سچی توبہ کریں، اہل حق کے حقوق واپس کریں،
استغفار اور دعاؤں کے ذریعے اللہ کی رحمت طلب کریں۔
وقت کی قدر: وقت انسان کی زندگی کا اصل
سرمایہ ہے۔ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی بنانے
کے لیے ابھی سے ہی نیک کاموں میں اور عبادتوں میں اپنا وقت لگانا شروع کردیں۔
کھانے کو کم کردیں:
رمضان میں روزوں میں آسانی کے لیے
اور نفس کو بھوکہ رہنے کا عادی بنانے کے لیے ابھی سے ہی اپنے کھانے کو کم کردیں،
غیر ضروری مشروبات اور عادتوں کو اس نیت سے ترک کردیں کہ اللہ کی ایک عظیم نعمت
ہمیں عنقریب عطا کی جانے والی ہے اور اس کے استقبال کے لیے میں ہر لحاظ سے تیار
ہوں۔
روزے کے ضروری احکام سیکھیں: روزے کے احکام، آداب اور
شرائط جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے
تاکہ عبادت اللہ کی رضا کے مطابق ہو اور ثواب حاصل ہو۔
روزہ کی مشق: شعبان میں پیر
اور جمعرات کے روزہ رکھ کر رمضان کے لیے عادت بنائیں۔
قیام الليل: رات کی عبادت سے دل کی تربیت اور روحانی طاقت بڑھتی ہے،
رمضان کی راتیں عبادت کی راتیں ہیں، اس
لیے ابھی سے ہی عبادت کی غرض سے شب
بیداری کا معمول بنائیں۔
قرآن کی تلاوت: رمضان میں
تلاوت کی رفتار کو بڑھانے کے لیے ابھی سے ہی زیادہ سے زیادہ تلاوت کا اہتمام کریں۔
زکوۃ وصدقات: رمضان ہر قسم کی عبادت کا مہینہ ہے، اپنے
أموال کی زکات اور نفل صدقات کی ترتیب قبل از رمضان ہی بنالی جائے۔ تاکہ رمضان کے
قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔

