پیر، 16 فروری، 2026

از- ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی 

عربی شاعری میں ماہِ مبارک کی بازگشت 

 

 

عرب شعرا نے ہلالِ رمضان کے پُرمسرت استقبال میں بے شمار قصائد اور نظمیں رقم کی ہیں، اور اس ماہِ مبارک کی آمد کو خیر کی علامت، سعادت کی بشارت اور برکت کا پیام قرار دیا ہے۔ چنانچہ جب ماہِ رمضانِ کریم کا ہلال افق پر نمودار ہوتا ہے تو گویا پوری کائنات اس کی آمد سے مسرّت و شادمانی سے جگمگا اٹھتی ہے۔ دلوں کے زنگ اُترنے لگتے ہیں، مومنین کے نفوس پاکیزہ ہو جاتے ہیں، اور رحمتِ ربّانی کی وہ عام فضا قائم ہو جاتی ہے جو عالمِ وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ اس روح پرور کیفیت میں دل اپنے خالق و پروردگارعزّوجل کے حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیتے ہیں، اور یوں باطن میں ایک لطیف اطمینان اور حقیقی رضا کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ انہی مفاہیم اور خوشی و مسرّت کے جذبات کو عرب شعرا نے اپنے کلام میں نہایت حسین انداز میں بیان کیا ہے۔ذیل میں ہم نے رمضان المبارک سے متعلق بعض  عرب شعرا کے کلام کے منتخب اشعار کو مع اردو ترجمہ شامل کیا ہے۔

محمد الاخضر:

محمد الاخضر سائحی کا شمار الجزائر کے ممتاز کلاسیکی شعرا اور ادبا میں ہوتا ہے۔  ہلال رمضان کا خیر مقدم کرتے ہوئے  وہ کہتے ہیں:

امْلأِ   الدُّنْيَا    شُعَاعًا        أَيُّهَا   النُّورُ    الحَبِيبْ

 

اے نورِ دل نواز!
اپنی کرنوں سے ساری دنیا کو جگمگا دے

اسْكُبِ  الأَنْوَارَ  فِيهَا        مِنْ    بَعِيدٍ    وَقَرِيبْ

قریب و بعید ہر سمت اپنے اجالے انڈیل دے۔


ذَكِّرِ   النَّاسَ   عُهُودًا        هِيَ مِنْ  خَيْرِ  العُهُودْ

لوگوں کو وہ عہد یاد دلا دو
جو عہدوں میں سب سے بہتر تھے


يَوْمَ كَانَ الصَّوْمُ مَعْنًى        لِلتَّسَامِي     وَالصُّعُودْ

جب روزہ محض بھوک کا نام نہ تھا
بلکہ بلندی، پاکیزگی اور روحانی عروج کا استعارہ تھا۔


يَنْشُرُ الرَّحْمَةَ فِي الأَرْ              ضِ عَلَى هَذَا الوُجُودْ

یہ وہ مہینہ ہے، جو اس پوری کائنات پررحمت کی چادر پھیلا دیتا ہے

اندلسی شاعر ابن الصباح الجذامی ماہ رمضان کی آمد پر یوں مسرت وخوشی کا اظہار کرتا ہے:

هَذَا هِلالُ الصَّوْمِ مِنْ رَمَضَانِ        بِالأُفْقِ بَانَ  فَلا  تَكُنْ  بِالوَانِي

یہ دیکھو! رمضان کے روزوں کا ہلال افق پر نمودار ہو چکا ہے،پس  اب سستی اور کاہلی  کو دل کے دروازے پر ہی روک دو۔

وَافَاكَ  ضَيْفًا  فَالتَزِمْ   تَعْظِيمَهُ        وَاجْعَلْ  قِرَاهُ   قِرَاءَةَ   القُرْآنِ

یہ مہینہ تمہارے پاس ایک معزز مہمان بن کر آیا ہے، لہٰذا اس کی تعظیم کو لازم پکڑو  اور قرآن کی تلاوت سے اس کی ضیافت کا حق ادا کرو۔

صُمْهُ   وَصُنْهُ   وَاغْتَنِمْ    أَيَّامَهُ        وَاجْبُرْ ذِمَا الضُّعَفَاءِ بِالإِحْسَانِ

اس کے روزے رکھو،اس کی حرمت کی حفاظت کرو،اس کے دنوں کو غنیمت جانو،اور اپنی نیکی سے اس ماہ مبارک میں کمزوروں کے ٹوٹے دل جوڑ دو۔

عبدالمنعم عبدالله :

عبدالمنعم عبدالله کی نظم أنا صائم  (میں روزہ دار ہوں) مجلہ منارالاسلام (1417ھ) میں شائع ہوئی، وہ اپنی نظم میں ماہ رمضان کو خیر، برکت اور ہدایت کے روشن استعارے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

نُورٌ يُطِلُّ عَلَى الوُجُودِ وَيُشْرِقُ        كَمْ  بَاتَتِ  الدُّنْيَا  لَهُ   تَتَشَوَّقُ

ایک نور ہے،جو کائنات پر جھک آتا ہے،اور ہر سمت اجالا بکھیر دیتا ہے،،دنیا کب سے اس کے استقبال میں
اشتیاق کے دیے جلائے بیٹھی تھی۔

تَرْنُو   لِمَطْلَعِهِ   لِتَشْهَدَ   بَدْرَهُ        (رَمَضَانُ)   إِنَّ   هِلالَهُ   يَتَأَلَّقُ

نگاہیں اس کے مطلع کی طرف اٹھی ہوئی ہیں، تاکہ اس کے بدر کا دیدار کریں، ماہ رمضانَ ۔۔۔ کہ اس کا ہلال چمکتا ہوا امید بن کر ابھرتا ہے۔

عِطْرُ الهُدَى  مِنْهُ  يَفُوحُ  فَهَذِهِ        أَنْسَامُهُ  فِي   كُلِّ   وَادٍ   تَعْبَقُ

ہدایت کی خوشبو، اسی سے پھوٹتی ہے،اس کی نرم ہوائیں ہر وادی میں مہک بکھیر دیتی ہیں۔

كُلُّ   الحَيَاةِ   حَفِيَّةٌ    بِقُدُومِهِ        وَالخَيْرُ فِيهِ عَلَى  الوَرَى  يَتَدَفَّقُ

ہر زندگی، اس کی آمد پر شاداں و فرحاں ہے،اور خیر و برکت اسی کے دامن سے
تمام مخلوق پرموج در موج بہتی چلی جاتی ہے۔

عبدالقدوس الأنصاری:

مدنی شاعر عبدالقدوس الأنصاری ماہِ رمضان کا استقبال کرتے ہوئے والہانہ انداز میں یوں گویا ہوتے ہیں:

تَبَدَّيْتَ   لِلنَّفْسِ    لُقْمَانَهَا        لِذَاكَ    تَبَنَّتْكَ    وُجْدَانَهَا

اے ماہ مبارک! تو نفس کے لیے اس کی مطلوبہ غذا بن کر جلوہ گر ہوا، اسی لیے دل و وجدان نے تجھے اپنا لیا۔

وَتَنْثُرُ  بَيْنَ  يَدَيْكَ   الزُّهْورَ        تُحَيِّيكَ إِذْ كُنْتَ  رَيْحَانَهَا

روح تیرے قدموں میں خوشبو دار پھول نچھاور کرتی ہے، کہ تو اس کے لیے ریحان، راحت اور زندگی کی مہک ہے۔

فَأَنْتَ  رَبِيعُ  الحَيَاةِ  البَهِيجُ        تُنَضِّرُ   بِالصَّفْوِ    أَوْطَانَهَا

تو زندگی کی مسرّت بھری بہار ہے، جو صفا اور پاکیزگی سے دلوں کے وطن کو شاداب کر دیتی ہے۔

وَأَنْتَ بَشِيرُ القُلُوبِ  الَّذِي        يُعَرِّفُهَا    اللهُ     رَحْمَانَهَا

اور تو ہی دلوں کے لیے خوش خبری بن کر آتا ہے،انہیں ان کے ربِ رحمان سے پھر سے روشناس کرا دیتا ہے۔

فَأَهْلاً وَسَهْلاً بِشَهْرِ الصِّيَامِ        يَسُلُّ  مِنَ  النَّفْسِ  أَضْغَانَهَا

خوش آمدید! اے ماہِ صیام، جو نفس کی گہرائیوں سے کینہ، میل اور عداوت کھینچ کر باہر نکال دیتا ہے۔

محمد ابراہیم جدع:

 محمد ابراہیم جدع بیسویں صدی کے ممتاز سعودی شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنے معروف مجموعے الالیاذہ الاسلامیہ الجدیدہ میں سیرتِ نبویؐ کے درخشاں پہلوؤں کو والہانہ عقیدت کے ساتھ نظم کیا۔ تقریباً پانچ شعری مجموعے ان کے نام سے منسوب ہیں۔ محمد ابراہیم جدع کی شاعری فکری سنجیدگی، ایمانی حرارت اور فنی استحکام کا حسین امتزاج ہے۔

وہ اپنے شعری کلام میں ماہ رمضان المبارک کا کچھ یوں پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں:

رَمَضَانُ  يَا  خَيْرَ   الشُّهُو        رِ وَخَيْرَ بُشْرَى فِي الزَّمَانْ
وَمَطَالِعُ    الإِسْعَادِ     تَرْ        فُلُ  فِي  لَيَالِيكَ   الحِسَانْ

اے رمضان! اے تمام مہینوں میں سب سے بہتر، اور زمانے کی سب سے بڑی بشارت! تیری حسین راتوں میں خوش بختی کے سحر ، وقار کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

وَمَحَافِلُ  الغُفْرَانِ   وَالتْ         تَقْوَى  تَفِيضُ   بِكُلِّ   آنْ
وَمَجَالِسُ   القُرْآنِ   وَالذْ         ذِكْرِ  الجِلِيلِ  أَجَلُّ   شَانْ

تیری مبارک شبوں میں  بخشش اور تقویٰ کی محفلیں ہر آن لبریز رہتی ہیں، اور رحمت کا دریا مسلسل بہتا چلا جاتا ہے۔ تیری راتوں کی  قرآن کی مجلسیں  ، اور جلیل القدر ذکر کی نشستیں، جن کی شان و عظمت سب سے بلند اور سب سے ارفع ہے۔

محمد حسن فقی:

محمد حسن فقی جدید سعودی ادب کی ایک درخشاں اور ہمہ جہت شخصیت تھے۔ مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور علم و ادب کی فضا میں آنکھ کھولی۔ ساداتِ اشراف سے تعلق رکھتے تھے، جس کی جھلک ان کی تحریروں میں شرافت اور فکری سنجیدگی کی صورت میں نمایاں ہے۔ان کی تصانیف اور شعری مجموعے زندگی، انسان اور معاشرے پر سنجیدہ غور و فکر کا آئینہ ہیں، اور یہی خصوصیت انہیں اپنے عہد کے ممتاز اہلِ قلم میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔

محمد حسن فقی ماہِ رمضان کا استقبال خوشی، سرور اور روحانی سرمستی کے ساتھ کچھ یوں کرتے ہیں:

رَمَضَانُ فِي قَلْبِي هَمَاهِمُ نَشْوَةٍ        مِنْ قَبْلِ رُؤْيَةِ  وَجْهِكَ  الوَضَّاءِ
وَعَلَى  فَمِي  طَعْمٌ  أُحِسُّ  بِأَنَّهُ        مِنْ طَعْمِ  تِلْكَ  الجَنَّةِ  الخَضْرَاءِ

رمضان! تیرے روشن چہرے کی رؤیت سے پہلے ہی میرے دل میں سرمستی کی سرگوشیاں مچلنے لگتی ہیں۔ میرے لبوں پر ایک ایسا ذائقہ اتر آتا ہے ،جو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ  سبز و شاداب جنت کے ذائقوں میں سے ہو۔

مَا ذُقْتُ قَطُّ وَلا شَعُرْتُ  بِمِثْلِهِ     أَفَلا أَكُونُ  بِهِ  مِنَ  السُّعَداءِ؟!

نہ کبھی میں نے ایسا مزہ چکھا، نہ ایسی کیفیت کو محسوس کیا، تو پھر کیوں نہ میں اس نعمت پر سعادت مندوں میں شمار ہوں؟

وَتَطَلَّعَتْ نَحْوَ  السَّمَاءِ  نَوَاظِرٌ         لِهِلالِ   شَهْرِ   نَضَارَةٍ   وَرُوَاءِ

نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں ۔ اس مہینے کے ہلال کے شوق میں جو تازگی اور آب و تاب کا پیامبر ہے۔

قَالُوا   بِأَنَّكَ   قَادِمٌ    فَتَهَلَّلَتْ      بِالبِشْرِ     أَوْجُهُنَا     وَبِالخُيَلاءِ

اے ہلال رمضان! کہا گیا کہ تم آنے والے ہو،تو خوش خبری نے ہمارے چہروں کو کھلا دیا اور دل فخر و مسرت سے بھر گئے۔

رَمَضَانُ مَا أَدْرِي وَنُورُكَ غَامِرٌ         قَلْبِي فَصُبْحِي  مشْرِقٌ  وَمَسَاءِ

اے ماہ مبارک ماہ رمضان! میں نہیں جانتا ، لیکن تیرا نور میرے دل کو اس طرح گھیر لیتا ہے کہ میری صبح بھی روشن ہےاور میری شام بھی جگمگاتی رہتی ہے۔

تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافتِ کے دوسرے برس پہلی مرتبہ نمازیوں کو ایک امام کی اقتدا میں نمازِ تراویح کے لیے جمع فرمایا۔ تو اس موقع پر ایک شاعر نے یوں کہا:

جَاءَ الصِّيَامُ  فَجَاءَ  الخَيْرُ  أَجْمَعُهُ         تَرْتِيلُ   ذِكْرٍ   وَتَحْمِيدٌ   وَتَسْبِيحُ
فَالنَّفْسُ تَدْأَبُ فِي قَوْلٍ وَفِي عَمَلٍ         صَوْمُ   النَّهَارِ   وَبِالليْلِ   التَّرَاوِيحُ

روزہ آیا تو خیر و برکت بھی ہمراہ لے آیا، ذکر وتلاوت کی خوش نوائی، حمد و ثنا اور تسبیح کی روشنی پھیل گئی۔یوں نفس قول و عمل دونوں میں سرگرمِ سعی رہتا ہے،
دن کو روزے کے ذریعے عبادت، اور رات کو تراویح  کے ذریعے بندگی۔

اور عبدالملک الخدیدی  ماہ رمضان المبارک کی قدر دانی کی نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

يَابَاغَيَ الخَيْرِ هَذَا شَهْـرُ مَكْرُمَـةٍ        أقْبِلْ بِصِـدْقٍ جَـزَاكَ اللهُ إحْسَانَـا
أقْبِـلْ بجُـودٍ وَلاَ تَبْخَـلْ بِنَافِلـةٍ         واجْعَلْ جَبِينَكَ بِالسَّجْـدَاتِ عِنْوَانَـا

اے خیر کے طالب! یہ عزت و اکرام کا مہینہ ہے، صدق دل کے ساتھ آگے بڑھ، اللہ تجھے اس کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔ دریادلی اور سخاوت سے قدم بڑھا، نفل عبادتوں میں بخل نہ کر،اور اپنی پیشانی کو سجدوں کا عنوان بنا دے۔

 

 

 


جمعہ، 13 فروری، 2026

 

(✍ مبصر الرحمن قاسمی

اسلامی فکر کو سمجھنے کے لیے کونسی کتابوں کا مطالعہ مفید ہے؟

اسلامی سیاسی فکر کو کسی ایک کتاب کی مدد سے سمجھا نہیں جاسکتا بلکہ یہ مختلف علوم و معارف کے سنگم سے تشکیل پانے والا ایک ہمہ گیر نظامِ فکر ہے۔ اس کی جڑیں فقہ میں بھی پیوست ہیں، اخلاق میں بھی، حکمت میں بھی اور عملی زندگی کی رہنمائی کرنے والی تحریروں میں بھی۔

مفکرین؛ اسلامی فکر کو سمجھنے کے لیے 5 بنیادی شعبوں کی کتابوں کے مطالعے کی رہنمائی کرتے ہیں۔

 

1- الأحكام السلطانية (یعنی شرعی سیاست سے متعلق کتابیں)

یہ وہ فقہی تصانیف ہیں جن میں حکومت اور نظمِ مملکت کو شریعت کی روشنی میں پرکھا گیا ہے۔ علما نے انہیں علما ہی کے لیے قلم بند کیا، تاکہ اقتدار کی بنیاد عدلِ الٰہی پر استوار ہو۔ جیسے کتاب “الاحکام السلطانیة” اور “اصلاح الراعی والرعیة"۔

 

2- ادب و تزکیۂ نفس سے متعلق کتب:

یہ کتابیں فرد کے اخلاق سنوارنے اور معاشرے سے اس کے تعلق کو مہذب بنانے کے لیے لکھی گئیں۔ ان کا مخاطب عالم بھی ہے اور عام انسان بھی۔  بطور مثال کتاب“ادب الدین والدنیا” اور کتاب “احیاء علوم الدین” اس سلسلے کی روشن مثالیں ہیں۔

 

3 - الآداب السلطانیة (مراۃ الملوک)

یہ نسبتاً آسان اور حکایات و نصائح اور قصے کہانیوں سے مزین کتابیں ہیں جو حکمرانوں کے لیے لکھی گئیں، تاکہ اقتدار کو اخلاقی بصیرت میسر آئے۔ مثال کے طور پر کتاب “تسهیل النظر” اور کتاب “سراج الملوک” میں دانائی قصوں کی صورت جلوہ گر ہوتی ہے اور نصیحت آئینۂ شاہی بن جاتی ہے۔

 

4- مراسلات:

اس زمرے میں وہ تمام مراسلات اور خطوط  شامل ہیں جو امراء اور بادشاہوں کے نام لکھے گئے۔

رسولِ اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین نے بادشاہوں اور امراء کے نام جو خطوط لکھے وہ بھی اسلامی سیاسی فکر کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ ان میں دعوت کا اسلوب،  اجتماعی نظم کی حکمت اور اختیار کی حدود نمایاں ہیں۔

 

5-  فلسفۂ اسلامی سے متعلق کتابیں:

مسلم فلاسفہ نے انسان، اقتدار اور ان کے باہمی تعلق پر گہری بحث کی۔ فارابی اور ابنِ سینا کی تحریروں میں ریاست، حاکم اور معاشرے کا ایک فکری و عقلی خاکہ ملتا ہے، جو اسلامی سیاسی فکر کو نظریاتی وسعت عطا کرتا ہے۔


منگل، 10 فروری، 2026

ramzaan ka isteqbaal

از قلم – ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

 اللّٰہُم بَلِّغْنا رَمَضان

( اے اللہ، ہمیں رمضان عطا فرما!)

لیکن سوال یہ ہے: کیا ہم نے رمضان کی تیاری کرلی ہے؟

انسانی زندگی میں کوئی بھی کام ہو، اس کی کامیابی کی بنیاد اچھی تیاری اور بہتر منصوبہ بندی پر ہوتی ہے۔ تیاری محض کامیابی تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ تیاری اور منصوبہ بندی  میں ہی کامیابی پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سے کسی کام کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ ﷺ سب سے پہلے اس کی تیاری اور منصوبہ بندی کے متعلق دریافت فرماتے تھے۔چنانچہ جب ایک سائل نے نبی کریم ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ایسا جامع اور شافی جواب دیا جو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ما أعددت لها؟تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ (صحیح بخاری)

ماہِ رمضان المبارک آتے ہی اکثر یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اسلام کی بڑی جنگیں اور عظیم معرکے اسی مہینے میں پیش آئے، اسی لیے اسے فتح و نصرت کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ تصور پختہ ہو گیا کہ کامیابی صرف رمضان ہی میں حاصل ہوتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اُس طویل، منظم اور مسلسل تیاری کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو ہر فتح سے پہلے کی گئی تھی۔ رمضان کامیابی کا وقت ضرور ہے، مگر اس کامیابی کی بنیاد اس تیاری میں ہوتی ہے جو اس سے پہلے کی جاتی ہے۔

اگر ہم نبی کریم ﷺ کے غزوات کا گہرائی سے مطالعہ کریں، بالخصوص بڑے اور فیصلہ کن معرکوں کو دیکھیں، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رمضان میں صرف دو اہم واقعات پیش آئے: غزوۂ بدر اور فتحِ مکہ۔ اس کے برعکس زیادہ تر غزوات شوال کے مہینے میں ہوئے، جو رمضان کے فوراً بعد آتا ہے۔ یہ حقیقت ہمیں ایک عملی سبق دیتی ہے کہ رمضان دراصل تیاری، تربیت اور مضبوطی کا مہینہ ہے، اور اسی تیاری کا نتیجہ بعد کے مہینوں میں کامیابی اور فتح کی صورت میں ظاہر ہوا۔

رمضان دراصل وہ حقیقی مرحلہ ہے جس میں انسان اپنی ذات پر قابو پاتا ہے، اپنی خواہشات کو زیر کرتا ہے اور زمین کی طرف جھکنے کے بجائے ایمان کے سہارے بلند ہوتا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جو مسلمان کو اپنی نفسانی کمزوریوں پر غلبہ حاصل کرنا سکھاتا ہے اور اسے اندر سے مضبوط بناتا ہے۔

رمضان کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچان لے اور یہ جان لے کہ نفس پر قابو پانے میں جن باتوں کو وہ ناممکن سمجھتا تھا، وہ دراصل نہ صرف ممکن ہیں بلکہ مشق کے ساتھ آسان بھی ہو جاتی ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف شاعر نے خوب اشارہ کیا ہے:

كلُّ ما لَم يكن من الصعب في الأَنفُسِ     سهـلٌ فيها إذا هـو كـانا

)ہر وہ چیز جو نفس پر  مشکل نہیں ہوتی، چاہنے والے کے لیے وہ آسان ہوتی ہے(

واقعی رمضان نفس کی خواہشات پر قابو پانے کا عملی امتحان ہے۔ جو کام انسان مہینوں میں نہیں کر پاتا، وہی کام وہ رمضان میں بخوبی انجام دے لیتا ہے۔ یہ مہینہ دل میں یہ مضبوط یقین پیدا کرتا ہے کہ نفس کو قابو میں رکھنا، اسے بلند رکھنا اور ہر وقت خود کو تیار رکھنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ انسان کی پہنچ میں ہے۔ رمضان ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل طاقت ہمارے اندر ہی موجود ہے، بس اسے جگانے کی ضرورت ہے۔

سیدُالتابعین حضرت ابو مسلم خولانیؒ نےقبل از وقت تیاری کی اصل حقیقت کو نہایت حکمت اور سادگی سے بیان فرمایا۔ ایک موقع پر وہ روم کی سرزمین میں جہاد کے سفر پر تھے۔ شدید گرمی سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنے خیمے میں ایک گڑھا کھود رکھا تھا، اس میں چمڑا بچھایا، پانی بھرا اور اسی میں بیٹھے ہوئے تھے۔کچھ لوگوں نے تعجب سے پوچھا:“آپ سفر میں ہیں، پھر بھی روزہ کیوں رکھ رہے ہیں؟آپؒ نے بڑے بصیرت افروز انداز میں جواب دیا:
اگر جنگ سامنے آ جائے تو میں روزہ چھوڑ دوں گا، تاکہ پوری تیاری کر سکوں اور خود کو مضبوط بنا سکوں۔پھر انھوں نے مثال دیتے ہوئے فرمایا:“گھوڑے منزل تک اس وقت نہیں دوڑتے جب وہ موٹے تازے ہوں، بلکہ اس وقت دوڑتے ہیں جب دبلا پن آ جائے اور زائد چربی ختم ہو چکی ہو۔پھر فرمایا: یاد رکھو! ہمارے اصل دن ابھی باقی ہیں، وہ آنے والے ہیں۔ ہم آج جو محنت کر رہے ہیں، وہ انہی دنوں کی تیاری ہے۔

سال 2012ء میں جرمنی کی معروف الیکٹرانکس چین Saturn نے اپنی 150ویں شاخ کے افتتاح پر ایک دلچسپ مقابلے کا اعلان کیا۔ شرط یہ تھی کہ جیتنے والا شخص نئی شاخ میں 150 سیکنڈ کے لیے داخل ہوگا اور جو چاہے گا مفت لے جا سکے گا۔ مقابلے کے نتائج آئے تو کامیاب افراد میں 27 سالہ سباستیان بھی شامل تھا۔ افتتاح کے دن میڈیا  کا ہجوم تھا۔ جیسے ہی جدید برقی آلات سے بھرا ہوا اسٹور کھولا گیا، شدید رش ہو گیا۔ لوگ ایک دوسرے سے ٹکراگئے، راستے بند ہو گئے اور بدنظمی پھیل گئی۔ اس ہجوم میں زیادہ تر لوگ کچھ خاص حاصل نہ کر سکے،لیکن سباستیان نے اس ہجوم کے باوجود بہت کچھ حاصل کرلیا۔سب حیران رہ گئے کہ اس نوجوان نے نہ صرف کئی قیمتی مشینیں سمیٹی بلکہ ایک بڑی فریج تک اٹھا لے گیا۔ اندازے کے مطابق اس نے 29 ہزار یورو سے زائد مالیت کا سامان حاصل کیا۔اسٹور سے نکلتے ہی اس کے منہ سے بے ساختہ جملہ نکلا:میری حکمتِ عملی کامیاب ہو گئی۔

میڈیا سے گفتگو میں اس نے بتایا کہ مقابلے کے اعلان کے بعد سے وہ روزانہ اسٹور آتا تھا، راستے طے کرتا، ترجیحات بناتا، یہ فیصلہ کرتا کہ کیا اٹھانا ہے اور کیا چھوڑنا ہے۔ یہی پہلے سے کی گئی تیاری تھی جس نے عملی لمحے میں اسے کامیاب بنایا۔ کامیابی چاہنے والے ہر انسان کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ:کیا  آنے والے رمضان کے لیے ہماری مکمل تیاری ہے، یا ہم اس سال بھی  ہمیشہ کی طرح  ماہِ رمضان کو اچانک آتے اور اچانک رخصت ہوتے دیکھیں گے؟

نبی کریم ﷺ نے ہمیں غلط تیاری سے بھی خبردار فرمایا، اور بتایا کہ وہ کس طرح انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اور اس کے وسائل کو برباد کر دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے مثال دیتے ہوئے فرمایا:

«إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ فَأَوْغِلْ فِيهِ بِرِفْقٍ، وَلَا تُبَغِّضْ إِلَى نَفْسِكَ عُبَادَةَ اللَّهِ، فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لَا أَرْضًا قَطَعَ وَلَا ظَهْرًا أَبْقَى»

بے شک یہ دین نہایت مضبوط ہے، اس میں نرمی سے گھسو اور اپنے نفس کو اللہ کی عبادت سے متنفر نہ کرو کیونکہ تیز سواری دوڑانے والا نہ تو (ساری) زمین کا سفر طے کر سکتا ہے اور نہ سواری کو باقی رہنے دیتا ہے۔ ]  مسند الشهاب/حدیث: 1147[

یہ مثال اُس شخص جیسی ہے جو سفر میں اپنی سواری پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ راستے ہی میں جواب دے جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ نہ وہ منزل تک پہنچ پاتا ہے اور نہ سواری سلامت رہتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارا حال بھی اکثر رمضان میں یہی ہوتا ہے۔ ہم اس مقدس مہینے کا آغاز تو بڑے جوش سے کرتے ہیں، مگر بغیر کسی تیاری کے۔ پھر جب رمضان کا آخری اور سب سے قیمتی حصہ آتا ہے،جس میں اصل روح پوشیدہ ہے اور جس میں لیلۃ القدر بھی شامل ہےتو ہم تھکن کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔ سستی اور اکتاہٹ ہم پر غالب آ جاتی ہے، اور ہم اس عظیم موقع سے پورا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

جو شخص خود پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال لیتا ہے، آخرکار وہی بوجھ اس کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے۔ اسی لیے دینِ اسلام میں اعتدال اور تسلسل و  ثابت قدمی کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:

«أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ»

(اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہو)

اس حدیث رسول ﷺ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت میں وقتی جوش کے بجائے مستقل مزاجی اختیار کی جائے، تاکہ انسان تھکے بغیر، بوجھ محسوس کیے بغیر، آہستہ آہستہ روحانی بلندی کی طرف بڑھتا رہے۔

رمضان کی تیاری کے  چند اہم مراحل یہ ہیں:

خالص نیت اور عزم:رمضان کی اصل تیاری نیت سے شروع ہوتی ہے۔  ہر مسلمان کو عزم کرنا چاہیے کہ وہ آنے والے اس  بابرکت مہینے میں عبادت، نیکی اور خدا کی رضا کے لیے ہر لمحے کو بھرپور استعمال کرے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “إنما الأعمال بالنياتیعنی اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ یاد رکھیں، موت کبھی بھی آ سکتی ہے، اس لیے ہر لمحے کی قدر کریں۔ بزرگان دین رمضان کی آمد سے چھ مہینے پہلے سے ہی رمضان پانے کی دعا کیا کرتے تھے۔

سچی توبہ:رمضان میں داخل ہونے سے پہلے اپنے چھوٹے بڑے گناہوں کی معافی اور دل کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔  سچی توبہ کریں، اہل حق کے حقوق واپس کریں، استغفار اور دعاؤں کے ذریعے اللہ کی رحمت طلب کریں۔

وقت کی قدر: وقت انسان کی زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔ رمضان  کا ہر لمحہ قیمتی بنانے کے لیے ابھی سے ہی نیک کاموں میں اور عبادتوں میں اپنا وقت لگانا شروع کردیں۔

کھانے کو کم کردیں:  رمضان میں  روزوں میں آسانی کے لیے اور نفس کو بھوکہ رہنے کا عادی بنانے کے لیے ابھی سے ہی اپنے کھانے کو کم کردیں، غیر ضروری مشروبات اور عادتوں کو اس نیت سے ترک کردیں کہ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہمیں عنقریب عطا کی جانے والی ہے اور اس کے استقبال کے لیے میں ہر لحاظ سے تیار ہوں۔

روزے کے ضروری احکام سیکھیں: روزے کے احکام، آداب اور شرائط جاننا ہر مسلمان کے لیے  ضروری ہے تاکہ عبادت اللہ کی رضا کے مطابق ہو اور ثواب حاصل ہو۔

روزہ کی مشق: شعبان میں  پیر اور جمعرات کے روزہ رکھ کر رمضان کے لیے عادت بنائیں۔

قیام الليل: رات کی عبادت سے دل کی تربیت اور روحانی طاقت بڑھتی ہے، رمضان  کی راتیں عبادت کی راتیں ہیں، اس لیے ابھی سے ہی عبادت کی غرض سے  شب بیداری  کا معمول بنائیں۔

قرآن کی تلاوت: رمضان میں تلاوت کی رفتار کو بڑھانے کے لیے ابھی سے ہی زیادہ سے زیادہ تلاوت کا اہتمام کریں۔

زکوۃ وصدقات: رمضان ہر قسم کی عبادت کا مہینہ ہے، اپنے أموال کی زکات اور نفل صدقات کی ترتیب قبل از رمضان ہی بنالی جائے۔ تاکہ رمضان کے قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔

 

  

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...