جمعہ، 13 فروری، 2026

 

(✍ مبصر الرحمن قاسمی

اسلامی فکر کو سمجھنے کے لیے کونسی کتابوں کا مطالعہ مفید ہے؟

اسلامی سیاسی فکر کو کسی ایک کتاب کی مدد سے سمجھا نہیں جاسکتا بلکہ یہ مختلف علوم و معارف کے سنگم سے تشکیل پانے والا ایک ہمہ گیر نظامِ فکر ہے۔ اس کی جڑیں فقہ میں بھی پیوست ہیں، اخلاق میں بھی، حکمت میں بھی اور عملی زندگی کی رہنمائی کرنے والی تحریروں میں بھی۔

مفکرین؛ اسلامی فکر کو سمجھنے کے لیے 5 بنیادی شعبوں کی کتابوں کے مطالعے کی رہنمائی کرتے ہیں۔

 

1- الأحكام السلطانية (یعنی شرعی سیاست سے متعلق کتابیں)

یہ وہ فقہی تصانیف ہیں جن میں حکومت اور نظمِ مملکت کو شریعت کی روشنی میں پرکھا گیا ہے۔ علما نے انہیں علما ہی کے لیے قلم بند کیا، تاکہ اقتدار کی بنیاد عدلِ الٰہی پر استوار ہو۔ جیسے کتاب “الاحکام السلطانیة” اور “اصلاح الراعی والرعیة"۔

 

2- ادب و تزکیۂ نفس سے متعلق کتب:

یہ کتابیں فرد کے اخلاق سنوارنے اور معاشرے سے اس کے تعلق کو مہذب بنانے کے لیے لکھی گئیں۔ ان کا مخاطب عالم بھی ہے اور عام انسان بھی۔  بطور مثال کتاب“ادب الدین والدنیا” اور کتاب “احیاء علوم الدین” اس سلسلے کی روشن مثالیں ہیں۔

 

3 - الآداب السلطانیة (مراۃ الملوک)

یہ نسبتاً آسان اور حکایات و نصائح اور قصے کہانیوں سے مزین کتابیں ہیں جو حکمرانوں کے لیے لکھی گئیں، تاکہ اقتدار کو اخلاقی بصیرت میسر آئے۔ مثال کے طور پر کتاب “تسهیل النظر” اور کتاب “سراج الملوک” میں دانائی قصوں کی صورت جلوہ گر ہوتی ہے اور نصیحت آئینۂ شاہی بن جاتی ہے۔

 

4- مراسلات:

اس زمرے میں وہ تمام مراسلات اور خطوط  شامل ہیں جو امراء اور بادشاہوں کے نام لکھے گئے۔

رسولِ اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین نے بادشاہوں اور امراء کے نام جو خطوط لکھے وہ بھی اسلامی سیاسی فکر کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ ان میں دعوت کا اسلوب،  اجتماعی نظم کی حکمت اور اختیار کی حدود نمایاں ہیں۔

 

5-  فلسفۂ اسلامی سے متعلق کتابیں:

مسلم فلاسفہ نے انسان، اقتدار اور ان کے باہمی تعلق پر گہری بحث کی۔ فارابی اور ابنِ سینا کی تحریروں میں ریاست، حاکم اور معاشرے کا ایک فکری و عقلی خاکہ ملتا ہے، جو اسلامی سیاسی فکر کو نظریاتی وسعت عطا کرتا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...