منگل، 2 جون، 2015

zuban ki tabahkariyan

زبان کی تباہ کاریاں
  ترجمہ
 مبصرالرحمن قاسمی

زبان ایک عظیم نعمت ہے اور زبان سے ایمان کا اقرار کرنا ایمان کی بڑی علامت ہے۔
ہر بندہ مسلم کو اپنی زبان کے سلسلے میں توجہ دینا بے حدضروری ہے، اورزبان کو شریعت کی لگام ڈالنا چاہیے، چونکہ زبان انسان کے اعضاء میں سے سب سے زیادہ نافرمان، سب سے زیادہ گناہ گار اور سب سے زیادہ باعث فساد ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو ان کی زبانوں کی حرکتوں کے سبب جہنم میں ڈالا جائے گا۔
عربی کا مشہور شاعر جریرکا کہنا ہے:
وجرح السّيف تُدْملُهُ فيبرا***ويبقى الدّهر ما جرح اللسان!
(ترجمہ: تلوار کا زخم مٹ جاتا ہے، لیکن زبان کا زخم زمانہ بھر باقی رہتا ہے۔)
سفیان بن عبداللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جسے میں مضبوطی سے پکڑلوں، فرمایا: ربی اللہ کہو، اور اس پر ثابت قدم رہو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسی چیز ہےجس کا میرے سلسلے میں آپ کو سب سے زیادہ خوف ہے؟، توآپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک کوہاتھ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایایہ۔
جس طرح بندے کو اپنے زبان کی حفاظت کرنا ضروری ہے اسی طرح گناہوں کی باتوں سے اپنے کانوں کی حفاظت کی بھی اس پر ذمہ داری ہے۔چونکہ بُری باتوں کو سننا بھی کہنے والے کی طرح ہے لہٰذا اس سلسلے میں متنبہ رہنا ضروری ہے۔
بہت سے امور میں زبان کی حفاظت کے سلسلے میں لاپرواہی اور غفلت نفس انسانی اور خواہشات کو متاثر کرتی ہے،زبان جہاں ایک نعمتِ عظمی ہے وہیں یہ ایک آفت اور آزمائش بھی ہے، زبان کی بے شمار آفتیں ہیں جن میں سے چند ہم نے ذیل میں پیش کی ہیں:
اولا: اللہ کے علاوہ کی قسم کھانا
ثانیا: جھوٹی گواہی دینا
ثالثا: لعن کرنا
رابعا: جھوٹ بولنا
خامسا:غیبت کرنا
سادسا: چغلی کرنا
سابعا: مذموم تعریف کرنا
ان کے علاوہ ہر وہ برُی بات جو زبان پر آتی ہے ، زبان کی آفتوں میں شامل ہیں۔
حضرت عطیہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریم ﷺ سے نجات کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: اپنی زبان کو روکے رکھو، اللہ نے جو مقدر کیا ہے اس پر راضی ہوجاؤ اور اپنی خطا پر رویا کرو۔
مومنین کو زبان کی تباہ کاریوں سے بچنے میں کوتاہی اور غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے، جو افراد غافل ہیں ان کے حق میں قرآن کریم مومنین کو یاد دہانی کرانے کا حکم دیتا ہے:  وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ] الذّاريات: 55]. اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے۔
اور آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ زبان دو عظیم آفتوں کا سرچشمہ ہے، اگر انسان ایک سے بچتا ہے تو دوسری کا شکار ہوجاتا ہے، سوائے اُس شخص کے جسے اللہ بچائے، جس میں سے ایک زبان کو حرکت دینا ہے اور دوسری خاموشی ہے، کیونکہ حق کے سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے والا گونگا شیطان اور باطل کا طرفدار ہے۔
ایک حکیم کا قول ہے:
چھ عادتوں سے جاہل کو پہچانا جاتا ہے:
۱۔ بے وجہ غصہ ہونے سے
۲۔ راز کا افشاء کرنے سے
۳۔لوگوں سے اختلاف رکھنے سے
۴۔بے موقع ہدیہ دینے سے
۵۔دشمن اور دوست کو نہ پہچاننے سے
۶۔بے فائدہ بات کرنے سے
علماء نے خاموشی کی سات طرح سے تعریف کی ہیں:
۱۔ خاموشی بغیر تھکن کی ایک عبادت ہے۔
۲۔ خاموشی بغیر زیور کی زینت ہے۔
۳۔ خاموشی سلطان وحاکم کے درجے پر نہ ہونے کے باوجود رعب کا باعث ہے۔
۴۔ اظہار معذرت سے بے نیازی کا ذریعہ ہے۔
۵۔ خاموشی بغیردیوار کا ایک قلعہ ہے۔
۶۔ کراما کاتبین کے لئے باعث راحت ہے۔
۷۔ متکلم یعنی بات کرنے والے کے  عیوب کا ستر ہے۔
لقمان حکیم کا قول ہے:
"خاموشی ایک حکمت ہے لیکن اس پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں"۔
زبان کے استعمال کے لیے اطاعت باری تعالیٰ اور اُس کا ذکر وشکر ایک وسیع میدان ہے، نیز انسان کے بس میں ہے کہ وہ اپنی زبان کو معاصی اور نافرمانیوں میں استعمال کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں استعمال کرے اور زبان کے ذریعے اپنے درجات کو بلند کرنے کی کوشش کرے، قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کرے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔
زبان کی پہلی آفت اور پہلا مرض زبان سے اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کرناہے جو اُسے ناپسند ہو۔
غیبت کیا ہے؟
یہ ایک خطرناک آفت اور عظیم آزمائش ہے، نبی کریم ﷺ نے اپنے اس قول سے غیبت کا مطلب بیان فرمایا:
تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کرنا جو اسے ناپسند ہو، دریافت کیا گیا: آپ کیا فرماتے ہیں اُس قول کے بارے میں جو میرے بھائی میں موجود ہو، (اور اسے بیان کیا  جائے) آپ ﷺ نے فرمایا: جو بات تم کہہ رہے ہو وہ اس میں موجود ہو تو تم نے غیبت کی، اور اگر اُس میں وہ بات نہ ہو جو تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے اُس پر بہتان لگایا۔
غیبت کی مثالیں:
۱۔ انسان کے جسم کی بناوٹ  کے سلسلے میں بات کرنا، جیسے کسی بھائی کو نابینا، اندھا ، کالا اور ٹھیگنا کہنا۔
۲۔ انسان کے حسب ونسب کے سلسلے میں بات کرنا جیسے غلام ،یا نچلی ذات  سے کسی کو یاد کرنا۔
۳۔ کسی کے پیشے کو حقیر جانتے ہوئے یاد کرنا جیسے فراش، حجام اور قصاب کہنا۔
۴۔ شرعی امور سے متعلق بات کرنا، جیسے کسی کو چور، جھوٹا اور شرابی وغیرہ کہنا۔
۵۔انسان کے ظاہری وضع قطع سے متعلق حقارت آمیر بات کہنا جیسے کسی کو لمبی آستین والا ، لمبے کپڑوں والا یا اس طرح کے الفاظ سے یاد کرنا۔
۶۔کسی کو کم ادب، باتونی، غافل، سست وغیرہ الفاظ سے یاد کرنا۔
مذکورہ تمام باتیں غیبت کے باب سے تعلق رکھتی ہیں، اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے والا اپنے مرداربھائی کا گوشت کھانے والے کے مترادف  ہے۔
غیبت کی قسمیں:
غیبت زبان سے کسی ناپسندیدہ بات کے ادا کرنے سے ہی نہیں ہوتی بلکہ ہروہ حرکت، اشارہ یا نقل اور ہر وہ عمل جس سے کسی کی غائبانہ میں تقصیر  اور تحقیر مقصود ہو حرام عمل اور غیبت میں شامل ہے۔
غیبت میں شرکت:
غیبت کی باتیں سننا، غیبت کی مجالس میں موجود رہنا، غیبت کرنے والے کو اس کے عمل سے منع نہ کرنا یہ سب غیبت میں شرکت کرنے کے مترادف ہے۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے: «من ردّ عن عرض أخيه ردّ الله عن وجهه النّار يوم القيامة [رواه التّرمذي 1931 وصححه الألباني]
(جس نے اپنے بھائی کی (عدم موجودگی میں) اُس کی جانب سے دفاع کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ یعنی جہنم کو ہٹائیں گے۔)
إنّ الصّديق الصّدق من صدقك***ومن يضرُّ نفسه لينفعك
ومن إذا ريبُ الزّمان ضعضعك***فرّق فيك شملهُ ليجمعك
(ترجمہ: دوست وہ ہے جو آپ کی تصدیق کرے، جو آپ کے فائدے کے لئے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالے، جب آپ کو آزمائش زمانہ کمزور وبے بس کردے تو دوست آپ کی تقویت کے لئے اپنی جماعت کو جدا کردے۔)
غیبت کے اسباب:
۱۔ کراہیت اور نفرت
۲۔حسد جو صاحب غیبت کے دل کو کھاجاتا ہے۔
۳۔ فتنہ وفساد کا ارادہ رکھنا۔
۴۔ قابل احترام شخصیات کی تنقیص کرنا۔
۵۔ ہم نشینوں کی موافقت
غیبت کی جائز قسمیں:
۱۔ ظلم: مظلوم قاضی کے سامنے ظالم کے ظلم اور خائن کی خیانت کے بارے میں شکایت کرسکتا ہے۔
۲۔ کسی کی برائی کا اُس شخص کے سامنے ذکر کرنا جو اس کے اصلاح کی طاقت رکھتا ہو، اس ارادے سے کہ نافرمان راہ راست پر آجائے۔
۳۔ مفتی کے سامنے فتوی معلوم کرنے کے لئے صورتحال بیان کرنا، مثال کے طور پر بیوی کا اپنے شوہر سے متعلق بات کرنا۔
۴۔ مسلمان کو کسی کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے۔
غیبت کا شرعی حکم اور اس کے دلائل:
کتاب وسنت اور اجماع امت سے غیبت کا حرام اور گناہ کبیرہ ہونا ثابت ہے، قرآن نے غیبت سے نفرت دلانے کے لئے صاحب غیبت کو اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے والے کے مترادف قرار دیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
 }وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ{ [الحجرات:12]
ترجمہ: اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو)
۱۔ اپنے نفس کے عیوب تلاش کرنا:
انبیاء اوررسولوں کے علاوہ کوئی بھی انسان نفس کے عیوب سے پاک نہیں ہوسکتا، انسانوں میں کوئی شخص بے شمار عیبوں والا ہوسکتا ہے اور کوئی بہت کم عیب والا، تاہم ہر فرد میں کچھ نہ کچھ عیوب ہوتے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اپنے عیوب کو تلاش کرے اور ان کے اصلاح کی فکر کرے، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے  نزدیک پسندیدہ اور بہتر ہے۔
۲۔ نقصاندہ تجارت:
صاحب غیبت اپنی نیکیوں اور حسنات کو برباد کرنے والا ہے، نیز وہ غیبت کے ذریعے اپنی نیکیوں کو جس کی غیبت کررہا ہے ، اس کے کھاتے میں منتقل کرنے والا ہے، غیبت کرنے والے کا حال ایسا ہے کہ وہ بیک وقت گناہ بھی کرتا ہے اور اپنی نیکیوں کو ضائع کرکے اپنے محسود کا فائدہ بھی کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
''اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنے والد کی ہی غیبت کرلیتا''
۳۔ غیبت سے توبہ:
غیبت کرنے والا دوقسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے:
ایک جرم تو اللہ تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے، جس کا کفارہ یہ ہے کہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرے، جبکہ دوسرا جرم بندے کے حق میں کرتا ہے ، جس کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے ،اگر اُس شخص کو غیبت کا علم ہوا ہو تو اس سے معذرت کا اظہار کرے، اور اگر اس کو غیبت کا علم نہ ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرے اور اُس بندے کے حق میں نیک دعا کرے،نیز یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے اور اللہ کے فرشتے اس کے ایک ایک عمل کو قلمبند کررہے ہیں۔
 (۲)زبان کی دوسری عظیم آفت
چغلی:
زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت چغلی بھی ہے ، چغلی وہ عمل ہے جس کےذریعے دو افراد کے درمیان پھوٹ ،جدائی اور اختلاف پیدا کیے جاتے ہیں۔
ارشاد ربانی ہے: }وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَهِينٍ (10) هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ]   { القلم: 10-11]
(ترجمہ: اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا۔)
چغلی کے اسباب:
چغلی کے اسباب میں حسد، کراہیت ونفرت، اور مفاد کے حصول کی حرص شامل ہے۔
چغلی کا حکم اور شرعی دلائل:
۱۔ چغلی گناہ کبیرہ ہے، کتاب وسنت اور اجماع امت سے اس کی حرمت ثابت ہے، ارشاد ربانی ہے:
وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَهِينٍ (10) هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ  [القلم: 10-11] (ترجمہ: اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا۔)
۲۔قرآن کریم میں چغلی کو حطب یعنی لکڑی سے تعبیر کیا گیا ہے، چونکہ چغلی باعث عداوت اور فساد ہے، اللہ تعالیٰ نے ابولہب کی بیوی کو حمالۃ الحطب کے لقب سے بیان فرمایا۔
۳۔ چغلخور کو اللہ تعالیٰ نے فاسق قرار دیا ، ارشاد ربانی ہے:
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ]    الحجرات: 6]
(ترجمہ: مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔)
نیز ارشاد ہے:
 [وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ] [الهمزة: 1]،
 (ترجمہ: ہر طعن آمیز اشارے کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے۔)
چغلی کا عمل مومنین مرد اور عورتوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا باعث ہے، جس سے مومنین کو تکلیف پہنچتی ہے، دین اسلام نے مومن بھائی کو کسی بھی قسم کی تکلیف دینا حرام قرار دیا۔
دورخی آدمی:
چغلخور دورُخہ یا دوغلاپن اختیار کرنے والا ہوتا ہے، چونکہ اس کا کام ہر ایک کے سامنے اپنی الگ تصویر پیش کرکے آپس میں پھوٹ ڈالنا ہوتا ہے، دوغلاپن اختیار کرنے والا کل روز قیامت بدترین شخص ہوگا، بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 «إن شرّ النّاس ذو الوجهين الّذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه [متفق عليه].
(ترجمہ:"روز قیامت بدترین شخص وہ ہوگا جو دورُخہ ہوگا کہ ایک کی باتیں دوسرے کو اور دوسرے کی پہلے کو پہنچاتا ہو'')
چغلخور کے تئیں ایک بندہ مسلم کا کیا  موقف ہو؟:
۱۔ چغلی کرنے والے کی تصدیق نہ کرے۔
۲۔چغلخور کو اس کی اس حرکت سے منع کرے۔
۳۔چغلخور سے اُس کے گناہ کی وجہ سے بغض رکھے۔
۴۔چغلخور کی بات پر اپنے غائب بھائی سے بدگمان نہ ہوں۔
۵۔چغلخور کی بات کے سبب، اُس بات کے سلسلے میں کھوج نہ کرے۔
۶۔جو شخص چغلخور کو راضی نہیں کرتا وہ اُس کے فتنے سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
(۳) زبان کی تیسری آفت:خلاف واقعہ کی خبردینا:
جھوٹ زبان کی خطرناک آفت اور ایک نفسیاتی مرض ہے، اگر انسان اس کا علاج نہ کرائے تو یہ مرض اسے جہنم تک پہنچادیتا ہے۔
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ   [البقرة: 10]
.  (ترجمہ: اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔)
ایک بزرگ کا قول ہے:
"سب سے بڑی خطا چھوٹی زبان ہے"۔
جھوٹ کے اثرات:
جھوٹ کے تباہ کن اثرات سے جھوٹے لوگ اگر واقف ہوجائیں تو وہ جھوٹ سے ضرور توبہ کرلیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوجائیں گے ، ذیل میں ہم چند تباہ کن اثرات کی جانب اشارہ کررہے ہیں:
۱۔ لوگوں کے نزدیک جھوٹے شخص کے سلسلے میں شک وشبہات پیدا ہوجاتےہیں۔
۲۔ جھوٹا شخص منافقین کی خصوصیات میں شامل ہوجاتا ہے جبکہ منافقین کل قیامت کے دن جہنم کے بالکل نچلے حصے میں ڈال دیئے جائیں گے۔
۳۔ بیع وشراء میں سے برکت اٹھادی جاتی ہے، کیونکہ خرید وفروخت کے دوران شیطان جھوٹ بولنے پر زیادہ نفع اورکثیر فائدے کی لالچ بتاتا ہے، ایسے وقت میں بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کو بھول کر شیطان کی اتباع کرکے اپنے تجارت کی برکت کو ختم کردیتا ہے۔
۴۔ لوگوں کے درمیان سے جھوٹے شخص پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
۵۔ حقائق بدل جاتے ہیں، چونکہ جھوٹ کے خراب اثرات کے نتیجے میں جھوٹا شخص حق کو باطل اور باطل کو حق نیز معروف کو منکر اور منکر کو معروف کی شکل دیتا ہے۔
۶۔جھوٹ کی وجہ سے اعضاء جسمانی پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں ، سب سے پہلے جھوٹ نفس سے زبان کی جانب سرایت کرتا ہے اور اسے خراب کرتا ہے پھر اعضاء میں سرایت کرتا ہے اور اعضاء کو بھی خراب کردیتا ہے۔
درحقیقت جھوٹے شخص کی راہ ومنزل جہنم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو جہنم سے بچائے۔
وإنّ الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النّار، وإنّ الرجل ليكذب، حتى يكتب عند الله كذابًا»  [متفق عليه]
(ترجمہ: جھوٹ فسق وفجور کی طرف لیجاتا ہے اور فسق وفجور جہنم کی جانب لیجاتے ہیں، آدمی جھوٹ بولتا ہے حتی  کہ اللہ تعالیٰ کے پا س اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔)
جھوٹ کی تباہ کن شکلیں:
جھوٹ سراسر قباحت اور برائی  ہے، نیز جھوٹا شخص جھوٹ کی قباحتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی سخت وعیدوں کا بھی اہل ہوجاتا ہے۔جھوٹ کی شکلوں کا ہم ذکر کررہے ہیں:
۱۔ سامان فروخت کرنے کے لئے جھوٹی قسم کھانا۔
۲۔ جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہڑپ کرنا۔
۳۔ جھوٹا خواب بیان کرنا۔
۴۔ کسی واقعے کی غلط خبر دینا وغیرہ
جھوٹ سے بچنے کے طریقے:
۱۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کا استحضار کریں، اور اس کی ذات پر قوی اعتماد رکھیں، چونکہ انسان خیالی اشیاء کے خوف میں جھوٹ بولنے لگتا ہے اور شیطان اس کے دماغ میں جھوٹ کی شکلیں پیدا کرتا ہے۔
۲۔ قطعی یقین ہو کہ جو نوشتہ تقدیر میں لکھا ہے وہ ہوکر رہے گا۔
۳۔ ریاضت نفس یعنی نفس کو ایسے اعمال پر آمادہ کریں جو مطلوبہ اخلاق کی متقاضی ہو، چونکہ نفس کا حال بچے کی طرح ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے، اگر دل خیر سے معمور ہے تو زبان سے خیر وبھلائی کے پتے جھڑنے لگتے ہیں اور اگر دل شرور وفساد کا منبع ہے تو پھر زبان سے خاردار پتیاں جھڑنے لگتی ہیں۔
إن الكلام لفي الفؤاد وإنّما***جُعِل اللسان على الفؤاد دليلًا
(ترجمہ:گفتگو کا اصل مرکز دل ہے اور زبان کو دل کا ترجمان بنایا گیا ہے۔)
ہمارا حال اس طرح نہیں ہونا چاہیے:
إن يعلموا الخير أخفوه وإن علموا** شرًّا أذاعوا وإن لم يعلموا كذبوا
(ترجمہ: انہیں خیر کا علم ہوتو اسے چھپاتےہیں اور اگر شرکی خبر ہو تواسے پھیلاتےہیں، اور اگر کسی بات کا علم نہ  ہوتو جھوٹ بولنے لگتے ہیں)
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتےہیں:
''عقلمند کی زبان اُس کے دل کے تابع ہوتی ہے، جب بات کرنے کا ارادہ ہوتا ہے تو پہلے سوچتا ہے، اگر فائدہ نظر آئے تو بات کرتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے''۔
حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
"اے بیٹے! جب لوگوں کو اپنے حُسن کلام پر فخر کرتے ہوئے دیکھو تو تم اپنے حُسن سکوت پر فخر کرو''۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس موضوع سے متعلق مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں:
1.        آفات اللسان /للشّيخ عبد الله الجار الله ، فهو هامٌ جدًّا، وقد أفدتُّ منه كثيرًا.
2.        آ فات اللسان في ضوء الكتاب والسّنّة/ للشّيخ سعيد بن على بن وهف القحطاني.
3.        حصائد الألسن.. / للعوايشة.

4.        غثاء الألسن /للشّيخ الفاضل، والدّاعية الموفق / إبراهيم الدّويش-  

Nabi Sallallahu Alaihi Wasallam ka Tilawat ka Tariqa Part (3)



نبی کریم  ﷺکاتلاوت کا طریقہ

مولف
موید عبدالفتاح حمدان- کویت

ترجمہ وتلخیص
مبصرالرحمن قاسمی
(حصہ سوم)



21-    نبی ﷺ بیٹھ کر، کھڑے رہ کر، چلتے ہوئے اور حالت سواری  تمام حالتوں میں قرآن پڑھتے تھے:
ارشاد باری تعالی ہے: الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ﴿سورة آل عمران:١٩١﴾
ترجمہ: جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے۔
ابن جریج کہتے ہیں: آیت بالا میں ذکر سے نماز اور غیر نماز میں اللہ کا ذکر کرنا اور قرآن پڑھنا مراد ہے۔
لہذا مذکورہ تمام کیفیتوں میں معروف شرائط کے ساتھ نماز درست ہے اور قراءت قرآن نماز کا ایک حصہ ہے، متعدد احادیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ان تمام حالتوں میں نماز سے باہر قرآن پڑھا ہے۔


 - حالت جلوس میں نبی ﷺ کا قرآن پڑھنا:
عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شب نبی ﷺ کی زوجہ میمونہ کے گھر میں رہے اور وہ ان کی خالہ ہیں، ابن عباس کہتے ہیں میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی زوجہ اس کے طول میں لیٹیں، رسول ﷲ ﷺ سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ بعد، تو رسول ﷲ ﷺ بیدار ہوئے اور نیند میں اپنے چہرہ کو اپنے ہاتھ سے ملتے ہوئے بیٹھ گئے، پھر سورہ آل عمران کی آخری دس آیتیں آپ نے پڑھیں، اس کے بعد ایک لٹکی ہوئے مشک کی طرف (متوجہ ہو کر) آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا، اس کے بعد نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔
- حالت سواری میں نبی ﷺ کا قرآن پڑھنا:
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فتح مکہ کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ فتح پڑھ رہے تھے۔

- حالت قیام میں نبی ﷺ کا قرآن پڑھنا:
حضرت عمرہ بنت  عبدالرحمن اپنی بہن سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں  نے کہا: میں نے سورۃ ق  والقرآن المجید جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ سے سیکھی (یعنی حفظ کی) جسے آپ ہر جمعہ کو منبر پر پڑھتے تھے۔

22-  آپ ﷺ بسا اوقات ٹیک لگا کر بھی قرآن پڑھتے تھے:
حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ ہم (ازواج مطہرات)  میں سے  کسی  کے گود میں سر رکھتے تھے اور قرآن پڑھتے تھے جبکہ وہ حیض  سے ہوتی تھیں۔
آپ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ میرے گود میں ٹیک لگاتے تھے اور میں حیض سے ہوتی تھی، پس آپ  (اس دوران)قرآن پڑھتے تھے۔
 امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان احادیث سےیہ ثابت ہوتا ہے کہ حیض والی عورت یا کسی نجات کی جگہ سے قریب قرآن کی تلاوت کی جاسکتی ہے۔

23-  نبی کریم ﷺ قرآن کا مستقل دور فرمایا کرتے تھے اور کبھی  بھی اپنے معمول کو ترک نہیں فرماتے تھے۔
حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کے بعد ہمارے ہاں روزانہ تشریف لاتے اور بات چیت کرتے تھے، ابو سعید  کہتے ہیں: آپ اپنے پاوں پر کھڑے کھڑے باتیں کرتے اور زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے کبھی ایک پاوں پر زور دے کر کھڑے ہوتے کبھی دوسرے پر، اور آپ ﷺ بالعموم اپنی قوم قریش کے ساتھ گزرے حالات بیان کرتے، فرماتے: ہم مکے میں برابر نہ تھے، بلکہ کمزور وناتواں تھے، ، جب ہم مدینے آگئے تو ہم میں اور ان میں لڑائی شروع ہوگئی، کبھی ہم ان پر غالب آتے کبھی وہ،  ایک رات آپ ﷺ نے اپنے مقررہ وقت پرآنے میں تاخیر کردی تو ہم نے کہا آج آپ تاخیر سے تشریف لائے ہیں؟ فرمایا: میرا ایک جزء قرآن کا رہتا تھا ، میں نے اس کی تلاوت مکمل کیے بغیر آنا پسند نہ کیا۔ اوس کہتے ہیں: میں نے اصحاب رسول ﷺ سے معلوم کیا کہ آپ لوگ قرآن کے حصے کس طرح کرتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ پہلا حصہ تین سورتوں کا، (بقرہ، آل عمران اور نساء)دوسرا حصہ سات سورتوں کا (مائدہ سے براءۃ تک) تیسرا حصہ  سات سورتوں کا (یونس سے نحل تک)چوتھا حصہ نو سورتوں کا (بنی اسرائیل سے فرقان تک) پانچواں حصہ گیارہ سورتوں کا(شعراء سے یس تک) چھٹا حصہ تیرہ سورتوں کا (صافات سے حجرات تک) اور ساتواں حصہ مفصل کا(یعنی ق سے  الناس تک)
ابن الہاد بیان کرتے ہیں کہ نافع بن جبیر بن مطعم (تابعی) نے مجھ سے پوچھا کہ تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا ہوں، تو نافع نے کہا کہ اس طرح مت کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے:میں نے قرآن کا ایک جزء (حصہ) پڑھا۔
حزب (حصہ) کا مطلب ہے بطور ورد اور وظیفے کے کوئی حصہ مقرر کرلینا، ابن الہاد نے ایسا کرنے سے انکار کیا، جس پر نافع نے کہا: اس کے انکار کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ حصے حصے کرکے قرآن پڑھنا خود نبی ﷺ سے ثابت ہے۔لہذا قرآن کریم کے جو حصے [ربع، نصف، ثلث، رکوع اور جزء یعنی پارہ] بنے ہوئے ہیں ، یہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ نہیں ہیں لیکن یہ عوام کی آسانی کے لیے بنائے گئے ہیں۔

24-نبی ﷺ ہر سال اپنے معلم اول جبریل کو  قرآن سناتے تھے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ہر سال(رمضان) میں ایک مرتبہ حضرت جبریل کو قرآن سناتے تھے اور جس سال نبی ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو مرتبہ قرآن سنا یا۔
اور آپ ہی سے مروی ہے ، فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اور خاص طور پر رمضان میں جب جبرائیل آپ ﷺ سے ملتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور جبرائیل آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے اور قرآن کا دور کرتے، نبی ﷺ بھلائی پہنچانے میں ٹھنڈی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں، اس میں آپ ﷺ کی جود وسخاوت کی اعلی سطح کو بیان کیا گیا ہے، آپ کے اس معمول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان میں کثرت سے خیر وخیرات کرنا مستحب ہے، اس حدیث سے یہ  بھی معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور ان کی جدائی سے انسان میں خیرات اور عمل خیر کو کثرت سے کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور تیسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ سال میں ایک مرتبہ  قرآن کا دور کرنا  مستحب ہے۔

25-  کبھی نبی ﷺ اپنے بعض ماہر ومُتقن صحابہ کو قرآن سناتے تھے:
جیسا کہ  آپ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے (لم يكن الذين كفروا) پڑھوں، (اُبی نے کہا) کیا اللہ نے آپ کو میرا نام لے کر کہا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ، (راوی) کہتے ہیں: اس  بات پر اُبی  روپڑے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت اُبی کے سامنے قرآن پڑھنے کا آپ ﷺ کو حکم دینے کی مازری اور قاضی حکمت بیان کرتے ہیں: اس کی یہ وجہ تھی کہ آپ ﷺ کے الفاظ، اداء، مقامات وقوف اور قرآن کے اس ترنم کو  اُبی سیکھے جو شریعت نے مقرر کیا ہےاور اس ترنم سے گریز کرے جو قرآن کے علاوہ کے لیے مستعمل ہے، لہذا آپ ﷺ نے حضرت اُبی کو اس لیے قرآن سنایا تھا تاکہ وہ آپ سے پڑھنے کا انداز اور طریقہ سیکھے۔

26-  اور آپ ﷺ ماہرقراء سے قرآن سیکھنے کا حکم فرماتے تھے:
حضرت مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عبداللہ کا ذکر کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: وہ ایک ایسے انسان ہے جن کے بارے میں نبی ﷺ کے فرمان کو سننے کے بعد سے ، ان سے میں برابر محبت کرتا ہوں، آپ ﷺ فرماتے تھے: چار لوگوں سے قرآن سیکھو: عبداللہ بن مسعود سے، حضرت ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم سے، معاذ بن جبل سے اور اُبی بن کعب سے۔
اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے انھیں خوشخبری سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص یہ چاہتا ہو کہ قرآن ویسا پڑھے جیسا نازل ہوا تو اسے چاہیے کہ وہ ابن اُم عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کے بقول: اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ  چاراصحاب رسول ﷺ قرآن کے الفاظ کی ادائیگی اور اس میں مہارت میں تمام صحابہ سے آگے تھے، گرچہ  دیگر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم  قرآن کے معانی ومفاہیم کو ان کےمقابلے اچھی طرح سمجھنے والے تھے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان چار صحابہ نے  اپنی ذات کو فارغ کرکے نبی ﷺ سے بالمشافہ قرآن پڑھا تھا، جبکہ ان کے علاوہ صحابہ نے ایک دوسرےسے قرآن سیکھا تھا، یا پھر اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ چاروں صحابہ نے قرآن پڑھانے کے لیے اپنی ذات کو فارغ کردیا تھا، یا پھر آپ ﷺ نے یہ اعلان کرنا چاہا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد قرآن پڑھنے اور سیکھنے کے لیے ان چاروں صحابہ کو ترجیح دی جائے۔

27- نبی ﷺ اپنے علاوہ سے قرآن سننا پسند فرماتے تھے:
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن پڑھو!  عبداللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوا؟  فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ سے سنوں، تو میں نے سورہ نساء پڑھی، حتی کہ میں اس آیت پر پہنچا : " فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا ﴿النساء:٤١﴾ (پھر) میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ  آپ ﷺ کے آنسو جاری ہیں۔" ( ترجمہ: بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے۔ )
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:  کُفَّ(بس کرو) یا فرمایا: اَمسِك (رک جاو)، پس آپ کے آنسو جاری تھے۔( رواہ البخاری (۴۷۶۲) و مسلم (۸۰۰))

28-  نبی ﷺ قرآن پڑھنے والے کو قراءت کے دوران روکنا ہوتو : اَحسَنتَ، حَسبُك،  یا   أَمسِك جیسے الفاظ کہتے تھے:
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں حُمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سنائیں میں نے انہیں سورة یوسف پڑھ کر سنائی، ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یہ سورة اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ سورت اسی طرح سنائی تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: اَحسَنتَ۔ (رواہ البخاری (۴۷۶۲) و مسلم (۸۰۰))
اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے  مجھ سے فرمایا:  میرے سامنے پڑھو ، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوا؟ فرمایا : ہاں، پس میں نے سورہ نساء پڑھی، حتی کہ میں اس آیت پر پہنچا : " فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا ﴿النساء:٤١﴾ " آپ ﷺ نے فرمایا: حَسبُكَ الآن، جب میں آپ کی جانب متوجہ ہوا تو آپ کےآنسو جاری تھے۔ ( ترجمہ: بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے۔ ) (رواہ البخاری (۴۷۶۳))

29- نبی ﷺ قراءت میں  خلل نہ ڈالنے کا حکم دیتے تھے:
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو ایک آیت پڑھتےہوئے سنا، جسے رسول اللہ ﷺ نے مجھے پڑھایا تھا، اس نے اس کے خلاف پڑھا تھا، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،آپ حضرت علی کے ساتھ سرگوشی فرما رہے تھے، لہذا میں نے انھیں یہ بات بتائی، تو حضرت علی ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم ویسا پڑھو جیسا تمہیں سکھایا گیا ہے۔( رواہ ابن حبان (۷۴۶) وحسنہ شعیب الارنووط)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے ایک آدمی کو (حم) یعنی (سورۃ الاحقاف) پڑھتے ہوئے سنا، تو اس نے ایک حرف پڑھا، اور دوسرے ایک شخص نےاپنے ساتھی سے الگ دوسرا حرف پڑھا، اور میں نے کئی حروف پڑھے، جسے میرے دونوں ساتھیوں نے نہیں پڑھے، لہذا ہم نبی ﷺ کی جانب چل پڑے اور آپ کو خبر دی، پس آپ نے فرمایا:  اختلاف نہ کرو، تم سے پہلے والے ان کے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے، پھر آ پ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے اس شخص کو تلاش کرو جو سب سے اچھا پڑھنے والا ہے اور پھر اس سے پڑھنا سیکھو۔( رواہ احمد فی مسندہ (۴۰۱/۱) وحسنہ شعیب الارنووط)

30- نبی ﷺ جب کسی سجدہ والی آیت تلاوت کرتے تو عام طور پر سجدہ کیا کرتے تھے:
 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: نبی ﷺ آیت سجدہ پڑھتے تھے اور ہم آپ کےپاس ہوتے تھے، پس آپ سجدہ فرماتے  اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، جس کی وجہ سے خوب بھیڑ ہوجاتی ، حتی کہ ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کے لیے پیشانی رکھنے کے لیے بھی جگہ نہیں ملتی۔ اور کبھی کبھی آپ ﷺ سجدہ چھوڑ دیتے تھے۔( رواہ البخاری (۱۰۲۶) ومسلم (۵۷۵))
زید بن ثابت سے مروی ہے فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو سورہ والنجم سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں فرمایا۔( رواہ البخاری (۱۰۷۳) ومسلم (۵۷۷) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔)

31-  نبی ﷺ تلاوت کے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے: [سجدَ وجهيَ للذي خلقَه؛ وشقَّ سمْعَه وبصَرَه بحولهِ وقوتهِ].
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سجدہ تلاوت  میں یہ دعا تکرار سے پڑھا کرتے تھے: [سجدَ وجهيَ للذي خلقَه؛ وشقَّ سمْعَه وبصَرَه بحولهِ وقوتهِ]. میرا چہرہ اس ذات کے لیے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اپنی طاقت اور قوت سے اس کے کان اور آنکھ بنائے۔( رواہ ابوداود (۱۴۱۴) وصححہ الالبانی۔)

32-  اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھتے تھے:
”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي بِهَا ، اللَّهُمَّ حُطَّ عَنِّي بِهَا وِزْرًا ، وَأَحْدِثْ لِي بِهَا شُكْرًا ، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ سَجْدَتَهُ“
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب دیکھا کہ گویا میں ایک درخت کے نیچے ہوں، اور گویا درخت سورۃ ص پڑھ رہا ہے، جب وہ آیت سجدہ پر پہنچا تو  اس نے سجدہ کیا اور اپنے سجدے میں یہ دعاء پڑھی: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي بِهَا ، اللَّهُمَّ حُطَّ عَنِّي بِهَا وِزْرًا ، وَأَحْدِثْ لِي بِهَا شُكْرًا ، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ سَجْدَتَهُ“ (ترجمہ: اے اللہ ! اس کے ذریعے میری مغفرت فرما، اے اللہ ! اس کے ذریعے میرے گناہ مٹادے، اور اس کے ذریعے مجھے شکر کی توفیق دے، اور اس سجدے کو مجھ سے ویسا قبول فرما جیسا تونے اپنے بندے داود سے اس کے سجدے کو قبول فرمایا۔) صبح کو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور واقعہ سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوسعید! کیا تم نے سجدہ کیا؟ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم درخت کے مقابلے سجدے کے زیادہ مستحق تھے، پھر آپ نے سورۃ ص پڑھی، پھر آیت سجدہ پر پہنچے تو سجدہ فرمایا اور سجدہ میں وہی کلمات دہرائے جو درخت نے پڑھے تھے۔( رواہ ابویعلی فی مسندہ (۱۰۶۹)وحسنہ الالبانی السلسۃ الصحیحہ(۲۷۱۰)۔)




बाज़ार में चलने-फिरने, खरीद-बिक्री करने के आदाब

  - डॉ. मुबस्सिर रहमान  इस्लाम ने हमें बाज़ार में चलने-फिरने , खरीद-बिक्री करने और लोगों के साथ अच्छा व्यवहार करने के आदाब सिखाए हैं। आइए , ...