ازقلم: ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی
تجري من تحتهم الأنهار
رمضان المبارک میں مساجد
کی فضا قرآنِ کریم کی تلاوت سے معطر ہو جاتی ہے۔ حفاظِ کرام سمیت عشاق قرآن؛ بڑی
محنت اور اخلاص کے ساتھ قرآن کا ایک نہیں بلکہ کئی کئی مرتبہ دور مکمل کر لیتے ہیں۔
یہ یقیناً ایک بڑی سعادت ہے۔ تاہم کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلسل تلاوت کے
باوجود قرآن کے بعض لطیف اور باریک نکات ہماری توجہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔
قرآنِ کریم کے بیان میں ایک
نہایت دل چسپ مثال جنت کے ذکر میں استعمال ہونے والی تعبیرات کی ہے۔ کہیں فرمایا گیا:
“تجري من تحتها الأنهار”، کہیں “تجري من تحتهم الأنهار” اور ایک مقام پر “تجري
تحتها الأنهار”۔ بظاہر یہ معمولی سا فرق محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت قرآن کے
اعجازِ بیان کی ایک خوبصورت جھلک ہے۔
قرآنِ کریم میں “جَنّٰتٌ
تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ” کی تعبیر سب سے زیادہ استعمال ہوئی ہے۔ یہ
الفاظ پورے قرآن میں تیس مرتبہ آئے ہیں، اور درج ذیل سورتوں میں وارد ہوئے ہیں:
(البقرہ: 25 / آل عمران: 15، 136، 195،
198 / النساء: 13، 57، 122 / المائدہ: 12، 85، 119 / التوبہ: 72، 89 / ابراہیم: 23
/ النحل: 31 / طہ: 76 / الحج: 14، 23 / الفرقان: 10 / محمد: 12 / الفتح: 5، 17 /
الحدید: 12 / المجادلہ: 22 / الصف: 12 / التغابن: 9 / الطلاق: 11 / التحریم: 8 /
البروج: 11 / البینہ: 8)
اسی
طرح ایک اور تعبیر “تجري من تحتهم الأنهار” بھی قرآن میں آئی ہے، مگر یہ صرف دو
مرتبہ ذکر ہوئی ہے:
• سورۃ یونس: آیت 9
• سورۃ الکہف: آیت
31
جبکہ
ایک تیسری تعبیر “تجري تحتها الأنهار” پورے قرآن میں صرف ایک ہی مرتبہ آئی ہے، اور
وہ ہے:
• سورۃ التوبہ (براءۃ):
آیت 100
یہ
معمولی سا فرق دراصل قرآن کے اسلوبِ بیان کی گہرائی اور معنوی لطافت کو ظاہر کرتا
ہے۔ ایک لفظ کا اضافہ یا کمی بھی معنی کے دائرے میں ایک نئی جہت پیدا کر دیتی ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ غور و فکر اور تدبر کی بھی دعوت دیتا
ہے۔
اس
لیے جب ہم رمضان یا غیر رمضان میں قرآن پڑھیں یا سنیں تو صرف ختمِ قرآن ہی مقصد نہ
ہو، بلکہ اس کے الفاظ، اسلوب اور معانی پر بھی نظر ڈالیں۔ تب ہمیں احساس ہوگا کہ
قرآن کا ہر لفظ اپنے اندر علم، حکمت اور بلاغت کا ایک سمندر سموئے ہوئے ہے۔
اللهم انا نسألك الجنة ونعيمها واجعل
القرآن الكريم ربيع قلوبنا ونور صدورنا وجلاء أحزاننا واجعله لنا حجة ولا تجعله
حجة علينا اللهم اجعلنا ممن يقرؤه فيرقى ولا تجعلنا ممن يقرؤه فيزل ويشقى اللهم
ارزقنا بكل حرف من القرآن حلاوة وبكل كلمة كرامة وبكل أية سعادة وبكل سورة سلامة
وبكل جزء جزاءا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں