تکبیراتِ انتقال سے مراد
وہ تکبیریں ہیں جو نماز میں ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف جاتے ہوئے کہی جاتی ہیں۔
جب نمازی قیام سے رکوع، رکوع سے قومہ، قومہ سے سجدہ یا سجدے سے جلسہ وغیرہ کی طرف
منتقل ہوتا ہے تو اس تبدیلی کے دوران “اللہ اکبر” کہنا سنت ہے۔ اس کا درست طریقہ یہ
ہے کہ جیسے ہی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جانا شروع کرے، اسی وقت تکبیر شروع
کرے اور جب نئی حالت میں مکمل طور پر پہنچ جائے تو تکبیر ختم ہو جائے۔ یعنی تکبیر
دونوں ارکان کے درمیان منتقلی کے وقت ادا کی جائے۔ مثال
کے طور پر جب رکوع کے لیے جھکنا شروع کرے تو “اللہ اکبر”
کہنا شروع کرے اور جب مکمل رکوع میں پہنچ جائے تو تکبیر ختم ہو جائے۔ رکوع میں
پہنچ جانے کے بعد تکبیر کہنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے۔
اس بارے میں حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں نمازِ نبوی کا طریقہ بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ
إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ
يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ
مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ
يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ
يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ
يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ
يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ
(رواہ البخاری: 789، مسلم: 392)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے،
پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر جب رکوع سے کمر سیدھی کرتے تو فرماتے: “سمع
اللہ لمن حمدہ”، پھر کھڑے ہو کر کہتے: “ربنا لک الحمد”، پھر سجدہ میں جاتے وقت تکبیر
کہتے، پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے، پھر سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر سر اٹھاتے
وقت تکبیر کہتے، اور پوری نماز میں اسی طرح کرتے رہتے یہاں تک کہ نماز مکمل ہو جاتی،
اور دو رکعت کے بعد (تشہد سے اٹھتے وقت) بھی تکبیر کہتے۔
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے
کہ رکوع کی تکبیر رکوع کی طرف جھکتے ہوئے، سجدے کی تکبیر سجدے میں جاتے ہوئے، اور
سجدے سے اٹھنے کی تکبیر اٹھتے ہوئے کہی جاتی تھی۔ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم
میں لکھا ہے کہ یہی جمہور علماء کا مسلک ہے۔
بعض فقہاء نے تو اس مسئلے
میں بہت سختی اختیار کی ہے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص کھڑے کھڑے تکبیر شروع کر دے
اور رکوع میں پہنچنے کے بعد اسے مکمل کرے، یا رکوع میں پہنچ کر تکبیر کہنا شروع
کرے، تو یہ درست نہیں، کیونکہ تکبیر اپنی مقررہ جگہ پر ادا نہیں ہوئی۔ ان کے نزدیک
اگر تکبیر واجب ہو اور کسی نے جان بوجھ کر اس میں غلطی کی تو نماز باطل ہو سکتی
ہے، اور اگر بھول کر ایسا ہوا تو سجدۂ سہو لازم آئے گا۔ تاہم زیادہ مضبوط اور راجح
قول یہ ہے کہ معمولی تقدیم و تاخیر معاف ہے تاکہ لوگوں پر مشقت نہ ہو۔
آج کل بعض ائمہ نے یہ
عادت بنادی ہے کہ وہ رکوع میں پہنچنے کے بعد تکبیر کہتے ہیں تاکہ مقتدی ان سے پہلے
رکوع میں نہ چلے جائیں۔ یہ سوچ درست نہیں، کیونکہ امام کا کام سنت کے مطابق نماز
ادا کرنا ہے، اور مقتدی کو حکم ہے کہ وہ امام کی پیروی کرے، اس سے سبقت نہ لے۔ اپنی
عبادت کو سنت کے خلاف کرنا دوسروں کی اصلاح کا درست طریقہ نہیں ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ تکبیراتِ
انتقال کا سنت طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہوتے وقت ادا کی
جائیں اور حرکت کے دوران دوسرے رکن میں داخل ہونے سے پہلے ہی مکمل ہو جائیں۔ اگر
معمولی آگے پیچھے ہو جائے تو گنجائش ہے، لیکن جان بوجھ کر اگلے رکن میں پہنچنے کے
بعد تکبیر کہنا درست نہیں۔ یہی طریقہ “سمع اللہ لمن حمدہ” اور دیگر تکبیراتِ
انتقال میں بھی اختیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کو سنتِ نبوی کے مطابق ادا
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید دیکھیں 👇🏼:
2-
https://darulifta-deoband.com/home/ur/salah-prayer/57637
3-
الإسلام سؤال وجواب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں