جمعہ، 6 مارچ، 2026

از -  ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

رمضان کے عشرۂ اخیرہ کی قلبی عبادتیں

رمضان المبارک کا آخری عشرہ عبادت کی معراج، دعا کی قبولیت کا موسم، اور قربِ الٰہی کی سب سے تابناک ساعتوں کا مجموعہ ہے۔ یہ وہ افضل ترین ایام ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ اپنی عبادت میں غیر معمولی اہتمام فرماتے تھے،  ان دنوں میں آپ ﷺ شب بیداری اختیار کرتے، اہلِ خانہ کو جگاتے، اور اپنے کمر بستہ ہو جانے سے بندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیتے۔ اس عشرے کی اصل روح صرف ظاہری عبادتوں میں کثرت نہیں ہے، بلکہ باطن کی بیداری، دل کی نرمی اور روح کی یکسوئی کے ذریعے اپنے رب کے سامنے جھک  جانا اس عشرے کی اصل روح ہے۔

روزہ جسم کو قابو میں لاتا ہے، رمضان کی راتوں کا قیام زبان کو قرآن سے آشنا کرتا ہے، اعتکاف انسان کو دنیا کے ہنگاموں سے الگ کرتا ہے؛ لیکن ان سب کا مقصود یہ ہے کہ دل اللہ کی طرف پلٹے۔ اسی لیے رمضان کے عشرۂ اخیرہ کو قلبی عبادتوں کا عشرہ کہنا بجا ہے۔ یہ وہ مبارک گھڑیاں ہیں جن میں بندہ (اخبات، ابتهال، تضرع، انکسار، تبتل، توسل، انابت اور قنوت) جیسی عظیم صفات سے اپنے باطن کو آراستہ کرتا ہے۔ یہ اوصاف عبادت کو رسم سے حقیقت میں، دعا کو الفاظ سے کیفیت میں اور بندگی کو عادت سے محبت میں بدل دیتے ہیں۔

اخبات:

قلبی عبادتوں میں سب سے پہلے اخبات آتا ہے۔ اخبات اس کیفیت کا نام ہے جس میں دل نرم ہو جائے، تکبر کی سختی ٹوٹ جائے، نفس کی سرکشی دب جائے، اور بندہ اللہ کے سامنے پُرسکون عاجزی کے ساتھ جھک جائے۔ قرآن کہتا ہے:

﴿وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَىٰ مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ (ترجمہ: عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے،انہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل تھرا جاتے ہیں۔ انہیں جو برائی پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں)

 یعنی (مخبت )وہ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز اٹھتے ہیں، جو آزمائش پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ گویا (اخبات )محض ایک داخلی احساس نہیں ہے، بلکہ ایک جامع کیفیت  کا نام ہے جس کے آثار صبر، نماز، انفاق اور خشیت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

رمضان کے آخری عشرے میں اخبات اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بندہ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے، اور محسوس کرتا ہے کہ اس کی نجات نہ اس کے عمل میں ہے نہ اس کے فخر میں، بلکہ اللہ کی رحمت میں ہے۔

ابتهال:

ابتهال دل کی گہرائی سے اٹھنے والی اس پرخلوص دعا اور مناجات کا نام ہے جس میں بندہ اپنے رب سے پوری رغبت، سوز اور سچی تڑپ کے ساتھ لپٹ جاتا ہے۔ (ابتہال) مانگنے کا رسمی انداز نہیں ہے، بلکہ دل کے بھر آنے، روح کے پگھلنے اور آنکھ کے نم ہو جانے کا نام ہے۔ رمضان کا آخری عشرہ، خصوصاً راتوں کے سناٹے، اسی ابتهال کے لیے سب سے موزوں وقت ہیں۔

شبِ قدر کی تلاش میں جاگنے والا مومن جب اپنے رب سے عرض کرتا ہے کہ میرے حال پر رحم فرما، میرے دل کو درست فرما، میرے گناہ بخش دے، میرے انجام کو سنوار دے، تو یہی ابتهال ہے۔ یہ دعا کی وہ صورت ہے جس میں الفاظ کم اور کیفیت زیادہ بولتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں قرآن کا لفظ(أوّاه)اسی رقت، دعا، آہ و زاری اور کثرتِ رجوع کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مفسرین نے اس کے معنی بہت دعا کرنے والا، بہت رحم دل، کثرت سے ذکر کرنے والا، اور رقتِ قلب رکھنے والا بیان کیے ہیں۔ ان سب کا حاصل یہی ہے کہ مومن کا دل جب اللہ کے حضور پگھل جائے تو وہ ابتهال کی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔

تضرع:

تضرع قلبی عبادتوں کا نہایت بلند مقام ہے۔ اس کے معنی ہیں اپنے آپ کو عاجز، محتاج، کمزور اور فقیر سمجھتے ہوئے اللہ کے سامنے جھک جانا اور گڑگڑا کر مانگنا۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:

﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾ (ترجمہ: تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔)

اور ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے:

﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً﴾ (اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ )

یعنی اپنے رب کو عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کرو۔ رمضان کے آخری عشرے کی دعائیں اگر تضرع سے خالی ہوں تو وہ اپنے اصل ذوق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس عشرے کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان محض دعاؤں کی فہرست لے کر بیٹھ جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی بے بسی محسوس کرے، اپنے گناہوں پر نادم ہو، اور اپنے رب کے در پر سچی تڑپ کے ساتھ ہاتھ پھیلائے۔

حدیث میں آیا ہے کہ نماز میں بندہ خشوع، تضرع، مسکنت اور گریہ و زاری کا حال اختیار کرے، اپنے ہاتھ اٹھائے اور اپنے رب کو پکارے: یا رب، یا رب۔ یہی تضرع دعا کی جان ہے۔ ایک اور مقام پر قرآن انسان کی فطرت بیان کرتا ہے کہ جب وہ خشکی و تری کی تاریکیوں میں گھر جاتا ہے تو اللہ ہی کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارتا ہے۔ گویا تضرع وہ سچی پکار ہے جو خطرے کے وقت بے ساختہ زبان پر آتی ہے؛ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ امن کے دنوں میں بھی اسی عاجزی کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا رہے۔

انکسار:

انکسار قلبی عبادت کا وہ نازک اور عظیم مقام ہے جہاں بندہ اپنے نفس کے غرور سے باہر آتا ہے اور اللہ کے سامنے ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ ٹوٹنا محرومی نہیں، بلکہ حقیقت میں ملنا ہے؛ یہ شکست نہیں، بلکہ بندگی کی فتح ہے۔ رمضان کے عشرۂ اخیرہ میں جب انسان اعتکاف، تہجد، تلاوت اور ذکر کے ذریعے دنیا سے کٹتا ہے تو اسے اپنی حقیقت زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنا کمزور ہے، اس کی نیکی کتنی ناقص ہے، اس کی نیتیں کتنی آلودہ ہیں، اور اس کی امید کس قدر صرف اللہ کی رحمت پر موقوف ہے۔

انکسار ہی وہ کیفیت ہے جو سجدے کو روح عطا کرتی ہے، دعا میں اثر پیدا کرتی ہے، اور آنسو کو قیمتی بناتی ہے۔ جب تک دل میں اپنے عمل کا گھمنڈ، عبادت کا غرور، یا اپنے حال پر ناز باقی ہے، تب تک بندہ قلبی عبادت کے دروازے پر ہوتا ہے، اندر نہیں پہنچ پاتا۔ عشرۂ اخیرہ کا اصل پیغام یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے جھکے، ٹوٹے، روئے، اور پھر اسی ٹوٹن میں نئی زندگی پائے۔

تبتل:

تبتل اس یکسو ئی اور کٹنے کا نام ہے جس میں بندہ دنیا کی الجھنوں، نفسانی خواہشات اور غیر اللہ کی طرف میلان سے دل ہٹا کر محض اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

﴿وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا﴾ (ترجمہ: تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجا)

اور فرمایا:

﴿وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ﴾ (ترجمہ: اور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا)

تبتل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا کو چھوڑ کر رہبانیت اختیار کر لے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا دل دنیا کی غلامی سے نکل کر اللہ کی بندگی میں داخل ہو جائے۔ وہ کام دنیا کے کرے، مگر دل اللہ کے لیے رکھے؛ وہ لوگوں کے درمیان رہے، مگر دل کا رخ اپنے رب کی طرف رکھے؛ وہ اسباب اختیار کرے، مگر اعتماد اللہ پر رکھے۔

رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف تبتل کی ایک عملی صورت ہے۔ انسان خود کو مصروفیات سے الگ کرتا ہے، خلوت اختیار کرتا ہے، اور اپنے دل کو بار بار اللہ کی طرف جمع کرتا ہے۔ یہی تبتل دراصل شبِ قدر کے استقبال کی داخلی تیاری ہے۔ جس دل میں تبتل کی یکسوئی نہ ہو، وہ ان مبارک راتوں کی روح کہاں سے پائے گا؟

توسل:

توسل یہ ہے کہ بندہ اللہ کے حضور اپنی دعا کو قربت کے ایسے اسباب کے ساتھ پیش کرے جو اس کے قبول ہونے کے لائق ہوں۔ سب سے بڑا وسیلہ خود اللہ کی ذات ، اس کے اسماء و صفات، اپنی عاجزی، اپنا فقر، اپنی توبہ، اور اپنے صالح اعمال ہیں۔ رمضان کے آخری عشرے میں بندہ جب کہتا ہے: اے اللہ! تو غفور ہے، مجھے بخش دے؛ تو رحیم ہے، مجھ پر رحم فرما؛ تو کریم ہے، مجھے محروم نہ کر؛ تو مجھے اس رمضان میں روزہ، قیام، تلاوت اور اعتکاف کی توفیق دے چکا ہے، ان اعمال کے صدقے مجھ پر مزید فضل فرما  تو یہ سب توسل کی صورتیں ہیں۔

توسل دل کو دعا میں ادب سکھاتا ہے۔ اس سے بندہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ محض مطالبات کی فہرست پیش کرنے نہیں آیا، بلکہ اپنے رب کی بارگاہ میں عاجز بن کر، اس کی رحمت کے سہارے، اس کے فضل کے وسیلے سے حاضر ہوا ہے۔ عشرۂ اخیرہ میں توسل کی بہترین شکل یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرے، اپنے اعمال کی قلت کا اقرار کرے، اور اللہ کی صفاتِ رحمت کو اپنی دعا کا سہارا بنائے۔

انابت:

انابت کا معنی ہے: محبت، خضوع اور رغبت کے ساتھ بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن میں ارشاد ہے:

﴿وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ﴾

(ترجمہ: تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ  )

اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ﴾

(ترجمہ: جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو)

منیب وہ ہے جو ہر حال میں اپنے رب کی طرف پلٹتا رہے۔ اس سے غلطی ہو تو توبہ کے ساتھ پلٹتا ہے، نعمت ملے تو شکر کے ساتھ پلٹتا ہے، آزمائش آئے تو صبر کے ساتھ پلٹتا ہے، دل میں غفلت آئے تو ذکر کے ساتھ پلٹتا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا:

﴿فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ﴾  (ترجمہ: پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا

اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں:

 ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ (ترجمہ: جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے وا تھا)

رمضان کے آخری عشرے کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ انسان اپنے رب کی طرف سچا رجوع حاصل کر لے۔ وہ یہ طے کرے کہ اب میری زندگی کی سمت بدلنی ہے، میری ترجیحات بدلنی ہیں، میرے تعلقات کا مرکز بدلنا ہے، میری غفلت کو بیداری میں اور میری بے سمتی کو رجوع میں بدلنا ہے۔ یہی انابت ہے، اور یہی آخری عشرے کی اصل سوغات ہے۔

قنوت:

اگرچہ قنوت کا ذکر بعض اہلِ علم قلبی و عملی دونوں عبادتوں میں کرتے ہیں، مگر رمضان کے عشرۂ اخیرہ میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ قنوت کا مطلب ہے اللہ کی اطاعت کے ساتھ اس کے حضور ادب و خشوع سے کھڑا ہونا۔ قرآن فرماتا ہے:

﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾

(ترجمہ: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو)

اور رات کے عبادت گزار کے متعلق فرمایا:

﴿أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ﴾

(ترجمہ: بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو)

قنوت میں رکوع بھی ہے، خشوع بھی، نگاہ کی پستی بھی، دل کا خوف بھی، اور طویل قیام بھی۔ حدیث میں آیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: طُولُ القُنُوتِ۔ رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں جب بندہ لمبے قیام میں قرآن سنتا یا پڑھتا ہے، آنکھیں جھکی ہوتی ہیں، دل نرم ہوتا ہے، اور آخرت کا خوف و رحمت کی امید ساتھ ساتھ ہوتی ہے، تو یہی قنوت کی کامل تصویر ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام: قلبی عبادتوں کا روشن نمونہ:

 قرآن نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے فرمایا:

﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ﴾ 

(ترجمہ: یقیناً ابراہیم بہت تحمل والے نرم دل اور اللہ کی جانب جھکنے والے تھے)

اور ایک مقام پر:

﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا﴾

(ترجمہ: بےشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔)

یہ دو آیات دراصل قلبی عبادتوں کی پوری تصویر اپنے اندر رکھتی ہیں۔ وہ قانت تھے، یعنی اللہ کے مطیع و فرمانبردار؛ وہ منیب تھے، یعنی بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنے والے؛ وہ أوّاه تھے، یعنی دعا، رقت، ذکر، درد اور تضرع والے۔ ان کے اندر حلم بھی تھا، خشوع بھی، دعا بھی، اور استقامت بھی۔ رمضان کے آخری عشرے میں ایک مومن کے لیے یہی نمونہ مطلوب ہے کہ وہ عبادت کو محض ظاہر تک محدود نہ رکھے، بلکہ دل کو بھی اللہ کا بنا دے۔

رمضان کے آخری عشرے میں کثرتِ تلاوت، نوافل، ذکر، دعا اور اعتکاف سب اپنی جگہ نہایت اہم ہیں؛ لیکن ان سب کا حاصل تبھی ہے جب دل میں اخبات ہو، دعا میں ابتهال ہو، مناجات میں تضرع ہو، باطن میں انکسار ہو، رجوع میں انابت ہو، تعلق میں تبتل ہو، اور قیام میں قنوت ہو۔ یہ وہ قلبی عبادتیں ہیں   ، جن کی طرف بہت کم لوگ توجہ دیتےہیں۔ 

 

ازقلم: ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی


تجري من تحتهم الأنهار

رمضان المبارک میں مساجد کی فضا قرآنِ کریم کی تلاوت سے معطر ہو جاتی ہے۔ حفاظِ کرام سمیت عشاق قرآن؛ بڑی محنت اور اخلاص کے ساتھ قرآن کا ایک نہیں بلکہ کئی کئی مرتبہ دور مکمل کر لیتے ہیں۔ یہ یقیناً ایک بڑی سعادت ہے۔ تاہم کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلسل تلاوت کے باوجود قرآن کے بعض لطیف اور باریک نکات ہماری توجہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔

قرآنِ کریم کے بیان میں ایک نہایت دل چسپ مثال جنت کے ذکر میں استعمال ہونے والی تعبیرات کی ہے۔ کہیں فرمایا گیا: “تجري من تحتها الأنهار”، کہیں “تجري من تحتهم الأنهار” اور ایک مقام پر “تجري تحتها الأنهار”۔ بظاہر یہ معمولی سا فرق محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت قرآن کے اعجازِ بیان کی ایک خوبصورت جھلک ہے۔

قرآنِ کریم میں “جَنّٰتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ” کی تعبیر سب سے زیادہ استعمال ہوئی ہے۔ یہ الفاظ پورے قرآن میں تیس مرتبہ آئے ہیں، اور درج ذیل سورتوں میں وارد ہوئے ہیں:

(البقرہ: 25 / آل عمران: 15، 136، 195، 198 / النساء: 13، 57، 122 / المائدہ: 12، 85، 119 / التوبہ: 72، 89 / ابراہیم: 23 / النحل: 31 / طہ: 76 / الحج: 14، 23 / الفرقان: 10 / محمد: 12 / الفتح: 5، 17 / الحدید: 12 / المجادلہ: 22 / الصف: 12 / التغابن: 9 / الطلاق: 11 / التحریم: 8 / البروج: 11 / البینہ: 8)

اسی طرح ایک اور تعبیر “تجري من تحتهم الأنهار” بھی قرآن میں آئی ہے، مگر یہ صرف دو مرتبہ ذکر ہوئی ہے:

      سورۃ یونس: آیت 9

      سورۃ الکہف: آیت 31

جبکہ ایک تیسری تعبیر “تجري تحتها الأنهار” پورے قرآن میں صرف ایک ہی مرتبہ آئی ہے، اور وہ ہے:

      سورۃ التوبہ (براءۃ): آیت 100

یہ معمولی سا فرق دراصل قرآن کے اسلوبِ بیان کی گہرائی اور معنوی لطافت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک لفظ کا اضافہ یا کمی بھی معنی کے دائرے میں ایک نئی جہت پیدا کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ غور و فکر اور تدبر کی بھی دعوت دیتا ہے۔

اس لیے جب ہم رمضان یا غیر رمضان میں قرآن پڑھیں یا سنیں تو صرف ختمِ قرآن ہی مقصد نہ ہو، بلکہ اس کے الفاظ، اسلوب اور معانی پر بھی نظر ڈالیں۔ تب ہمیں احساس ہوگا کہ قرآن کا ہر لفظ اپنے اندر علم، حکمت اور بلاغت کا ایک سمندر سموئے ہوئے ہے۔

 

اللهم انا نسألك الجنة ونعيمها واجعل القرآن الكريم ربيع قلوبنا ونور صدورنا وجلاء أحزاننا واجعله لنا حجة ولا تجعله حجة علينا اللهم اجعلنا ممن يقرؤه فيرقى ولا تجعلنا ممن يقرؤه فيزل ويشقى اللهم ارزقنا بكل حرف من القرآن حلاوة وبكل كلمة كرامة وبكل أية سعادة وبكل سورة سلامة وبكل جزء جزاءا

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...