جمعہ، 20 فروری، 2026

takbirat inteqaal

 

تکبیراتِ انتقال سے مراد وہ تکبیریں ہیں جو نماز میں ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف جاتے ہوئے کہی جاتی ہیں۔ جب نمازی قیام سے رکوع، رکوع سے قومہ، قومہ سے سجدہ یا سجدے سے جلسہ وغیرہ کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اس تبدیلی کے دوران “اللہ اکبر” کہنا سنت ہے۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جانا شروع کرے، اسی وقت تکبیر شروع کرے اور جب نئی حالت میں مکمل طور پر پہنچ جائے تو تکبیر ختم ہو جائے۔ یعنی تکبیر دونوں ارکان کے درمیان منتقلی کے وقت ادا کی جائے۔ مثال کے طور پر جب رکوع کے لیے جھکنا شروع کرے تو “اللہ اکبر” کہنا شروع کرے اور جب مکمل رکوع میں پہنچ جائے تو تکبیر ختم ہو جائے۔ رکوع میں پہنچ جانے کے بعد تکبیر کہنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے۔

 

اس بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں نمازِ نبوی کا طریقہ بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ

(رواہ البخاری: 789، مسلم: 392)

 

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر جب رکوع سے کمر سیدھی کرتے تو فرماتے: “سمع اللہ لمن حمدہ”، پھر کھڑے ہو کر کہتے: “ربنا لک الحمد”، پھر سجدہ میں جاتے وقت تکبیر کہتے، پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، پھر سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، اور پوری نماز میں اسی طرح کرتے رہتے یہاں تک کہ نماز مکمل ہو جاتی، اور دو رکعت کے بعد (تشہد سے اٹھتے وقت) بھی تکبیر کہتے۔

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رکوع کی تکبیر رکوع کی طرف جھکتے ہوئے، سجدے کی تکبیر سجدے میں جاتے ہوئے، اور سجدے سے اٹھنے کی تکبیر اٹھتے ہوئے کہی جاتی تھی۔ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ یہی جمہور علماء کا مسلک ہے۔

بعض فقہاء نے تو اس مسئلے میں بہت سختی اختیار کی ہے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص کھڑے کھڑے تکبیر شروع کر دے اور رکوع میں پہنچنے کے بعد اسے مکمل کرے، یا رکوع میں پہنچ کر تکبیر کہنا شروع کرے، تو یہ درست نہیں، کیونکہ تکبیر اپنی مقررہ جگہ پر ادا نہیں ہوئی۔ ان کے نزدیک اگر تکبیر واجب ہو اور کسی نے جان بوجھ کر اس میں غلطی کی تو نماز باطل ہو سکتی ہے، اور اگر بھول کر ایسا ہوا تو سجدۂ سہو لازم آئے گا۔ تاہم زیادہ مضبوط اور راجح قول یہ ہے کہ معمولی تقدیم و تاخیر معاف ہے تاکہ لوگوں پر مشقت نہ ہو۔

 آج کل بعض ائمہ نے یہ عادت بنادی ہے کہ وہ رکوع میں پہنچنے کے بعد تکبیر کہتے ہیں تاکہ مقتدی ان سے پہلے رکوع میں نہ چلے جائیں۔ یہ سوچ درست نہیں، کیونکہ امام کا کام سنت کے مطابق نماز ادا کرنا ہے، اور مقتدی کو حکم ہے کہ وہ امام کی پیروی کرے، اس سے سبقت نہ لے۔ اپنی عبادت کو سنت کے خلاف کرنا دوسروں کی اصلاح کا درست طریقہ نہیں ہے۔

 خلاصہ یہ ہے کہ تکبیراتِ انتقال کا سنت طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہوتے وقت ادا کی جائیں اور حرکت کے دوران دوسرے رکن میں داخل ہونے سے پہلے ہی مکمل ہو جائیں۔ اگر معمولی آگے پیچھے ہو جائے تو گنجائش ہے، لیکن جان بوجھ کر اگلے رکن میں پہنچنے کے بعد تکبیر کہنا درست نہیں۔ یہی طریقہ “سمع اللہ لمن حمدہ” اور دیگر تکبیراتِ انتقال میں بھی اختیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کو سنتِ نبوی کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

مزید دیکھیں 👇🏼:

1-                             https://www.banuri.edu.pk/readquestion/takbeerat-e-entiqal-ka-tareeqa-or-waqt-144210200401/24-05-2021

2-                             https://darulifta-deoband.com/home/ur/salah-prayer/57637

3-                             الإسلام سؤال وجواب

 

 

 

 

 

پیر، 16 فروری، 2026

از- ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی 

عربی شاعری میں ماہِ مبارک کی بازگشت 

 

 

عرب شعرا نے ہلالِ رمضان کے پُرمسرت استقبال میں بے شمار قصائد اور نظمیں رقم کی ہیں، اور اس ماہِ مبارک کی آمد کو خیر کی علامت، سعادت کی بشارت اور برکت کا پیام قرار دیا ہے۔ چنانچہ جب ماہِ رمضانِ کریم کا ہلال افق پر نمودار ہوتا ہے تو گویا پوری کائنات اس کی آمد سے مسرّت و شادمانی سے جگمگا اٹھتی ہے۔ دلوں کے زنگ اُترنے لگتے ہیں، مومنین کے نفوس پاکیزہ ہو جاتے ہیں، اور رحمتِ ربّانی کی وہ عام فضا قائم ہو جاتی ہے جو عالمِ وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ اس روح پرور کیفیت میں دل اپنے خالق و پروردگارعزّوجل کے حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیتے ہیں، اور یوں باطن میں ایک لطیف اطمینان اور حقیقی رضا کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ انہی مفاہیم اور خوشی و مسرّت کے جذبات کو عرب شعرا نے اپنے کلام میں نہایت حسین انداز میں بیان کیا ہے۔ذیل میں ہم نے رمضان المبارک سے متعلق بعض  عرب شعرا کے کلام کے منتخب اشعار کو مع اردو ترجمہ شامل کیا ہے۔

محمد الاخضر:

محمد الاخضر سائحی کا شمار الجزائر کے ممتاز کلاسیکی شعرا اور ادبا میں ہوتا ہے۔  ہلال رمضان کا خیر مقدم کرتے ہوئے  وہ کہتے ہیں:

امْلأِ   الدُّنْيَا    شُعَاعًا        أَيُّهَا   النُّورُ    الحَبِيبْ

 

اے نورِ دل نواز!
اپنی کرنوں سے ساری دنیا کو جگمگا دے

اسْكُبِ  الأَنْوَارَ  فِيهَا        مِنْ    بَعِيدٍ    وَقَرِيبْ

قریب و بعید ہر سمت اپنے اجالے انڈیل دے۔


ذَكِّرِ   النَّاسَ   عُهُودًا        هِيَ مِنْ  خَيْرِ  العُهُودْ

لوگوں کو وہ عہد یاد دلا دو
جو عہدوں میں سب سے بہتر تھے


يَوْمَ كَانَ الصَّوْمُ مَعْنًى        لِلتَّسَامِي     وَالصُّعُودْ

جب روزہ محض بھوک کا نام نہ تھا
بلکہ بلندی، پاکیزگی اور روحانی عروج کا استعارہ تھا۔


يَنْشُرُ الرَّحْمَةَ فِي الأَرْ              ضِ عَلَى هَذَا الوُجُودْ

یہ وہ مہینہ ہے، جو اس پوری کائنات پررحمت کی چادر پھیلا دیتا ہے

اندلسی شاعر ابن الصباح الجذامی ماہ رمضان کی آمد پر یوں مسرت وخوشی کا اظہار کرتا ہے:

هَذَا هِلالُ الصَّوْمِ مِنْ رَمَضَانِ        بِالأُفْقِ بَانَ  فَلا  تَكُنْ  بِالوَانِي

یہ دیکھو! رمضان کے روزوں کا ہلال افق پر نمودار ہو چکا ہے،پس  اب سستی اور کاہلی  کو دل کے دروازے پر ہی روک دو۔

وَافَاكَ  ضَيْفًا  فَالتَزِمْ   تَعْظِيمَهُ        وَاجْعَلْ  قِرَاهُ   قِرَاءَةَ   القُرْآنِ

یہ مہینہ تمہارے پاس ایک معزز مہمان بن کر آیا ہے، لہٰذا اس کی تعظیم کو لازم پکڑو  اور قرآن کی تلاوت سے اس کی ضیافت کا حق ادا کرو۔

صُمْهُ   وَصُنْهُ   وَاغْتَنِمْ    أَيَّامَهُ        وَاجْبُرْ ذِمَا الضُّعَفَاءِ بِالإِحْسَانِ

اس کے روزے رکھو،اس کی حرمت کی حفاظت کرو،اس کے دنوں کو غنیمت جانو،اور اپنی نیکی سے اس ماہ مبارک میں کمزوروں کے ٹوٹے دل جوڑ دو۔

عبدالمنعم عبدالله :

عبدالمنعم عبدالله کی نظم أنا صائم  (میں روزہ دار ہوں) مجلہ منارالاسلام (1417ھ) میں شائع ہوئی، وہ اپنی نظم میں ماہ رمضان کو خیر، برکت اور ہدایت کے روشن استعارے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

نُورٌ يُطِلُّ عَلَى الوُجُودِ وَيُشْرِقُ        كَمْ  بَاتَتِ  الدُّنْيَا  لَهُ   تَتَشَوَّقُ

ایک نور ہے،جو کائنات پر جھک آتا ہے،اور ہر سمت اجالا بکھیر دیتا ہے،،دنیا کب سے اس کے استقبال میں
اشتیاق کے دیے جلائے بیٹھی تھی۔

تَرْنُو   لِمَطْلَعِهِ   لِتَشْهَدَ   بَدْرَهُ        (رَمَضَانُ)   إِنَّ   هِلالَهُ   يَتَأَلَّقُ

نگاہیں اس کے مطلع کی طرف اٹھی ہوئی ہیں، تاکہ اس کے بدر کا دیدار کریں، ماہ رمضانَ ۔۔۔ کہ اس کا ہلال چمکتا ہوا امید بن کر ابھرتا ہے۔

عِطْرُ الهُدَى  مِنْهُ  يَفُوحُ  فَهَذِهِ        أَنْسَامُهُ  فِي   كُلِّ   وَادٍ   تَعْبَقُ

ہدایت کی خوشبو، اسی سے پھوٹتی ہے،اس کی نرم ہوائیں ہر وادی میں مہک بکھیر دیتی ہیں۔

كُلُّ   الحَيَاةِ   حَفِيَّةٌ    بِقُدُومِهِ        وَالخَيْرُ فِيهِ عَلَى  الوَرَى  يَتَدَفَّقُ

ہر زندگی، اس کی آمد پر شاداں و فرحاں ہے،اور خیر و برکت اسی کے دامن سے
تمام مخلوق پرموج در موج بہتی چلی جاتی ہے۔

عبدالقدوس الأنصاری:

مدنی شاعر عبدالقدوس الأنصاری ماہِ رمضان کا استقبال کرتے ہوئے والہانہ انداز میں یوں گویا ہوتے ہیں:

تَبَدَّيْتَ   لِلنَّفْسِ    لُقْمَانَهَا        لِذَاكَ    تَبَنَّتْكَ    وُجْدَانَهَا

اے ماہ مبارک! تو نفس کے لیے اس کی مطلوبہ غذا بن کر جلوہ گر ہوا، اسی لیے دل و وجدان نے تجھے اپنا لیا۔

وَتَنْثُرُ  بَيْنَ  يَدَيْكَ   الزُّهْورَ        تُحَيِّيكَ إِذْ كُنْتَ  رَيْحَانَهَا

روح تیرے قدموں میں خوشبو دار پھول نچھاور کرتی ہے، کہ تو اس کے لیے ریحان، راحت اور زندگی کی مہک ہے۔

فَأَنْتَ  رَبِيعُ  الحَيَاةِ  البَهِيجُ        تُنَضِّرُ   بِالصَّفْوِ    أَوْطَانَهَا

تو زندگی کی مسرّت بھری بہار ہے، جو صفا اور پاکیزگی سے دلوں کے وطن کو شاداب کر دیتی ہے۔

وَأَنْتَ بَشِيرُ القُلُوبِ  الَّذِي        يُعَرِّفُهَا    اللهُ     رَحْمَانَهَا

اور تو ہی دلوں کے لیے خوش خبری بن کر آتا ہے،انہیں ان کے ربِ رحمان سے پھر سے روشناس کرا دیتا ہے۔

فَأَهْلاً وَسَهْلاً بِشَهْرِ الصِّيَامِ        يَسُلُّ  مِنَ  النَّفْسِ  أَضْغَانَهَا

خوش آمدید! اے ماہِ صیام، جو نفس کی گہرائیوں سے کینہ، میل اور عداوت کھینچ کر باہر نکال دیتا ہے۔

محمد ابراہیم جدع:

 محمد ابراہیم جدع بیسویں صدی کے ممتاز سعودی شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنے معروف مجموعے الالیاذہ الاسلامیہ الجدیدہ میں سیرتِ نبویؐ کے درخشاں پہلوؤں کو والہانہ عقیدت کے ساتھ نظم کیا۔ تقریباً پانچ شعری مجموعے ان کے نام سے منسوب ہیں۔ محمد ابراہیم جدع کی شاعری فکری سنجیدگی، ایمانی حرارت اور فنی استحکام کا حسین امتزاج ہے۔

وہ اپنے شعری کلام میں ماہ رمضان المبارک کا کچھ یوں پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں:

رَمَضَانُ  يَا  خَيْرَ   الشُّهُو        رِ وَخَيْرَ بُشْرَى فِي الزَّمَانْ
وَمَطَالِعُ    الإِسْعَادِ     تَرْ        فُلُ  فِي  لَيَالِيكَ   الحِسَانْ

اے رمضان! اے تمام مہینوں میں سب سے بہتر، اور زمانے کی سب سے بڑی بشارت! تیری حسین راتوں میں خوش بختی کے سحر ، وقار کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

وَمَحَافِلُ  الغُفْرَانِ   وَالتْ         تَقْوَى  تَفِيضُ   بِكُلِّ   آنْ
وَمَجَالِسُ   القُرْآنِ   وَالذْ         ذِكْرِ  الجِلِيلِ  أَجَلُّ   شَانْ

تیری مبارک شبوں میں  بخشش اور تقویٰ کی محفلیں ہر آن لبریز رہتی ہیں، اور رحمت کا دریا مسلسل بہتا چلا جاتا ہے۔ تیری راتوں کی  قرآن کی مجلسیں  ، اور جلیل القدر ذکر کی نشستیں، جن کی شان و عظمت سب سے بلند اور سب سے ارفع ہے۔

محمد حسن فقی:

محمد حسن فقی جدید سعودی ادب کی ایک درخشاں اور ہمہ جہت شخصیت تھے۔ مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور علم و ادب کی فضا میں آنکھ کھولی۔ ساداتِ اشراف سے تعلق رکھتے تھے، جس کی جھلک ان کی تحریروں میں شرافت اور فکری سنجیدگی کی صورت میں نمایاں ہے۔ان کی تصانیف اور شعری مجموعے زندگی، انسان اور معاشرے پر سنجیدہ غور و فکر کا آئینہ ہیں، اور یہی خصوصیت انہیں اپنے عہد کے ممتاز اہلِ قلم میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔

محمد حسن فقی ماہِ رمضان کا استقبال خوشی، سرور اور روحانی سرمستی کے ساتھ کچھ یوں کرتے ہیں:

رَمَضَانُ فِي قَلْبِي هَمَاهِمُ نَشْوَةٍ        مِنْ قَبْلِ رُؤْيَةِ  وَجْهِكَ  الوَضَّاءِ
وَعَلَى  فَمِي  طَعْمٌ  أُحِسُّ  بِأَنَّهُ        مِنْ طَعْمِ  تِلْكَ  الجَنَّةِ  الخَضْرَاءِ

رمضان! تیرے روشن چہرے کی رؤیت سے پہلے ہی میرے دل میں سرمستی کی سرگوشیاں مچلنے لگتی ہیں۔ میرے لبوں پر ایک ایسا ذائقہ اتر آتا ہے ،جو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ  سبز و شاداب جنت کے ذائقوں میں سے ہو۔

مَا ذُقْتُ قَطُّ وَلا شَعُرْتُ  بِمِثْلِهِ     أَفَلا أَكُونُ  بِهِ  مِنَ  السُّعَداءِ؟!

نہ کبھی میں نے ایسا مزہ چکھا، نہ ایسی کیفیت کو محسوس کیا، تو پھر کیوں نہ میں اس نعمت پر سعادت مندوں میں شمار ہوں؟

وَتَطَلَّعَتْ نَحْوَ  السَّمَاءِ  نَوَاظِرٌ         لِهِلالِ   شَهْرِ   نَضَارَةٍ   وَرُوَاءِ

نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں ۔ اس مہینے کے ہلال کے شوق میں جو تازگی اور آب و تاب کا پیامبر ہے۔

قَالُوا   بِأَنَّكَ   قَادِمٌ    فَتَهَلَّلَتْ      بِالبِشْرِ     أَوْجُهُنَا     وَبِالخُيَلاءِ

اے ہلال رمضان! کہا گیا کہ تم آنے والے ہو،تو خوش خبری نے ہمارے چہروں کو کھلا دیا اور دل فخر و مسرت سے بھر گئے۔

رَمَضَانُ مَا أَدْرِي وَنُورُكَ غَامِرٌ         قَلْبِي فَصُبْحِي  مشْرِقٌ  وَمَسَاءِ

اے ماہ مبارک ماہ رمضان! میں نہیں جانتا ، لیکن تیرا نور میرے دل کو اس طرح گھیر لیتا ہے کہ میری صبح بھی روشن ہےاور میری شام بھی جگمگاتی رہتی ہے۔

تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافتِ کے دوسرے برس پہلی مرتبہ نمازیوں کو ایک امام کی اقتدا میں نمازِ تراویح کے لیے جمع فرمایا۔ تو اس موقع پر ایک شاعر نے یوں کہا:

جَاءَ الصِّيَامُ  فَجَاءَ  الخَيْرُ  أَجْمَعُهُ         تَرْتِيلُ   ذِكْرٍ   وَتَحْمِيدٌ   وَتَسْبِيحُ
فَالنَّفْسُ تَدْأَبُ فِي قَوْلٍ وَفِي عَمَلٍ         صَوْمُ   النَّهَارِ   وَبِالليْلِ   التَّرَاوِيحُ

روزہ آیا تو خیر و برکت بھی ہمراہ لے آیا، ذکر وتلاوت کی خوش نوائی، حمد و ثنا اور تسبیح کی روشنی پھیل گئی۔یوں نفس قول و عمل دونوں میں سرگرمِ سعی رہتا ہے،
دن کو روزے کے ذریعے عبادت، اور رات کو تراویح  کے ذریعے بندگی۔

اور عبدالملک الخدیدی  ماہ رمضان المبارک کی قدر دانی کی نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

يَابَاغَيَ الخَيْرِ هَذَا شَهْـرُ مَكْرُمَـةٍ        أقْبِلْ بِصِـدْقٍ جَـزَاكَ اللهُ إحْسَانَـا
أقْبِـلْ بجُـودٍ وَلاَ تَبْخَـلْ بِنَافِلـةٍ         واجْعَلْ جَبِينَكَ بِالسَّجْـدَاتِ عِنْوَانَـا

اے خیر کے طالب! یہ عزت و اکرام کا مہینہ ہے، صدق دل کے ساتھ آگے بڑھ، اللہ تجھے اس کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔ دریادلی اور سخاوت سے قدم بڑھا، نفل عبادتوں میں بخل نہ کر،اور اپنی پیشانی کو سجدوں کا عنوان بنا دے۔

 

 

 


جمعہ، 13 فروری، 2026

 

(✍ مبصر الرحمن قاسمی

اسلامی فکر کو سمجھنے کے لیے کونسی کتابوں کا مطالعہ مفید ہے؟

اسلامی سیاسی فکر کو کسی ایک کتاب کی مدد سے سمجھا نہیں جاسکتا بلکہ یہ مختلف علوم و معارف کے سنگم سے تشکیل پانے والا ایک ہمہ گیر نظامِ فکر ہے۔ اس کی جڑیں فقہ میں بھی پیوست ہیں، اخلاق میں بھی، حکمت میں بھی اور عملی زندگی کی رہنمائی کرنے والی تحریروں میں بھی۔

مفکرین؛ اسلامی فکر کو سمجھنے کے لیے 5 بنیادی شعبوں کی کتابوں کے مطالعے کی رہنمائی کرتے ہیں۔

 

1- الأحكام السلطانية (یعنی شرعی سیاست سے متعلق کتابیں)

یہ وہ فقہی تصانیف ہیں جن میں حکومت اور نظمِ مملکت کو شریعت کی روشنی میں پرکھا گیا ہے۔ علما نے انہیں علما ہی کے لیے قلم بند کیا، تاکہ اقتدار کی بنیاد عدلِ الٰہی پر استوار ہو۔ جیسے کتاب “الاحکام السلطانیة” اور “اصلاح الراعی والرعیة"۔

 

2- ادب و تزکیۂ نفس سے متعلق کتب:

یہ کتابیں فرد کے اخلاق سنوارنے اور معاشرے سے اس کے تعلق کو مہذب بنانے کے لیے لکھی گئیں۔ ان کا مخاطب عالم بھی ہے اور عام انسان بھی۔  بطور مثال کتاب“ادب الدین والدنیا” اور کتاب “احیاء علوم الدین” اس سلسلے کی روشن مثالیں ہیں۔

 

3 - الآداب السلطانیة (مراۃ الملوک)

یہ نسبتاً آسان اور حکایات و نصائح اور قصے کہانیوں سے مزین کتابیں ہیں جو حکمرانوں کے لیے لکھی گئیں، تاکہ اقتدار کو اخلاقی بصیرت میسر آئے۔ مثال کے طور پر کتاب “تسهیل النظر” اور کتاب “سراج الملوک” میں دانائی قصوں کی صورت جلوہ گر ہوتی ہے اور نصیحت آئینۂ شاہی بن جاتی ہے۔

 

4- مراسلات:

اس زمرے میں وہ تمام مراسلات اور خطوط  شامل ہیں جو امراء اور بادشاہوں کے نام لکھے گئے۔

رسولِ اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین نے بادشاہوں اور امراء کے نام جو خطوط لکھے وہ بھی اسلامی سیاسی فکر کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ ان میں دعوت کا اسلوب،  اجتماعی نظم کی حکمت اور اختیار کی حدود نمایاں ہیں۔

 

5-  فلسفۂ اسلامی سے متعلق کتابیں:

مسلم فلاسفہ نے انسان، اقتدار اور ان کے باہمی تعلق پر گہری بحث کی۔ فارابی اور ابنِ سینا کی تحریروں میں ریاست، حاکم اور معاشرے کا ایک فکری و عقلی خاکہ ملتا ہے، جو اسلامی سیاسی فکر کو نظریاتی وسعت عطا کرتا ہے۔


فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...