جمعرات، 16 جولائی، 2026

बाज़ार में चलने-फिरने, खरीद-बिक्री करने के आदाब

 


- डॉ. मुबस्सिर रहमान 

इस्लाम ने हमें बाज़ार में चलने-फिरने, खरीद-बिक्री करने और लोगों के साथ अच्छा व्यवहार करने के आदाब सिखाए हैं। आइए, इन अहम बातों को जानते हैं।

•             बाज़ार में जाएँ तो सलाम करें।

•             लाइन में रहें और अपनी बारी का इंतज़ार करें।

•             बिना ज़रूरत ऊँची आवाज़ में बात न करें।

•             शोर-शराबा न करें।

•             खरीदने वाला और बेचने वाला, दोनों प्यार और नरमी से पेश आएँ।

•             लेन-देन में अच्छा अख़लाक़ रखें।

•             जब सच में खरीदना हो तभी दुकान पर जाएँ।

•             सिर्फ़ समय बिताने के लिए दुकानदार को परेशान न करें।

•             खरीदारी से पहले तय कर लें कि क्या लेना है।

•             बिना ज़रूरत बाज़ार में समय बर्बाद न करें।

•             दुकानदार पर झूठ का इल्ज़ाम न लगाएँ।

•             बिना वजह सामान में कमी न निकालें।

•             दुकानदार की इज़्ज़त करें।

•             सामान खरीदें या चुपचाप वापस आ जाएँ।

•             दुकान खुलने के समय ही खरीदारी करें।

•             दुकान बंद होने के समय दुकानदार को परेशान न करें।

•             बच्चों को दुकान में शोर मचाने न दें।

•             उन्हें सामान से खेलने न दें।

•             रास्ते और बाज़ार के आदाब का ध्यान रखें।

•             सलाम का जवाब दें।

•             नज़रें नीची रखें।

•             किसी को तकलीफ़ न पहुँचाएँ।

•             औरतें सड़क के किनारे चलें।

•             मर्द औरतों के लिए आसानी पैदा करें।

•             औरतें पर्दा और हया का ख़याल रखें।

•             बात हमेशा नरमी और अदब से करें।

•             कपड़े नापने के बहाने हाथ या पैर न खोलें।

•             ट्रायल रूम में भी हिजाब न उतारें।

•             ज़्यादा भीड़ के समय खरीदारी से बचें।

•             दाम को लेकर ज़्यादा बहस न करें।

•             दुकानदार से झगड़ा न करें।

•             नौजवान बिना ज़रूरत बाज़ारों में न घूमें।

•             खरीद-बिक्री की वजह से नमाज़ और अल्लाह की याद से गाफ़िल न हों।

•             सड़क पार करने वालों का ख़याल रखें।

•             बुज़ुर्गों और बच्चों की मदद करें।

•             गाड़ी ग़लत जगह पार्क न करें।

•             रास्ता बंद न करें।

•             खुले बाज़ार में खाते-पीते न फिरें।

•             मस्जिद में खरीद-बिक्री की बातें न करें।

•             खरीदारी करते समय अपने देश, अरब और इस्लामी देशों की चीज़ों को तरजीह दें।

•             सिर्फ़ ब्रांड और दिखावे से प्रभावित न हों।

•             फ़िज़ूल ख़र्ची से बचें।

•             बाज़ार को साफ़-सुथरा रखें।

•             कूड़ा ज़मीन पर न फेंकें।

•             सोना और चाँदी शरीअत के मुताबिक़ खरीदें।

•             सूद वाले लेन-देन से बचें।

•             शक वाली स्कीमों और इनामी ड्रॉ से दूर रहें।

•             व्यापारी मुनासिब मुनाफ़े पर संतोष करें।

•             झूठी सेल और नकली छूट से बचें।

•             धोखे और फ़रेब का कारोबार न करें।

•             हराम चीज़ों का कारोबार न करें।

•             झूठी बोली लगाकर दाम न बढ़ाएँ।

•             सामान में कोई कमी हो तो उसे न छिपाएँ।

•             सामान का असली देश या गुणवत्ता बदलकर धोखा न दें।

•             जुमे की दूसरी अज़ान के बाद खरीद-बिक्री न करें।

•             ऐसी चीज़ न बेचें जो आपकी मिल्कियत में न हो।

•             तौल और माप में कमी न करें।

•             जमाखोरी से बचें।

•             साझेदारी की चीज़ बेचने से पहले अपने साझेदार को मौका दें।

•             यतीम का माल नाजायज़ तरीके से न खाएँ।

•             रिश्वत और जुए से दूर रहें।

•             चोरी और बेईमानी न करें।

•             कर्ज़ लेकर उसे वापस न करने की नीयत न रखें।

•             किसी का हक़ न मारें।

•             मिली हुई खोई चीज़ को छिपाएँ नहीं, उसका ऐलान करें।

•             मिलावट, धोखा और जालसाज़ी से बचें।

•             सामान बेचने के लिए झूठी क़सम न खाएँ।

•             नाजायज़ मुनाफ़ाख़ोरी न करें।

अल्लाह तआला हमें इस्लामी आदाब के मुताबिक़ ज़िंदगी गुज़ारने और हर काम में सच्चाई, अमानतदारी और अच्छे अख़लाक़ अपनाने की तौफ़ीक़ अता फ़रमाए। आमीन।

بازار اور خرید وفروخت کے اسلامی آداب

 

-  ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی




دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بازار میں چلنے پھرنے، خرید و فروخت کرنے اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کے واضح آداب سکھائے ہیں۔ آئیے بازار کے چند اہم اسلامی آداب پر نظر ڈالتے ہیں۔

- بازار میں داخل ہوں تو سلام کریں۔

- قطار اور نظم و ضبط کا خیال رکھیں۔

- اپنی باری کا انتظار کریں۔

- بلا ضرورت اونچی آواز میں بات نہ کریں۔

- شور شرابہ کرنے سے گریز کریں۔

- خریدار اور دکاندار نرمی سے پیش آئیں۔

    لین دین میں خوش اخلاقی اختیار کریں۔

- خریداری کا ارادہ ہو تو ہی دکان پر جائیں۔

- صرف وقت گزارنے کے لیے دکاندار کو پریشان نہ کریں۔

    خریداری سے پہلے اپنی ضرورت طے کرلیں۔

- بازار میں بلا ضرورت وقت ضائع نہ کریں۔

- دکاندار پر جھوٹ کا الزام نہ لگائیں۔

    بلا وجہ سامان میں عیب نہ نکالیں۔

    دکاندار کی عزت کریں۔

- خریدیں یا خاموشی سے واپس آجائیں۔

    دکان کھلنے کے اوقات میں خریداری کریں۔

- بند ہونے کے وقت دکاندار کو زحمت نہ دیں۔

    بچوں کو دکانوں میں شور مچانے نہ دیں۔

    انہیں سامان سے کھیلنے نہ دیں۔

    راستے اور بازار کے آداب کا خیال رکھیں۔

- سلام کا جواب دیں۔

    نگاہیں نیچی رکھیں۔

- دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔

- خواتین راستے کے کنارے چلیں۔

    مرد خواتین کے لیے آسانی پیدا کریں۔

- خواتین پردے اور حیا کا اہتمام کریں۔

    گفتگو میں نرمی اور وقار اختیار کریں۔

    کپڑے ناپنے کے بہانے ہاتھ یا پاؤں نہ کھولیں۔

    ٹرائل روم میں بھی حجاب نہ اتاریں۔

- رش کے اوقات سے بچ کر خریداری کریں۔

- قیمت پر بے جا بحث نہ کریں۔

    دکاندار سے جھگڑا نہ کریں۔

- نوجوان بلا ضرورت بازاروں میں نہ گھومیں۔

- خرید و فروخت نماز اور ذکرِ الٰہی سے غافل نہ کرے۔

- سڑک پار کرنے والوں کا خیال رکھیں۔

- بزرگوں اور بچوں کی مدد کریں۔

- گاڑی غلط جگہ پارک نہ کریں۔

    راستہ بند نہ کریں۔

- کھلے عام بازار میں کھانے پینے سے پرہیز کریں۔

- مسجد میں خرید و فروخت کی باتیں نہ کریں۔

    خریداری میں مقامی، عربی اور اسلامی مصنوعات کو ترجیح دیں۔

- صرف برانڈ یا ظاہری چمک دمک سے متاثر نہ ہوں۔

    فضول خرچی سے بچیں۔

- بازار کو صاف ستھرا رکھیں۔

    کچرا زمین پر نہ پھینکیں۔

- سونا اور چاندی شرعی اصولوں کے مطابق خریدیں۔

- سودی معاملات سے بچیں۔

    مشتبہ اسکیموں اور انعامی قرعہ اندازیوں سے دور رہیں۔

- تاجر مناسب منافع پر اکتفا کریں۔

- جھوٹی سیل اور جعلی رعایتوں سے بچیں۔

    دھوکے اور فریب والی خرید و فروخت نہ کریں۔

- حرام اشیاء کی تجارت نہ کریں۔

    مصنوعی بولی لگا کر قیمت نہ بڑھائیں۔

- سامان کا عیب نہ چھپائیں۔

- اصل ملک یا معیار تبدیل کرکے دھوکا نہ دیں۔

    جمعہ کی دوسری اذان کے بعد خرید و فروخت نہ کریں۔

    ایسی چیز نہ بیچیں جس کی ملکیت حاصل نہ ہو۔

    تول اور پیمائش میں کمی نہ کریں۔

    ذخیرہ اندوزی سے بچیں۔

- شراکت کی چیز فروخت کرنے سے پہلے شریک کو حق دیں۔

- یتیم کا مال ناحق نہ کھائیں۔

    رشوت اور جوا سے دور رہیں۔

    چوری اور خیانت نہ کریں۔-

    قرض لے کر واپس نہ کرنے کی نیت نہ رکھیں۔

    لوگوں کا حق نہ ماریں۔

    گم شدہ چیز چھپانے کے بجائے اس کا اعلان کریں۔

- ملاوٹ، دھوکا اور جعل سازی سے بچیں۔

- سامان بیچنے کے لیے جھوٹی قسم نہ کھائیں۔

    ناجائز منافع خوری نہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی آداب کے مطابق زندگی گزارنے اور ہر معاملے میں دیانت، امانت اور حسنِ اخلاق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

 


ہفتہ، 4 اپریل، 2026

 


سننے کے لیے کلک کریںکی فضیلت اور برکتیں

 لا حول ولا قوة إلا بالله

کی فضیت واہمیت

پڑھنے کےلیے کلک کریں




 

ہمارے استاذ ہمارے محسن ومرشد

حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندوی رحمہ اللہ کا تذکرہ

=============

(mp3 سنیے)

16 ستمبر 2025 کو یعنی رواں برس حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ کی وفات کو دس برس بیت گئے، وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ نئے لوگ، نئے افکار اور نئے رجحانات گویا عالم جوانی کو پہنچ گئے، اور اس عرصے میں حضرت مولانا رحمہ اللہ کے سنوارے ہوئے باغ سے تقریبا پوری ایک نئی جنریشن نے بھی جنم  لے لیا، جس نے یقینا حضرت کا نام سنا ہوگا،  لیکن دیکھا نہیں، البتہ جن لوگوں نے حضرت کو دیکھا، سنا اور بطور خاص جنھیں حضرت مولانا رحمہ اللہ کے شاگرد بننے کا شرف حاصل ہوا، وہ لوگ خوش نصیب ہیں۔ حضرت مولانا ؒصرف کسی جامعہ کے ایک ایڈمنسٹریٹر ہی نہیں تھے، آپ محض  کسی مدرسے کے فارغ عالم دین ہی نہیں تھے، نہ آپ کسی مدرسے کے  محض معلم تھے، اور نہ آپ کسی معاشرے کے ایک قائد وذمہ دار ہی نہیں تھے، بلکہ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے علامہ ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ اور اکابر علمائے ہند کی فکر وکڑھن اور دیار ہند میں ان کے ویژن اور مشن کو آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھا رکھا تھا۔ ہم نے آپ ؒ کی زندگی صبغۃ اللہ  میں رنگی دیکھی، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے دیکھا،  آپ کا رکھ رکھاؤ، چال ڈھال، طرزِ تکلم اور نظم وضبط اس بات کا اشارہ تھا کہ آپ پورے معاشرے کو ایک مہذب ومتمدن سماج میں ڈھالنے کے قائل  ہی نہیں بلکہ فکر مند تھے اور بذات خود عمل کرکے اپنے طلباء اور ماتحت کام کرنے والوں کو عملی پیغام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ ہم نے آپ کے قریبی رفقا میں جن جن کو دیکھا ، ان سب میں  وہی رنگ نظر آیا ، جس  صبغۃ اللہ کو مولانا نے اپنے لیے  چن رکھا تھا، چاہے مرحوم عبدالوہاب جذب ؒ ہو، چاہے مرحوم نعیم الدین ؒ صاحب ہو، چاہے حضرت مولانا مجیب الدین صاحبؒ ہو، اس جماعت  کے تمام ہی افراد گویا ایک ہی رنگ میں رنگے ہوءے تھے۔ ان کا لباس، ان کی فکر، ان کے طرز کلام اور ان کا ایک ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا سب للہ تھا۔ جس کا نتیجہ جامعہ کی وہ زندگی تھی جو بغیر کسی رکاوٹ کے کامیابی کی جانب رواں دواں تھی۔

 حضرت مولانا ؒ جب اپنے گھر سے جامعہ آتے تو پورے شان وقرار کے ساتھ، نگاہوں کو نیچی رکھ کر، ایک ہاتھ میں کتاب ہوتی اور درمیانی رفتار سے چلتے ہوئے جامعہ پہنچتے، کام کی جگہ کا احترام اور وقار کا لحاظ اس قدر تھا کہ ہم نے اپنے زمانے طالب علمی میں آپ کو کبھی بغیر شیروانی اور بغیر شوز کے نہیں دیکھا، چاہے گرمی کا موسم ہو یا ٹھنڈ کا، آپ نے اپنے عہدے ومنصب کے وقار کا پورا پورا خیال رکھا۔ تقریبا سات سے آٹھ برس تک حضرت رحمہ اللہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، لیکن سوائے ایک دفعہ کے کبھی آپ کو کام کی جگہ غصے ہوتے نہیں دیکھا۔ ایک دفعہ شاید سال 1998 یا 99 کی بات ہے جب جامعہ میں عالیہ رابعہ کی ایک بینچ نے ندوۃ العلماء کا امتحان دینے کی صورت میں ندوہ ہی کی سند دینے کے مطالبے میں کئی روزہ احتجاج کیا تھا، اس وقت ہم شعبہ حفظ میں تھے، عالیہ رابعہ کی اس بینچ نے بغاوت جیسا رخ اختیار کرلیا تھا، حضرت رحمہ اللہ سمیت پورے ادارے پر دباؤ تھا، اس طرح کے حالات کو قابو میں کرنا معمولی نہیں تھا، اس وقت کسی مدرسے اور جامعہ کے ذمہ دار و ناظم کو غصے میں دیکھنے کا تجربہ ہوا تھا، اس کے بعد چاہے آپ کا دفتر ہو، کمرہ جماعت ہو یا کوئی جلسہ یا تقریب آپ نے اپنے آپ کو پورا جامعہ، اس کے اساتذہ ، طلبہ اور جامعہ کے عملے کے لیے ایک باپ اور ایک مرشد ومحسن کے روپ میں پیش کیا۔

عموما آج کل کے مربی حضرات اور اعلی مناصب کے حامل لوگ اپنے ماتحتوں کے ساتھ یا تو بہت زیادہ سخت ہوتے ہیں یا ماتحتوں سے بہت زیادہ بے تکلفی ان کے کام میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ لیکن حضرت رحمہ اللہ کا اپنے ماتحتوں کے ساتھ ایک محسن مربی جیسا برتاؤ ہوتا تھا، ہم نے آپ کو دفتر سے لے کر کمرہ جماعت تک اور دیگر مواقع پر  ایک حقیقی سرپرست اور مربی ومرشد کے طور پر پایا۔کبھی بھی بآواز بلند حکم دیتے ہوئے یا ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ آپ اپنے سے چھوٹوں سے ان کے مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھ کر مخاطب ہوتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں آپ کے دفترِ خاص میں جانے کا کئی دفعہ موقع ملا، آپ کے دفتر کے ان مناظر کو تصور کرکے آج بھی ایمانی وروحانی سکون ملتا ہے، جہاں وسط کی کرسی پر مثلِ گلدستہ حضرتؒ تشریف رکھتے تھے، یمین سے آپ کے عزیز دوست وساتھی مرحوم نعیم الدین صاحب، حضرت مولانا مجیب الدین صاحب رحمہ اللہ اور یسار سے جامعہ کے دیگر اکابر اساتذہ ہوتے تھے، ہم نے سات سال کے عرصے میں حضرت ؒکے دفتر سے کبھی بھی بحث وتکرار اور اونچی آوازوں میں بات چیت اور ڈانٹ ڈپٹ کا منظر نہیں دیکھا۔

حضرتؒ کی طبیعت میں ایک وقار اور سنجیدگی تھی جو آپؒ کی پوری شخصیت پر چھائی رہتی۔ کمرۂ جماعت میں آپؒ سراپا شفقت و رہنمائی ہوتے، مگر اس کے باہر طلبہ سے بلا تکلّف گھلنے ملنے کے عادی نہ تھے۔ اسی ظاہری سنجیدگی نے ہمارے دل میں یہ خیال پیدا کر دیا تھا کہ حضرتؒ کو نہ ہماری پہچان ہوگی اور نہ جماعت کا علم۔ مگر بعد کے واقعات نے یہ خوش فہمی دور کر دی۔ ثانویہ رابعہ کے سال علمِ صرف کی تدریس حضرتؒ کے سپرد تھی۔ نصف تعلیمی سال گزر چکا تھا۔ ان دنوں جامعہ میں دینی و عصری تعلیم کے بیک وقت حصول کی سخت ممانعت تھی، لیکن میں اور عم زاد تصور الرحمٰن ندوی جامعہ سے کوئی باضابطہ اجازت لیے بغیر خاموشی سے عصری تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ایک صبح، درس کا وقت تھا اور گھڑی دس بجا رہی تھی۔ ہمیں کالج کی کسی سرگرمی کے لیے جامعہ سے نکلنا تھا، اور اس کے لیے ہم نے تمام تدبیر ایک دن پہلے ہی کر رکھی تھی۔ ہم دونوں سائیکل پر سوار گیٹ سے باہر نکل ہی رہے تھے کہ اچانک نہرو بھون کے قریب کی گلی سے حضرتؒ نمودار ہو ئے ۔ ہم نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ سلام کیے بغیر نکل جائیں گے، مگر قبل اس کے کہ ہم اپنی "جاں بخشی" کی تدبیر پوری کر پاتے، حضرتؒ نے خود ہی سلام میں پہل کر دی۔ پُرسکون لہجے میں پوچھا: "کہاں جانے کا ارادہ ہے؟" ہم نے مبہم سا جواب دے کر راستہ بدلنے کی کوشش کی، مگر حضرتؒ کے ایک اشارے نے ہمیں واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ہم دونوں خاموشی سے پلٹے، اور تیزی کے ساتھ جامعہ کے گیٹ میں داخل ہو کر، حضرتؒ کے اندر پہنچنے سے پہلے پہلے دوسرے دروازے سے دوبارہ باہر نکل گئے۔ ہمیں اب بھی یہی گمان تھا کہ حضرتؒ کو ہمارے ناموں کی خبر نہیں اور نہ جماعت کی۔ لیکن چند ہی گھنٹوں بعد معلوم ہوا کہ حضرتؒ نے نہ صرف استاذِ محترم مولانا نسیم الدین صاحب مفتاحی حفظہ اللہ  کو ہمارے نام بتا دیے بلکہ جماعت بھی پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرما دی۔یوں ہماری ساری چالاکی حضرتؒ کی دوربین نگاہ کے سامنے بے نقاب ہوگئی، اور ہمیں پہلی بار احساس ہوا کہ باوقار شخصیات کی خاموشی میں کبھی کبھی سب سے زیادہ خبرداری چھپی ہوتی ہے۔

 

منگل، 31 مارچ، 2026

تقریر جمعہ- میراث کی تقسیم  نا انصافی اور ظلم

اہم نکات:

·       وراثت کی تقسیم اللہ تعالیٰ کا قطعی حکم ہے۔

·       وراثت میں ناانصافی ایمان کی کمزوری اور اللہ کے حکم سے روگردانی ہے۔

·       عورتوں، یتیموں اور کمزوروں کو وراثت سے محروم کرنا کھلا ظلم ہے۔

·       وراثت میں ظلم کی بڑی وجوہات حرص، طمع اور جاہلی رسمیں ہیں۔

·       حق داروں کا حق کھانا قطع رحمی اور بڑا گناہ ہے۔

·       وراثت میں ظلم پر دنیا و آخرت میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔

·       عدل  وانصاف کے ساتھ وراثت تقسیم کرنا، حقوق لوٹانا اور توبہ کرنا ضروری ہے۔

 


اتوار، 22 مارچ، 2026

ramzaan k baad bhi roza

 

§      ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

روزے کی عبادت: رمضان سے آگے بھی جاری سفر


MP3

روزہ یہ ہے کہ انسان نیت کے ساتھ طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات سے باز رہے۔ یہی روزہ اسلام میں مقرر کیا گیا ہے اور یہی صورت سابقہ امتوں میں بھی تھی۔ اس کے علاوہ جو کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے وہ دراصل بدلی ہوئی اور گھڑا ہوا عمل  ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ...   ترجمہ: پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں۔

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کے حوصلے کو بلند کرتی ہے، ارادے کو مضبوط بناتی ہے، نفس کو پاک کرتی ہے اور روح کو بلند مقام تک پہنچاتی ہے۔ اس میں انسان اپنی فطری خواہشات، خاص طور پر کھانے اور شہوت کی رغبت کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔ یہی مجاہدہ اسے اپنے نفس پر قابو پانے کے قابل بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  ۔ ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (البقرہ: 183)

روزہ کئی مقاصد کے لیے فرض کیا گیا ہے، جن میں ایک اہم مقصد نفس کی تربیت اور تقوی ہے، تاکہ ایسا انسان تیار ہو جو اپنے نفس پر قابو پا سکے اور دین کے دشمنوں کا مقابلہ کر سکے، خواہ وہ مقابلہ ہتھیار سے ہو یا زبان سے۔رمضان کے روزوں کو درست طریقے سے ادا کرنے کے لیے اسلام نے نفل روزوں کو بطور تمہید رکھا ہے۔ سلفِ امت رمضان سے چھ ماہ پہلے اس کی تیاری شروع کر دیتے تھے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتا تو کم از کم رجب سے آغاز کرتے تھے۔ وہ دل کو تیار کرنے اور نفس کو رمضان کے استقبال کا عادی بنانے کے لیےنفلی روزے رکھتے جیسے کوئی کھلاڑی مقابلے سے پہلے مشق کرتا ہے۔

نفلی روزے سال بھر رکھے جا سکتے ہیں، سوائے چند دنوں کے جن میں روزہ رکھنا منع ہے، جیسے عید کے دونوں دن، ایامِ تشریق (عید الاضحیٰ کے بعد کے تین دن) اور یومِ شک (شعبان کی تیسویں تاریخ)، جس کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے۔

اسلام نے نفلی روزوں کی ترغیب دی ہے اور ان پر بڑا اجر رکھا ہے۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ (یعنی جہاد یا اس کے سفر) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ ]سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2246 [

نفلی اور فرض روزے وقت، مقدار اور طریقے میں ایک جیسے ہیں، فرق صرف نیت کے وقت کا ہے۔ نیت ہر عمل کے لیے ضروری ہے۔ فرض روزے میں نیت رات سے کرنا لازم ہے، جبکہ نفلی روزے میں جمہور کے نزدیک دوپہر سے پہلے تک نیت کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ فجر کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ مالکیہ کے نزدیک نفل میں بھی نیت رات ہی سے ضروری ہے، اور حنابلہ کے نزدیک زوال سے پہلے اور بعد میں بھی نیت کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ مغرب سے پہلے ہو۔ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ نیت اسی وقت درست ہوگی جب آدمی فجر سے روزے کی حالت میں ہو اور اس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو۔

نفلی روزے دو قسم کے ہیں:

نفل مطلق:اس میں مسلمان سال کے کسی بھی دن روزہ رکھ سکتا ہے، سوائے ان دنوں کے جن میں روزہ رکھنا منع ہے۔ البتہ بعض دنوں کو خاص کر کے روزہ رکھنا مکروہ ہے، جیسے صرف جمعہ، ہفتہ یا اتوار۔ ہاں اگر یہ کسی عادت کے مطابق ہو یا یومِ عرفہ یا عاشورہ کے ساتھ آجائے تو جائز ہے۔ افضل ترین نفلی روزہ حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے، یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن چھوڑ دینا۔

نفل مُقَیَّد:یہ وہ روزے ہیں جو کسی خاص حالت یا وقت کے ساتھ متعلق ہوں۔ جیسے وہ نوجوان جو نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اس کے لیے روزہ رکھنا زیادہ ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی خواہشات پر قابو پا سکے۔

اسی طرح نفلی روزے وقت کے اعتبار سے بھی ہوتے ہیں:

ہفتہ وار روزے:پیر اور جمعرات کے روزے۔ نبی کریم ﷺ ان دنوں کا اہتمام کرتے تھے اور فرمایا کہ ان دنوں اعمال اللہ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔( إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ)  ]سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2436 [

ماہانہ روزے: ہر مہینے تین دن کے روزے، خاص طور پر تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔( صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ)  ]سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2422[

سالانہ روزے: اس کی کئی صورتیں ہیں، جیسے:

ماہِ محرم  میں کثرت سے روزوں کا اہتمام : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔ (أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم) [رواه مسلم].

اشہرِ حرم  یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب میں کثرت سے روزے رکھنا:  نبی کریم ﷺ نے فرمایا   : حرمت والے مہینوں میں  کچھ روزے رکھو اور کچھ چھوڑ(  صُمْ من الحُرُمِ واتْرُكْ) [رواه أبو داود].

شوال کے چھ روزے: آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے  نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے  رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے۔ (من صام رمضان ثم أتبعه ستًّا من شوال، كان كصيام الدهر)[رواه مسلم].)

یومِ عرفہ اور عاشورہ کے روزے  :

آپ ﷺ نے فرمایا عرفہ کے دن کا روزہ، مجھے اللہ سے امید ہے کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی، اور یوم عاشورہ کا روزہ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔

صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفِّر السنة التي قبله، والسنة التي بعده، وصيام يوم عاشوراء أحتسب على الله أن يكفِّر السنة التي قبله))؛ [رواه مسلم].)

ماہِ شعبان  میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھنا: حضرت عائشہ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺکو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ، آپ شعبان کے سارے روزے رکھتے ، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے ہی شعبان روزے رکھتے تھے ۔( كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يُفطر، ويُفطر حتى نقول لا يصوم، فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر إلا رمضان، وما رأيته أكثر صيامًا منه في شعبان، كان يصوم شعبان كله، كان يصوم شعبان إلا قليلًا) [رواه البخاري ومسلم].

جو شخص پورا سال نفلی روزے رکھنا چاہے، اس کے لیے بھی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ ممنوعہ دنوں میں روزہ نہ رکھے اور اس کی صحت یا ذمہ داریوں پر اس کا برا اثر نہ پڑے۔ والله اعلم ونسأل الله تعالى أن يوفقنا لكل خير

 

 

बाज़ार में चलने-फिरने, खरीद-बिक्री करने के आदाब

  - डॉ. मुबस्सिर रहमान  इस्लाम ने हमें बाज़ार में चलने-फिरने , खरीद-बिक्री करने और लोगों के साथ अच्छा व्यवहार करने के आदाब सिखाए हैं। आइए , ...