جمعہ، 20 مارچ، 2026

 

     (ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی)

رمضان کے بعد رمضان والی ایمانی وروحانی زندگی کیسے ممکن؟

رمضان ایک ایسی جامع تربیت گاہ ہے جو انسان کی روح، کردار اور زندگی کو سنوارتی ہے اور یہ ایک ایسی عملی درسگاہ ہے جہاں عبادت کے ذریعے تقویٰ، خشیت، استقامت اور نیکیوں پر دوام سکھایا جاتا ہے۔دین اسلام میں ایسی عبادت کی کوئی حقیقی قدر نہیں جس کا اثر زندگی میں ظاہر نہ ہو۔ جو شخص رمضان سے صحیح فائدہ اٹھاتا ہے، وہ اس کے بعد پہلے سے بہتر ہو جاتا ہے، کیونکہ ایک نیکی دوسری نیکی کو جنم دیتی ہے۔

ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رمضان وہ مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پورے سال کا چراغ اور اسلام کی عظیم بنیادوں میں سے ایک بنایا ہے، جو نماز، روزہ اور قیام کے نور سے روشن ہے“۔ (بستان الواعظین وریاض السامعین)

اعمال کی قبولیت کی علامت:

ہر چیز کی ایک پہچان ہوتی ہے، اور نیکیوں کی قبولیت کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ بندے کو اس کے بعد بھی نیک اعمال کی توفیق ملے، وہ خیر پر قائم وثابت قدم رہے، اور اس کے عمل کا اثر اس کے کردار، دل کے اخلاص اور اعضا کے اعمال میں نمایاں ہو۔

لہٰذا ہم رمضان کو اپنی زندگی میں خیر کا نقطۂ آغاز بنائیں، اور اس کے بعد کا وقت نیکیوں میں آگے بڑھنے اور مسلسل بہتری کا ذریعہ ہو۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”تم عمل سے زیادہ اس کی قبولیت کی فکر کرو، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا:

  (إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللَّہُ مِنَ الْمُتَّقِین)

 اللہ تو صرف متقیوں سے ہی قبول کرتا ہے۔ (الاخلاص والنیۃ لابن ابی الدنیا)

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”عمل اور دل کے درمیان ایک فاصلہ ہوتا ہے، اور اس فاصلے میں ایسی رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں جو عمل کے اثر کو دل تک پہنچنے نہیں دیتیں،چنانچہ انسان بہت سے اعمال کرتا ہے، مگر اس کے دل میں نہ محبت پیدا ہوتی ہے، نہ خوف، نہ امید، نہ دنیا سے بے رغبتی اور نہ آخرت کی رغبت، اور نہ وہ نور پیدا ہوتا ہے جس سے وہ حق و باطل اور اللہ کے دوستوں اور دشمنوں میں فرق کر سکے۔ اگر اعمال کا اثر دل تک پہنچ جائے تو دل روشن ہو جائے، حق و باطل واضح نظر آئے اور اس کے حال میں مزید بہتری آجائے۔ (مدارج السالکین)

عبدالعزیز بن ابی رواد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہم نے ایسے لوگوں کو پایا جو نیک اعمال میں بھرپور محنت کرتے تھے، اور جب وہ عمل کر لیتے تو انہیں یہ فکر لاحق ہو جاتی کہ آیا یہ قبول ہوا یا نہیں“۔ (لطائف المعارف)

رمضان کے بعد کی ایمانی وروحانی حالت:

رمضان کے بعد ہم اپنی ایمانی وروحانی حالت وکیفیت پر غور کریں تو عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ رمضان میں رُجوع الی اللہ، عبادتوں کی کثرت اور روحانی فضا کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کے بعد ہم میں سے اکثر لوگ کئی قسموں میں بٹ جاتے ہیں۔ لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کے بعد بھی باجماعت نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی سال بھر کی سنت پر عمل کرتے ہوئے قیام لیل اور تہجد کا اہتمام کرتے ہیں، کثرت سے نفل پڑھتے ہیں اور معمول کے مطابق تلاوت قرآن اور ذکر وشکر کا اہتمام کرتے ہیں، ساتھ ہی رمضان کی ہی طرح عام دنوں میں بھی چھوٹے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں۔ہم میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کی زندگی پر رمضان کا کوئی اثر نہیں پڑتا؛ ان کا روزہ محض عادت اور نماز ایک معمول بن جاتی ہے۔ بلکہ بعض لوگ (نعوذ باللہ) رمضان کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اس کے ختم ہونے کے منتظر رہتے ہیں، ان کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ جلد از جلد دوبارہ اپنی خواہشات کو پورا کرسکیں اور گناہوں کی طرف لوٹیں۔

یاد رکھیں! یہ تنزلی ایک خطرناک بیماری ہے۔ اس لیے اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ رمضان کے بعد سستی، کاہلی اور غفلت ہمیں کہیں دوبارہ گناہوں تک نہ لے جائے۔ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جھوٹا انسان پلٹ کر اپنی خواہشات کی طرف چلا جاتا ہے، جبکہ نیک انسان کو اللہ کی رحمت کی امید رہتی ہے، وہ مایوس نہیں ہوتا بلکہ عاجزی وانکساری کے ساتھ اس کے در پر پڑا رہتا ہے۔ (مدارج السالکین)

رمضان کے بعد ہمیں اپنی ایمانی اور روحانی کیفیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا حال بھی یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ کے اس قول کے مطابق ہو جائے، جس میں وہ فرماتے ہیں:”عمل سراب جیسا، دل تقویٰ سے خالی، گناہ ریت کے ذروں کے برابر، اور پھر بھی جنت کی امید! افسوس! تم بغیر شراب کے مدہوش ہو؛ کاش تم اپنی امید کو عمل میں بدل لیتے، اپنی موت کو یاد کر لیتے اور اپنی خواہشات کے خلاف کھڑے ہو جاتے“۔ (تاریخ بغداد للخطیب البغدادی)

نیکیوں پر ثابت قدمی کیسے حاصل ہو؟

انسان کا نفس پرجوش ہوتا ہے، اس میں رغبت پیدا ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی سستی اور کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جب دل میں نیکی کا جذبہ پیدا ہو تو اسے سنبھالا جائے، اور جب سستی آئے تو خود کو سنبھال کر اپنے نفس کو دوبارہ راستے پر لایا جائے۔اس لیے ہمیں صرف رمضان کا عبادت گزار نہیں بننا چاہیے، اللہ تعالیٰ صرف رمضان ہی کا نہیں بلکہ شوال اور تمام مہینوں کا رب ہے۔ لہٰذا رمضان میں بھی اور رمضان کے بعد بھی ہمیں اپنے نفس کو نیکیوں پر قائم رکھنے پر توجہ دینا چاہیے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إذا أرادَ اللہُ بعبدٍ خیرًا استعمَلَہُ، قِیلَ: وما یَستعمِلُہُ؟ قال: یفتَحُ لہُ عملًا صالحًا بین یدَیْ موتِہ حتی یرضَی علیہ مَنْ حَوْلَہُ“

 (جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے نیک عمل کی توفیق دیتا ہے، یعنی اس کی موت سے پہلے اسے ایسا عمل نصیب کرتا ہے جس سے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں)۔

رمضان کے بعد نیک اعمال پر ثابت قدم رہنے کے چند اہم طریقے:

 ۱- نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، ان کی زندگیوں سے سیکھنا اور ذکر کی مجلسوں میں شریک ہونا، کیونکہ ذکر کی مجلسیں بندہ مومن کے دل میں ہمت اور عزم پیدا کرتی ہیں۔

۲- پانچوں نمازوں کی پابندی، خصوصاً مسجد میں ادا کرنا، روزانہ قرآن کا کچھ حصہ سمجھ کر پڑھنا اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا۔

۳- اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگنا، اسی پر بھروسہ رکھنا، ثابت قدمی کی دعا کرتے رہنا، اور برے ماحول، گناہوں، لغو باتوں اور وقت کے ضیاع سے بچنا۔

نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلسل ہو چاہے کم ہی کیوں نہ ہو“

(سئل علیہ الصلاۃ والسلام أیُّ العملِ أحَبُّ إلی اللہِ؟ قال: أدْومُہ وإن قَلَّ

بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی یہ وصیت ہے کہ وہ موت تک ثابت قدم رہیں اور نیک اعمال کو جاری رکھیں، فرمایا: (وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقِینُ

ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں اس کی بہترین مثالیں ملتی ہیں: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نمازِ ضحیٰ کی پابندی کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اگر میرے والدین بھی زندہ ہو جائیں تو بھی میں اسے نہ چھوڑوں، حضرت بلال رضی اللہ عنہ وضو کے بعد دو رکعتوں کا اہتمام کرتے تھے، اور حضرت سعید بن المسیبؓ پچاس سال تک تکبیرِ اولیٰ سے محروم نہ ہوئے۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ عاصم بن بیہقی نے ان کے ہاں ایک رات گزاری، انہوں نے امام احمدؒ کے لیے پانی رکھا، مگر صبح دیکھا تو پانی ویسا ہی تھا، تو فرمایا: سبحان اللہ! کیا انسان ہے، جس نے علم کی طلب کو پوری رات کا ورد بنادیا۔ (سیر أعلام النبلاء)

رمضان کے بعد سلفِ صالحین کا حال:

سلف صالحین کے نزدیک رمضان کے بابرکت مہینے کی بڑی قدر تھی، معلّٰی بن فضل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ”وہ چھ ماہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہتے کہ انہیں رمضان نصیب ہو، اور پھر رمضان گزارنے کے چھ ماہ بعد تک یہ دعا کرتے کہ ان کے اعمال قبول ہو جائیں“۔یوں ان کی پوری زندگی رمضان کے گرد گھومتی تھی؛ کبھی رمضان کے استقبال اور اس کی گھڑیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی فکر، اور کبھی اس کی قبولیت کے لیے دعا و گریہ۔ یہ دراصل روزے اور اس مبارک مہینے کی حقیقت کو گہرائی سے سمجھنے کا نتیجہ تھا۔حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہر وہ دن جس میں اللہ کی نافرمانی نہ ہو، وہی عید ہے؛ مؤمن کے لیے ہر وہ دن عید ہے جو وہ اپنے رب کی اطاعت، ذکر اور شکر میں گزارے“۔(لطائف المعارف)

سلفِ صالحین کی زندگیوں میں اللہ کی اطاعت، عبادت اور ذکر کا ایسا شوق اور لگن دکھائی دیتا تھا کہ رمضان کے ختم ہونے پر بعض کے چہروں پر اداسی چھا جاتی۔ جب ان سے کہا جاتا کہ یہ تو خوشی کا دن ہے، تو وہ جواب دیتے:”تمہاری بات درست ہے، مگر میں ایک ایسا بندہ ہوں جسے میرے رب نے عمل کا حکم دیا تھا اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ قبول ہوا یا نہیں“۔وہیب بن الورد رحمہ اللہ نے عید کے دن لوگوں کو ہنستے دیکھا تو فرمایا:”اگر ان کے روزے قبول ہو گئے ہیں تو یہ شکر گزاروں کا طریقہ نہیں، اور اگر قبول نہیں ہوئے تو یہ ڈرنے والوں کا انداز نہیں“۔ (شعب الایمان للبیہقی)

کسی شاعر نے عید کی حقیقت کو یوں بیان کیا:

لیس عید المحب قصد المصلی

وانتظار الأمیر والسلطان

إنما العید أن تکون لدی اللہ         

کریما مقربا  وانفی أمان

(اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے کی عید یہ نہیں کہ وہ بس عیدگاہ چلے جائے یا کسی حاکم کے انتظار میں رہے، بلکہ اصل عید یہ ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں اللہ کے نزدیک معزز، مقرب اور امن میں ہو)۔

ایک شخص عید کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور دیکھا کہ آپ ؓ خشک روٹی تناول فرما رہے ہیں۔ اس نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آج عید کا دن ہے اور آپ یہ سادہ غذا؟ فرمایا: آج عید اس کی ہے جس کا روزہ اور قیام قبول ہو گیا، جس کے گناہ معاف ہو گئے اور جس کی محنت قبول ہو گئی۔ آج بھی ہمارے لیے عید ہے اور کل بھی، بلکہ ہر وہ دن عید ہے جس میں اللہ کی نافرمانی نہ ہو۔(صید الفوائد۔ایمن الشعبان)حضرت وکیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عید کے دن سفیان ثوری رحمہ اللہ کے ساتھ نکلے تو انہوں نے فرمایا:”آج کے دن ہم سب سے پہلے اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں گے“۔ (الورع لابن ابی الدنیا)

بعض اہلِ دل کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ عید کی رات اپنے حال پر یوں گریہ کرتے تھے:

بحرمۃ غربتی کم ذا الصدود         ألا تعطف علیَّ ألا تجود

سرور العید قد عم النواحی       وحزنی فی ازدیاد لا یبید

فإن کنت اقترفت خلال سوء      فعذری فی الہوی أن لا أعود

(میری بے بسی پر کب تک یہ بے رخی؟ کیا مجھ پر بھی نظرِ کرم ہوگی؟ ہر طرف عید کی خوشی ہے، مگر میرا غم کم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اگر مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہے تو میرا عذر یہی ہے کہ میں اب اس کی طرف نہیں لوٹوں گا)۔

بعض بزرگان دین کہتے ہیں کہ ہم نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے اعمال میں رمضان کے آنے سے کوئی اضافہ نہیں ہوتا تھا اور نہ اس کے جانے سے کوئی کمی؛ یعنی وہ ہر حال میں عبادت اور نیکی پر ثابت قدم رہتے تھے۔ (مجلۃ الفرقان- دولۃ الکویت)  ایک دن عید سے پہلے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی بیٹیوں نے کہا:”ابا جان! ہمارے پاس عید کے لیے نئے کپڑے نہیں۔ انہوں نے فرمایا: بیٹیو! عید نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں، بلکہ عید اس کی ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو“۔(عمر بن عبدالعزیز – دکتور محمد جمعہ الحلبوسی)۔ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے بیٹے کو عید کے دن سادہ کپڑوں میں دیکھا تو رو پڑے۔ بیٹے نے پوچھا: ابا جان! کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا: ڈرتا ہوں کہ تم بچوں کے پاس جاؤ گے تو دل ٹوٹ جائے گا۔ بیٹے نے کہا: دل تو اس کا ٹوٹتا ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے۔ مجھے امید ہے کہ اللہ مجھ سے راضی ہوگا کیونکہ آپ مجھ سے راضی ہیں۔ یہ سن کر عمرؒ  بن عبدالعزیز نے اسے سینے سے لگایا اور دعا دی۔

  قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس کی رمضان میں مغفرت نہ ہوئی، اس کی پھر مغفرت کب ہوگی؟ (شرح کتاب وظائف رمضان)

انس بن مالکؓ فرماتے ہیں:”مومن کے لیے پانچ عیدیں ہیں؛ ہر وہ دن جس میں وہ گناہ سے بچا رہے، وہ عید ہے؛ جس دن وہ ایمان کے ساتھ دنیا سے جائے، وہ اس کی عید ہے؛ جب پل صراط سے گزر جائے، وہ عید ہے؛ جب جنت میں داخل ہو وہ اس کے لیے عید ہے؛ اور جب اپنے رب کا دیدار کرے، وہ مومن کی سب سے بڑی عید ہے“۔

رمضان کی عبادتیں سعادت کی کنجیاں ہیں:

رمضان بابرکت اور عظیم مہینہ ہے، جس کا ہر لمحہ خیر وبرکت سے پرُ ہے۔ اس مہینے میں اسلام کے اہم اعمال اور عبادتیں جمع ہو جاتے ہیں، اور یہ انسان کے لیے سعادت کی تمام کنجیوں کا خزانہ بن جاتا ہے۔ اس مہینے میں توحید و ایمان، صبر و تقویٰ، طہارت و صدقہ، شکر و محبت اور اخلاص و سچائی کی عملی تربیت ہوتی ہے۔

 ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک کنجی مقرر کی ہے؛ نماز کی کنجی طہارت ہے، حج کی کنجی احرام ہے، نیکی کی کنجی سچائی ہے، جنت کی کنجی توحید ہے، علم کی کنجی اچھا سوال اور غور سے سننا ہے، کامیابی کی کنجی صبر ہے، رزق اور علم میں زیادتی کی کنجی شکر ہے اور اللہ کی قربت کی کنجی محبت ہے“۔چونکہ رمضان ان تمام خوبیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، اس لیے یہ درحقیقت ہر خیر کی کنجی اور اللہ تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

بلند عزائم:

رمضان میں ہماری کیفیت کچھ اور ہی ہوتی ہے؛ ہم نیکیوں کی طرف لپکتے ہیں، صدقہ کرتے، قرآن کی تلاوت میں مشغول رہتے، دل مطمئن رہتے، سینے کھلے ہوتے اور دل اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ رمضان المبارک میں ہماری ہمتیں پہاڑوں کی چوٹیوں جیسی بلند ہوتی ہیں۔ مگر رمضان کے بعد ہمارا حال بدل جاتا ہے؟ اکثر لوگوں کا یہ جذبہ اور یہ ہمتیں ماند پڑجاتی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے بعد ہم میں سے اکثر لوگ کوتاہیوں کا محاسبہ نہیں کرتے، سستی کا شکار ہو کر دوبارہ غفلت، وقت کے ضیاع اور عبادتوں اور معاملات میں کوتاہی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کی قدر اس کی ہمت کے مطابق ہوتی ہے؛ جس کی ہمت بلند ہو، اس کا مقام بھی بلند ہوتا ہے۔

شاعر کے بقول

وإذا کانَتِ النّفُوسُ کِباراً      تَعِبَتْ فی مُرادِہا الأجْسامُ

(اگر ارادے بلند ہوں تو جسم بھی ان کے حصول میں تھکنے سے نہیں گھبراتا۔)

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے بلند ہمت وہ ہے جس کی لذت اللہ کی معرفت، اس کی محبت، اس سے ملاقات کی آرزو اور اس کی رضا کے حصول میں ہو۔ ایسا شخص اپنی تمام تر توجہ اللہ کی طرف لگا دیتا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی دلچسپی معمولی اور پست چیزوں تک محدود رہ جاتی ہے۔ (الفوائد)

حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کی بلند ہمت کو دیکھیے،جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:“مجھ سے مانگو”، تو انہوں نے دنیا کی کوئی چیز نہیں مانگی، بلکہ جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت طلب کرتے ہوئے کہا: مرافقتَکَ فی الجنۃ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اپنی ہمت کو کبھی کم نہ سمجھو، کیونکہ انسان کو سب سے زیادہ گرانے والی چیز اس کی پست ہمت ہے۔ اس لیے رمضان کے بعد عبادتوں اور حسن معاملات میں اپنی ہمت کو بلند رکھیں، اسے معمولی اور گھٹیا چیزوں میں ضائع نہ کریں، ورنہ انسان سستی، کمزوری اور ناکامی کا شکار ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری ہمتوں کو بلند کرے، اخلاص اور استقامت عطا فرمائے، اور ہمارے اعمال کو قبول فرما کر ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔

 

 

جمعہ، 6 مارچ، 2026

از -  ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

رمضان کے عشرۂ اخیرہ کی قلبی عبادتیں

رمضان المبارک کا آخری عشرہ عبادت کی معراج، دعا کی قبولیت کا موسم، اور قربِ الٰہی کی سب سے تابناک ساعتوں کا مجموعہ ہے۔ یہ وہ افضل ترین ایام ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ اپنی عبادت میں غیر معمولی اہتمام فرماتے تھے،  ان دنوں میں آپ ﷺ شب بیداری اختیار کرتے، اہلِ خانہ کو جگاتے، اور اپنے کمر بستہ ہو جانے سے بندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیتے۔ اس عشرے کی اصل روح صرف ظاہری عبادتوں میں کثرت نہیں ہے، بلکہ باطن کی بیداری، دل کی نرمی اور روح کی یکسوئی کے ذریعے اپنے رب کے سامنے جھک  جانا اس عشرے کی اصل روح ہے۔

روزہ جسم کو قابو میں لاتا ہے، رمضان کی راتوں کا قیام زبان کو قرآن سے آشنا کرتا ہے، اعتکاف انسان کو دنیا کے ہنگاموں سے الگ کرتا ہے؛ لیکن ان سب کا مقصود یہ ہے کہ دل اللہ کی طرف پلٹے۔ اسی لیے رمضان کے عشرۂ اخیرہ کو قلبی عبادتوں کا عشرہ کہنا بجا ہے۔ یہ وہ مبارک گھڑیاں ہیں جن میں بندہ (اخبات، ابتهال، تضرع، انکسار، تبتل، توسل، انابت اور قنوت) جیسی عظیم صفات سے اپنے باطن کو آراستہ کرتا ہے۔ یہ اوصاف عبادت کو رسم سے حقیقت میں، دعا کو الفاظ سے کیفیت میں اور بندگی کو عادت سے محبت میں بدل دیتے ہیں۔

اخبات:

قلبی عبادتوں میں سب سے پہلے اخبات آتا ہے۔ اخبات اس کیفیت کا نام ہے جس میں دل نرم ہو جائے، تکبر کی سختی ٹوٹ جائے، نفس کی سرکشی دب جائے، اور بندہ اللہ کے سامنے پُرسکون عاجزی کے ساتھ جھک جائے۔ قرآن کہتا ہے:

﴿وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَىٰ مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ (ترجمہ: عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے،انہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل تھرا جاتے ہیں۔ انہیں جو برائی پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں)

 یعنی (مخبت )وہ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز اٹھتے ہیں، جو آزمائش پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ گویا (اخبات )محض ایک داخلی احساس نہیں ہے، بلکہ ایک جامع کیفیت  کا نام ہے جس کے آثار صبر، نماز، انفاق اور خشیت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

رمضان کے آخری عشرے میں اخبات اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بندہ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے، اور محسوس کرتا ہے کہ اس کی نجات نہ اس کے عمل میں ہے نہ اس کے فخر میں، بلکہ اللہ کی رحمت میں ہے۔

ابتهال:

ابتهال دل کی گہرائی سے اٹھنے والی اس پرخلوص دعا اور مناجات کا نام ہے جس میں بندہ اپنے رب سے پوری رغبت، سوز اور سچی تڑپ کے ساتھ لپٹ جاتا ہے۔ (ابتہال) مانگنے کا رسمی انداز نہیں ہے، بلکہ دل کے بھر آنے، روح کے پگھلنے اور آنکھ کے نم ہو جانے کا نام ہے۔ رمضان کا آخری عشرہ، خصوصاً راتوں کے سناٹے، اسی ابتهال کے لیے سب سے موزوں وقت ہیں۔

شبِ قدر کی تلاش میں جاگنے والا مومن جب اپنے رب سے عرض کرتا ہے کہ میرے حال پر رحم فرما، میرے دل کو درست فرما، میرے گناہ بخش دے، میرے انجام کو سنوار دے، تو یہی ابتهال ہے۔ یہ دعا کی وہ صورت ہے جس میں الفاظ کم اور کیفیت زیادہ بولتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں قرآن کا لفظ(أوّاه)اسی رقت، دعا، آہ و زاری اور کثرتِ رجوع کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مفسرین نے اس کے معنی بہت دعا کرنے والا، بہت رحم دل، کثرت سے ذکر کرنے والا، اور رقتِ قلب رکھنے والا بیان کیے ہیں۔ ان سب کا حاصل یہی ہے کہ مومن کا دل جب اللہ کے حضور پگھل جائے تو وہ ابتهال کی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔

تضرع:

تضرع قلبی عبادتوں کا نہایت بلند مقام ہے۔ اس کے معنی ہیں اپنے آپ کو عاجز، محتاج، کمزور اور فقیر سمجھتے ہوئے اللہ کے سامنے جھک جانا اور گڑگڑا کر مانگنا۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:

﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ (ترجمہ: تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔)

اور ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے:

﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً﴾ (اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ )

یعنی اپنے رب کو عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کرو۔ رمضان کے آخری عشرے کی دعائیں اگر تضرع سے خالی ہوں تو وہ اپنے اصل ذوق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس عشرے کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان محض دعاؤں کی فہرست لے کر بیٹھ جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی بے بسی محسوس کرے، اپنے گناہوں پر نادم ہو، اور اپنے رب کے در پر سچی تڑپ کے ساتھ ہاتھ پھیلائے۔

حدیث میں آیا ہے کہ نماز میں بندہ خشوع، تضرع، مسکنت اور گریہ و زاری کا حال اختیار کرے، اپنے ہاتھ اٹھائے اور اپنے رب کو پکارے: یا رب، یا رب۔ یہی تضرع دعا کی جان ہے۔ ایک اور مقام پر قرآن انسان کی فطرت بیان کرتا ہے کہ جب وہ خشکی و تری کی تاریکیوں میں گھر جاتا ہے تو اللہ ہی کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارتا ہے۔ گویا تضرع وہ سچی پکار ہے جو خطرے کے وقت بے ساختہ زبان پر آتی ہے؛ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ امن کے دنوں میں بھی اسی عاجزی کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا رہے۔

انکسار:

انکسار قلبی عبادت کا وہ نازک اور عظیم مقام ہے جہاں بندہ اپنے نفس کے غرور سے باہر آتا ہے اور اللہ کے سامنے ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ ٹوٹنا محرومی نہیں، بلکہ حقیقت میں ملنا ہے؛ یہ شکست نہیں، بلکہ بندگی کی فتح ہے۔ رمضان کے عشرۂ اخیرہ میں جب انسان اعتکاف، تہجد، تلاوت اور ذکر کے ذریعے دنیا سے کٹتا ہے تو اسے اپنی حقیقت زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنا کمزور ہے، اس کی نیکی کتنی ناقص ہے، اس کی نیتیں کتنی آلودہ ہیں، اور اس کی امید کس قدر صرف اللہ کی رحمت پر موقوف ہے۔

انکسار ہی وہ کیفیت ہے جو سجدے کو روح عطا کرتی ہے، دعا میں اثر پیدا کرتی ہے، اور آنسو کو قیمتی بناتی ہے۔ جب تک دل میں اپنے عمل کا گھمنڈ، عبادت کا غرور، یا اپنے حال پر ناز باقی ہے، تب تک بندہ قلبی عبادت کے دروازے پر ہوتا ہے، اندر نہیں پہنچ پاتا۔ عشرۂ اخیرہ کا اصل پیغام یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے جھکے، ٹوٹے، روئے، اور پھر اسی ٹوٹن میں نئی زندگی پائے۔

تبتل:

تبتل اس یکسو ئی اور کٹنے کا نام ہے جس میں بندہ دنیا کی الجھنوں، نفسانی خواہشات اور غیر اللہ کی طرف میلان سے دل ہٹا کر محض اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

﴿وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا﴾ (ترجمہ: تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا)

اور فرمایا:

﴿وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ﴾ (ترجمہ: اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا)

تبتل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا کو چھوڑ کر رہبانیت اختیار کر لے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا دل دنیا کی غلامی سے نکل کر اللہ کی بندگی میں داخل ہو جائے۔ وہ کام دنیا کے کرے، مگر دل اللہ کے لیے رکھے؛ وہ لوگوں کے درمیان رہے، مگر دل کا رخ اپنے رب کی طرف رکھے؛ وہ اسباب اختیار کرے، مگر اعتماد اللہ پر رکھے۔

رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف تبتل کی ایک عملی صورت ہے۔ انسان خود کو مصروفیات سے الگ کرتا ہے، خلوت اختیار کرتا ہے، اور اپنے دل کو بار بار اللہ کی طرف جمع کرتا ہے۔ یہی تبتل دراصل شبِ قدر کے استقبال کی داخلی تیاری ہے۔ جس دل میں تبتل کی یکسوئی نہ ہو، وہ ان مبارک راتوں کی روح کہاں سے پائے گا؟

توسل:

توسل یہ ہے کہ بندہ اللہ کے حضور اپنی دعا کو قربت کے ایسے اسباب کے ساتھ پیش کرے جو اس کے قبول ہونے کے لائق ہوں۔ سب سے بڑا وسیلہ خود اللہ کی ذات ، اس کے اسماء و صفات، اپنی عاجزی، اپنا فقر، اپنی توبہ، اور اپنے صالح اعمال ہیں۔ رمضان کے آخری عشرے میں بندہ جب کہتا ہے: اے اللہ! تو غفور ہے، مجھے بخش دے؛ تو رحیم ہے، مجھ پر رحم فرما؛ تو کریم ہے، مجھے محروم نہ کر؛ تو مجھے اس رمضان میں روزہ، قیام، تلاوت اور اعتکاف کی توفیق دے چکا ہے، ان اعمال کے صدقے مجھ پر مزید فضل فرما  تو یہ سب توسل کی صورتیں ہیں۔

توسل دل کو دعا میں ادب سکھاتا ہے۔ اس سے بندہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ محض مطالبات کی فہرست پیش کرنے نہیں آیا، بلکہ اپنے رب کی بارگاہ میں عاجز بن کر، اس کی رحمت کے سہارے، اس کے فضل کے وسیلے سے حاضر ہوا ہے۔ عشرۂ اخیرہ میں توسل کی بہترین شکل یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرے، اپنے اعمال کی قلت کا اقرار کرے، اور اللہ کی صفاتِ رحمت کو اپنی دعا کا سہارا بنائے۔

انابت:

انابت کا معنی ہے: محبت، خضوع اور رغبت کے ساتھ بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن میں ارشاد ہے:

﴿وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ﴾

(ترجمہ: تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ  )

اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ﴾

(ترجمہ: جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو)

منیب وہ ہے جو ہر حال میں اپنے رب کی طرف پلٹتا رہے۔ اس سے غلطی ہو تو توبہ کے ساتھ پلٹتا ہے، نعمت ملے تو شکر کے ساتھ پلٹتا ہے، آزمائش آئے تو صبر کے ساتھ پلٹتا ہے، دل میں غفلت آئے تو ذکر کے ساتھ پلٹتا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا:

﴿فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ﴾  (ترجمہ: پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا

اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں:

 ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ (ترجمہ: جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے وا تھا)

رمضان کے آخری عشرے کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ انسان اپنے رب کی طرف سچا رجوع حاصل کر لے۔ وہ یہ طے کرے کہ اب میری زندگی کی سمت بدلنی ہے، میری ترجیحات بدلنی ہیں، میرے تعلقات کا مرکز بدلنا ہے، میری غفلت کو بیداری میں اور میری بے سمتی کو رجوع میں بدلنا ہے۔ یہی انابت ہے، اور یہی آخری عشرے کی اصل سوغات ہے۔

قنوت:

اگرچہ قنوت کا ذکر بعض اہلِ علم قلبی و عملی دونوں عبادتوں میں کرتے ہیں، مگر رمضان کے عشرۂ اخیرہ میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ قنوت کا مطلب ہے اللہ کی اطاعت کے ساتھ اس کے حضور ادب و خشوع سے کھڑا ہونا۔ قرآن فرماتا ہے:

﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾

(ترجمہ: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو)

اور رات کے عبادت گزار کے متعلق فرمایا:

﴿أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ﴾

(ترجمہ: بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو)

قنوت میں رکوع بھی ہے، خشوع بھی، نگاہ کی پستی بھی، دل کا خوف بھی، اور طویل قیام بھی۔ حدیث میں آیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: طُولُ القُنُوتِ۔ رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں جب بندہ لمبے قیام میں قرآن سنتا یا پڑھتا ہے، آنکھیں جھکی ہوتی ہیں، دل نرم ہوتا ہے، اور آخرت کا خوف و رحمت کی امید ساتھ ساتھ ہوتی ہے، تو یہی قنوت کی کامل تصویر ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام: قلبی عبادتوں کا روشن نمونہ:

 قرآن نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے فرمایا:

﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ﴾ 

(ترجمہ: یقیناً ابراہیم بہت تحمل والے نرم دل اور اللہ کی جانب جھکنے والے تھے)

اور ایک مقام پر:

﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا﴾

(ترجمہ: بےشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔)

یہ دو آیات دراصل قلبی عبادتوں کی پوری تصویر اپنے اندر رکھتی ہیں۔ وہ قانت تھے، یعنی اللہ کے مطیع و فرمانبردار؛ وہ منیب تھے، یعنی بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنے والے؛ وہ أوّاه تھے، یعنی دعا، رقت، ذکر، درد اور تضرع والے۔ ان کے اندر حلم بھی تھا، خشوع بھی، دعا بھی، اور استقامت بھی۔ رمضان کے آخری عشرے میں ایک مومن کے لیے یہی نمونہ مطلوب ہے کہ وہ عبادت کو محض ظاہر تک محدود نہ رکھے، بلکہ دل کو بھی اللہ کا بنا دے۔

رمضان کے آخری عشرے میں کثرتِ تلاوت، نوافل، ذکر، دعا اور اعتکاف سب اپنی جگہ نہایت اہم ہیں؛ لیکن ان سب کا حاصل تبھی ہے جب دل میں اخبات ہو، دعا میں ابتهال ہو، مناجات میں تضرع ہو، باطن میں انکسار ہو، رجوع میں انابت ہو، تعلق میں تبتل ہو، اور قیام میں قنوت ہو۔ یہ وہ قلبی عبادتیں ہیں   ، جن کی طرف بہت کم لوگ توجہ دیتےہیں۔ 

 

ازقلم: ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی


تجري من تحتهم الأنهار

رمضان المبارک میں مساجد کی فضا قرآنِ کریم کی تلاوت سے معطر ہو جاتی ہے۔ حفاظِ کرام سمیت عشاق قرآن؛ بڑی محنت اور اخلاص کے ساتھ قرآن کا ایک نہیں بلکہ کئی کئی مرتبہ دور مکمل کر لیتے ہیں۔ یہ یقیناً ایک بڑی سعادت ہے۔ تاہم کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلسل تلاوت کے باوجود قرآن کے بعض لطیف اور باریک نکات ہماری توجہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔

قرآنِ کریم کے بیان میں ایک نہایت دل چسپ مثال جنت کے ذکر میں استعمال ہونے والی تعبیرات کی ہے۔ کہیں فرمایا گیا: “تجري من تحتها الأنهار”، کہیں “تجري من تحتهم الأنهار” اور ایک مقام پر “تجري تحتها الأنهار”۔ بظاہر یہ معمولی سا فرق محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت قرآن کے اعجازِ بیان کی ایک خوبصورت جھلک ہے۔

قرآنِ کریم میں “جَنّٰتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ” کی تعبیر سب سے زیادہ استعمال ہوئی ہے۔ یہ الفاظ پورے قرآن میں تیس مرتبہ آئے ہیں، اور درج ذیل سورتوں میں وارد ہوئے ہیں:

(البقرہ: 25 / آل عمران: 15، 136، 195، 198 / النساء: 13، 57، 122 / المائدہ: 12، 85، 119 / التوبہ: 72، 89 / ابراہیم: 23 / النحل: 31 / طہ: 76 / الحج: 14، 23 / الفرقان: 10 / محمد: 12 / الفتح: 5، 17 / الحدید: 12 / المجادلہ: 22 / الصف: 12 / التغابن: 9 / الطلاق: 11 / التحریم: 8 / البروج: 11 / البینہ: 8)

اسی طرح ایک اور تعبیر “تجري من تحتهم الأنهار” بھی قرآن میں آئی ہے، مگر یہ صرف دو مرتبہ ذکر ہوئی ہے:

      سورۃ یونس: آیت 9

      سورۃ الکہف: آیت 31

جبکہ ایک تیسری تعبیر “تجري تحتها الأنهار” پورے قرآن میں صرف ایک ہی مرتبہ آئی ہے، اور وہ ہے:

      سورۃ التوبہ (براءۃ): آیت 100

یہ معمولی سا فرق دراصل قرآن کے اسلوبِ بیان کی گہرائی اور معنوی لطافت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک لفظ کا اضافہ یا کمی بھی معنی کے دائرے میں ایک نئی جہت پیدا کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ غور و فکر اور تدبر کی بھی دعوت دیتا ہے۔

اس لیے جب ہم رمضان یا غیر رمضان میں قرآن پڑھیں یا سنیں تو صرف ختمِ قرآن ہی مقصد نہ ہو، بلکہ اس کے الفاظ، اسلوب اور معانی پر بھی نظر ڈالیں۔ تب ہمیں احساس ہوگا کہ قرآن کا ہر لفظ اپنے اندر علم، حکمت اور بلاغت کا ایک سمندر سموئے ہوئے ہے۔

 

اللهم انا نسألك الجنة ونعيمها واجعل القرآن الكريم ربيع قلوبنا ونور صدورنا وجلاء أحزاننا واجعله لنا حجة ولا تجعله حجة علينا اللهم اجعلنا ممن يقرؤه فيرقى ولا تجعلنا ممن يقرؤه فيزل ويشقى اللهم ارزقنا بكل حرف من القرآن حلاوة وبكل كلمة كرامة وبكل أية سعادة وبكل سورة سلامة وبكل جزء جزاءا

جمعہ، 20 فروری، 2026

takbirat inteqaal

 

تکبیراتِ انتقال سے مراد وہ تکبیریں ہیں جو نماز میں ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف جاتے ہوئے کہی جاتی ہیں۔ جب نمازی قیام سے رکوع، رکوع سے قومہ، قومہ سے سجدہ یا سجدے سے جلسہ وغیرہ کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اس تبدیلی کے دوران “اللہ اکبر” کہنا سنت ہے۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جانا شروع کرے، اسی وقت تکبیر شروع کرے اور جب نئی حالت میں مکمل طور پر پہنچ جائے تو تکبیر ختم ہو جائے۔ یعنی تکبیر دونوں ارکان کے درمیان منتقلی کے وقت ادا کی جائے۔ مثال کے طور پر جب رکوع کے لیے جھکنا شروع کرے تو “اللہ اکبر” کہنا شروع کرے اور جب مکمل رکوع میں پہنچ جائے تو تکبیر ختم ہو جائے۔ رکوع میں پہنچ جانے کے بعد تکبیر کہنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے۔

 

اس بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں نمازِ نبوی کا طریقہ بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ

(رواہ البخاری: 789، مسلم: 392)

 

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر جب رکوع سے کمر سیدھی کرتے تو فرماتے: “سمع اللہ لمن حمدہ”، پھر کھڑے ہو کر کہتے: “ربنا لک الحمد”، پھر سجدہ میں جاتے وقت تکبیر کہتے، پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، پھر سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، اور پوری نماز میں اسی طرح کرتے رہتے یہاں تک کہ نماز مکمل ہو جاتی، اور دو رکعت کے بعد (تشہد سے اٹھتے وقت) بھی تکبیر کہتے۔

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رکوع کی تکبیر رکوع کی طرف جھکتے ہوئے، سجدے کی تکبیر سجدے میں جاتے ہوئے، اور سجدے سے اٹھنے کی تکبیر اٹھتے ہوئے کہی جاتی تھی۔ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ یہی جمہور علماء کا مسلک ہے۔

بعض فقہاء نے تو اس مسئلے میں بہت سختی اختیار کی ہے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص کھڑے کھڑے تکبیر شروع کر دے اور رکوع میں پہنچنے کے بعد اسے مکمل کرے، یا رکوع میں پہنچ کر تکبیر کہنا شروع کرے، تو یہ درست نہیں، کیونکہ تکبیر اپنی مقررہ جگہ پر ادا نہیں ہوئی۔ ان کے نزدیک اگر تکبیر واجب ہو اور کسی نے جان بوجھ کر اس میں غلطی کی تو نماز باطل ہو سکتی ہے، اور اگر بھول کر ایسا ہوا تو سجدۂ سہو لازم آئے گا۔ تاہم زیادہ مضبوط اور راجح قول یہ ہے کہ معمولی تقدیم و تاخیر معاف ہے تاکہ لوگوں پر مشقت نہ ہو۔

 آج کل بعض ائمہ نے یہ عادت بنادی ہے کہ وہ رکوع میں پہنچنے کے بعد تکبیر کہتے ہیں تاکہ مقتدی ان سے پہلے رکوع میں نہ چلے جائیں۔ یہ سوچ درست نہیں، کیونکہ امام کا کام سنت کے مطابق نماز ادا کرنا ہے، اور مقتدی کو حکم ہے کہ وہ امام کی پیروی کرے، اس سے سبقت نہ لے۔ اپنی عبادت کو سنت کے خلاف کرنا دوسروں کی اصلاح کا درست طریقہ نہیں ہے۔

 خلاصہ یہ ہے کہ تکبیراتِ انتقال کا سنت طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہوتے وقت ادا کی جائیں اور حرکت کے دوران دوسرے رکن میں داخل ہونے سے پہلے ہی مکمل ہو جائیں۔ اگر معمولی آگے پیچھے ہو جائے تو گنجائش ہے، لیکن جان بوجھ کر اگلے رکن میں پہنچنے کے بعد تکبیر کہنا درست نہیں۔ یہی طریقہ “سمع اللہ لمن حمدہ” اور دیگر تکبیراتِ انتقال میں بھی اختیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کو سنتِ نبوی کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

مزید دیکھیں 👇🏼:

1-                             https://www.banuri.edu.pk/readquestion/takbeerat-e-entiqal-ka-tareeqa-or-waqt-144210200401/24-05-2021

2-                             https://darulifta-deoband.com/home/ur/salah-prayer/57637

3-                             الإسلام سؤال وجواب

 

 

 

 

 

پیر، 16 فروری، 2026

از- ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی 

عربی شاعری میں ماہِ مبارک کی بازگشت 

 

 

عرب شعرا نے ہلالِ رمضان کے پُرمسرت استقبال میں بے شمار قصائد اور نظمیں رقم کی ہیں، اور اس ماہِ مبارک کی آمد کو خیر کی علامت، سعادت کی بشارت اور برکت کا پیام قرار دیا ہے۔ چنانچہ جب ماہِ رمضانِ کریم کا ہلال افق پر نمودار ہوتا ہے تو گویا پوری کائنات اس کی آمد سے مسرّت و شادمانی سے جگمگا اٹھتی ہے۔ دلوں کے زنگ اُترنے لگتے ہیں، مومنین کے نفوس پاکیزہ ہو جاتے ہیں، اور رحمتِ ربّانی کی وہ عام فضا قائم ہو جاتی ہے جو عالمِ وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ اس روح پرور کیفیت میں دل اپنے خالق و پروردگارعزّوجل کے حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیتے ہیں، اور یوں باطن میں ایک لطیف اطمینان اور حقیقی رضا کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ انہی مفاہیم اور خوشی و مسرّت کے جذبات کو عرب شعرا نے اپنے کلام میں نہایت حسین انداز میں بیان کیا ہے۔ذیل میں ہم نے رمضان المبارک سے متعلق بعض  عرب شعرا کے کلام کے منتخب اشعار کو مع اردو ترجمہ شامل کیا ہے۔

محمد الاخضر:

محمد الاخضر سائحی کا شمار الجزائر کے ممتاز کلاسیکی شعرا اور ادبا میں ہوتا ہے۔  ہلال رمضان کا خیر مقدم کرتے ہوئے  وہ کہتے ہیں:

امْلأِ   الدُّنْيَا    شُعَاعًا        أَيُّهَا   النُّورُ    الحَبِيبْ

 

اے نورِ دل نواز!
اپنی کرنوں سے ساری دنیا کو جگمگا دے

اسْكُبِ  الأَنْوَارَ  فِيهَا        مِنْ    بَعِيدٍ    وَقَرِيبْ

قریب و بعید ہر سمت اپنے اجالے انڈیل دے۔


ذَكِّرِ   النَّاسَ   عُهُودًا        هِيَ مِنْ  خَيْرِ  العُهُودْ

لوگوں کو وہ عہد یاد دلا دو
جو عہدوں میں سب سے بہتر تھے


يَوْمَ كَانَ الصَّوْمُ مَعْنًى        لِلتَّسَامِي     وَالصُّعُودْ

جب روزہ محض بھوک کا نام نہ تھا
بلکہ بلندی، پاکیزگی اور روحانی عروج کا استعارہ تھا۔


يَنْشُرُ الرَّحْمَةَ فِي الأَرْ              ضِ عَلَى هَذَا الوُجُودْ

یہ وہ مہینہ ہے، جو اس پوری کائنات پررحمت کی چادر پھیلا دیتا ہے

اندلسی شاعر ابن الصباح الجذامی ماہ رمضان کی آمد پر یوں مسرت وخوشی کا اظہار کرتا ہے:

هَذَا هِلالُ الصَّوْمِ مِنْ رَمَضَانِ        بِالأُفْقِ بَانَ  فَلا  تَكُنْ  بِالوَانِي

یہ دیکھو! رمضان کے روزوں کا ہلال افق پر نمودار ہو چکا ہے،پس  اب سستی اور کاہلی  کو دل کے دروازے پر ہی روک دو۔

وَافَاكَ  ضَيْفًا  فَالتَزِمْ   تَعْظِيمَهُ        وَاجْعَلْ  قِرَاهُ   قِرَاءَةَ   القُرْآنِ

یہ مہینہ تمہارے پاس ایک معزز مہمان بن کر آیا ہے، لہٰذا اس کی تعظیم کو لازم پکڑو  اور قرآن کی تلاوت سے اس کی ضیافت کا حق ادا کرو۔

صُمْهُ   وَصُنْهُ   وَاغْتَنِمْ    أَيَّامَهُ        وَاجْبُرْ ذِمَا الضُّعَفَاءِ بِالإِحْسَانِ

اس کے روزے رکھو،اس کی حرمت کی حفاظت کرو،اس کے دنوں کو غنیمت جانو،اور اپنی نیکی سے اس ماہ مبارک میں کمزوروں کے ٹوٹے دل جوڑ دو۔

عبدالمنعم عبدالله :

عبدالمنعم عبدالله کی نظم أنا صائم  (میں روزہ دار ہوں) مجلہ منارالاسلام (1417ھ) میں شائع ہوئی، وہ اپنی نظم میں ماہ رمضان کو خیر، برکت اور ہدایت کے روشن استعارے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

نُورٌ يُطِلُّ عَلَى الوُجُودِ وَيُشْرِقُ        كَمْ  بَاتَتِ  الدُّنْيَا  لَهُ   تَتَشَوَّقُ

ایک نور ہے،جو کائنات پر جھک آتا ہے،اور ہر سمت اجالا بکھیر دیتا ہے،،دنیا کب سے اس کے استقبال میں
اشتیاق کے دیے جلائے بیٹھی تھی۔

تَرْنُو   لِمَطْلَعِهِ   لِتَشْهَدَ   بَدْرَهُ        (رَمَضَانُ)   إِنَّ   هِلالَهُ   يَتَأَلَّقُ

نگاہیں اس کے مطلع کی طرف اٹھی ہوئی ہیں، تاکہ اس کے بدر کا دیدار کریں، ماہ رمضانَ ۔۔۔ کہ اس کا ہلال چمکتا ہوا امید بن کر ابھرتا ہے۔

عِطْرُ الهُدَى  مِنْهُ  يَفُوحُ  فَهَذِهِ        أَنْسَامُهُ  فِي   كُلِّ   وَادٍ   تَعْبَقُ

ہدایت کی خوشبو، اسی سے پھوٹتی ہے،اس کی نرم ہوائیں ہر وادی میں مہک بکھیر دیتی ہیں۔

كُلُّ   الحَيَاةِ   حَفِيَّةٌ    بِقُدُومِهِ        وَالخَيْرُ فِيهِ عَلَى  الوَرَى  يَتَدَفَّقُ

ہر زندگی، اس کی آمد پر شاداں و فرحاں ہے،اور خیر و برکت اسی کے دامن سے
تمام مخلوق پرموج در موج بہتی چلی جاتی ہے۔

عبدالقدوس الأنصاری:

مدنی شاعر عبدالقدوس الأنصاری ماہِ رمضان کا استقبال کرتے ہوئے والہانہ انداز میں یوں گویا ہوتے ہیں:

تَبَدَّيْتَ   لِلنَّفْسِ    لُقْمَانَهَا        لِذَاكَ    تَبَنَّتْكَ    وُجْدَانَهَا

اے ماہ مبارک! تو نفس کے لیے اس کی مطلوبہ غذا بن کر جلوہ گر ہوا، اسی لیے دل و وجدان نے تجھے اپنا لیا۔

وَتَنْثُرُ  بَيْنَ  يَدَيْكَ   الزُّهْورَ        تُحَيِّيكَ إِذْ كُنْتَ  رَيْحَانَهَا

روح تیرے قدموں میں خوشبو دار پھول نچھاور کرتی ہے، کہ تو اس کے لیے ریحان، راحت اور زندگی کی مہک ہے۔

فَأَنْتَ  رَبِيعُ  الحَيَاةِ  البَهِيجُ        تُنَضِّرُ   بِالصَّفْوِ    أَوْطَانَهَا

تو زندگی کی مسرّت بھری بہار ہے، جو صفا اور پاکیزگی سے دلوں کے وطن کو شاداب کر دیتی ہے۔

وَأَنْتَ بَشِيرُ القُلُوبِ  الَّذِي        يُعَرِّفُهَا    اللهُ     رَحْمَانَهَا

اور تو ہی دلوں کے لیے خوش خبری بن کر آتا ہے،انہیں ان کے ربِ رحمان سے پھر سے روشناس کرا دیتا ہے۔

فَأَهْلاً وَسَهْلاً بِشَهْرِ الصِّيَامِ        يَسُلُّ  مِنَ  النَّفْسِ  أَضْغَانَهَا

خوش آمدید! اے ماہِ صیام، جو نفس کی گہرائیوں سے کینہ، میل اور عداوت کھینچ کر باہر نکال دیتا ہے۔

محمد ابراہیم جدع:

 محمد ابراہیم جدع بیسویں صدی کے ممتاز سعودی شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنے معروف مجموعے الالیاذہ الاسلامیہ الجدیدہ میں سیرتِ نبویؐ کے درخشاں پہلوؤں کو والہانہ عقیدت کے ساتھ نظم کیا۔ تقریباً پانچ شعری مجموعے ان کے نام سے منسوب ہیں۔ محمد ابراہیم جدع کی شاعری فکری سنجیدگی، ایمانی حرارت اور فنی استحکام کا حسین امتزاج ہے۔

وہ اپنے شعری کلام میں ماہ رمضان المبارک کا کچھ یوں پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں:

رَمَضَانُ  يَا  خَيْرَ   الشُّهُو        رِ وَخَيْرَ بُشْرَى فِي الزَّمَانْ
وَمَطَالِعُ    الإِسْعَادِ     تَرْ        فُلُ  فِي  لَيَالِيكَ   الحِسَانْ

اے رمضان! اے تمام مہینوں میں سب سے بہتر، اور زمانے کی سب سے بڑی بشارت! تیری حسین راتوں میں خوش بختی کے سحر ، وقار کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

وَمَحَافِلُ  الغُفْرَانِ   وَالتْ         تَقْوَى  تَفِيضُ   بِكُلِّ   آنْ
وَمَجَالِسُ   القُرْآنِ   وَالذْ         ذِكْرِ  الجِلِيلِ  أَجَلُّ   شَانْ

تیری مبارک شبوں میں  بخشش اور تقویٰ کی محفلیں ہر آن لبریز رہتی ہیں، اور رحمت کا دریا مسلسل بہتا چلا جاتا ہے۔ تیری راتوں کی  قرآن کی مجلسیں  ، اور جلیل القدر ذکر کی نشستیں، جن کی شان و عظمت سب سے بلند اور سب سے ارفع ہے۔

محمد حسن فقی:

محمد حسن فقی جدید سعودی ادب کی ایک درخشاں اور ہمہ جہت شخصیت تھے۔ مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور علم و ادب کی فضا میں آنکھ کھولی۔ ساداتِ اشراف سے تعلق رکھتے تھے، جس کی جھلک ان کی تحریروں میں شرافت اور فکری سنجیدگی کی صورت میں نمایاں ہے۔ان کی تصانیف اور شعری مجموعے زندگی، انسان اور معاشرے پر سنجیدہ غور و فکر کا آئینہ ہیں، اور یہی خصوصیت انہیں اپنے عہد کے ممتاز اہلِ قلم میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔

محمد حسن فقی ماہِ رمضان کا استقبال خوشی، سرور اور روحانی سرمستی کے ساتھ کچھ یوں کرتے ہیں:

رَمَضَانُ فِي قَلْبِي هَمَاهِمُ نَشْوَةٍ        مِنْ قَبْلِ رُؤْيَةِ  وَجْهِكَ  الوَضَّاءِ
وَعَلَى  فَمِي  طَعْمٌ  أُحِسُّ  بِأَنَّهُ        مِنْ طَعْمِ  تِلْكَ  الجَنَّةِ  الخَضْرَاءِ

رمضان! تیرے روشن چہرے کی رؤیت سے پہلے ہی میرے دل میں سرمستی کی سرگوشیاں مچلنے لگتی ہیں۔ میرے لبوں پر ایک ایسا ذائقہ اتر آتا ہے ،جو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ  سبز و شاداب جنت کے ذائقوں میں سے ہو۔

مَا ذُقْتُ قَطُّ وَلا شَعُرْتُ  بِمِثْلِهِ     أَفَلا أَكُونُ  بِهِ  مِنَ  السُّعَداءِ؟!

نہ کبھی میں نے ایسا مزہ چکھا، نہ ایسی کیفیت کو محسوس کیا، تو پھر کیوں نہ میں اس نعمت پر سعادت مندوں میں شمار ہوں؟

وَتَطَلَّعَتْ نَحْوَ  السَّمَاءِ  نَوَاظِرٌ         لِهِلالِ   شَهْرِ   نَضَارَةٍ   وَرُوَاءِ

نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں ۔ اس مہینے کے ہلال کے شوق میں جو تازگی اور آب و تاب کا پیامبر ہے۔

قَالُوا   بِأَنَّكَ   قَادِمٌ    فَتَهَلَّلَتْ      بِالبِشْرِ     أَوْجُهُنَا     وَبِالخُيَلاءِ

اے ہلال رمضان! کہا گیا کہ تم آنے والے ہو،تو خوش خبری نے ہمارے چہروں کو کھلا دیا اور دل فخر و مسرت سے بھر گئے۔

رَمَضَانُ مَا أَدْرِي وَنُورُكَ غَامِرٌ         قَلْبِي فَصُبْحِي  مشْرِقٌ  وَمَسَاءِ

اے ماہ مبارک ماہ رمضان! میں نہیں جانتا ، لیکن تیرا نور میرے دل کو اس طرح گھیر لیتا ہے کہ میری صبح بھی روشن ہےاور میری شام بھی جگمگاتی رہتی ہے۔

تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافتِ کے دوسرے برس پہلی مرتبہ نمازیوں کو ایک امام کی اقتدا میں نمازِ تراویح کے لیے جمع فرمایا۔ تو اس موقع پر ایک شاعر نے یوں کہا:

جَاءَ الصِّيَامُ  فَجَاءَ  الخَيْرُ  أَجْمَعُهُ         تَرْتِيلُ   ذِكْرٍ   وَتَحْمِيدٌ   وَتَسْبِيحُ
فَالنَّفْسُ تَدْأَبُ فِي قَوْلٍ وَفِي عَمَلٍ         صَوْمُ   النَّهَارِ   وَبِالليْلِ   التَّرَاوِيحُ

روزہ آیا تو خیر و برکت بھی ہمراہ لے آیا، ذکر وتلاوت کی خوش نوائی، حمد و ثنا اور تسبیح کی روشنی پھیل گئی۔یوں نفس قول و عمل دونوں میں سرگرمِ سعی رہتا ہے،
دن کو روزے کے ذریعے عبادت، اور رات کو تراویح  کے ذریعے بندگی۔

اور عبدالملک الخدیدی  ماہ رمضان المبارک کی قدر دانی کی نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

يَابَاغَيَ الخَيْرِ هَذَا شَهْـرُ مَكْرُمَـةٍ        أقْبِلْ بِصِـدْقٍ جَـزَاكَ اللهُ إحْسَانَـا
أقْبِـلْ بجُـودٍ وَلاَ تَبْخَـلْ بِنَافِلـةٍ         واجْعَلْ جَبِينَكَ بِالسَّجْـدَاتِ عِنْوَانَـا

اے خیر کے طالب! یہ عزت و اکرام کا مہینہ ہے، صدق دل کے ساتھ آگے بڑھ، اللہ تجھے اس کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔ دریادلی اور سخاوت سے قدم بڑھا، نفل عبادتوں میں بخل نہ کر،اور اپنی پیشانی کو سجدوں کا عنوان بنا دے۔

 

 

 


فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...