(ڈاکٹر
مبصرالرحمن قاسمی)
رمضان کے بعد رمضان والی ایمانی وروحانی زندگی کیسے
ممکن؟
رمضان ایک ایسی جامع تربیت گاہ ہے جو انسان کی
روح، کردار اور زندگی کو سنوارتی ہے اور یہ ایک ایسی عملی درسگاہ ہے جہاں عبادت کے
ذریعے تقویٰ، خشیت، استقامت اور نیکیوں پر دوام سکھایا جاتا ہے۔دین اسلام میں ایسی
عبادت کی کوئی حقیقی قدر نہیں جس کا اثر زندگی میں ظاہر نہ ہو۔ جو شخص رمضان سے صحیح
فائدہ اٹھاتا ہے، وہ اس کے بعد پہلے سے بہتر ہو جاتا ہے، کیونکہ ایک نیکی دوسری نیکی
کو جنم دیتی ہے۔
ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رمضان وہ مہینہ
ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پورے سال کا چراغ اور اسلام کی عظیم بنیادوں میں سے ایک بنایا
ہے، جو نماز، روزہ اور قیام کے نور سے روشن ہے“۔ (بستان الواعظین وریاض السامعین)
اعمال کی قبولیت کی علامت:
ہر چیز کی ایک پہچان ہوتی ہے، اور نیکیوں کی قبولیت
کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ بندے کو اس کے بعد بھی نیک اعمال کی توفیق ملے، وہ خیر
پر قائم وثابت قدم رہے، اور اس کے عمل کا اثر اس کے کردار، دل کے اخلاص اور اعضا
کے اعمال میں نمایاں ہو۔
لہٰذا ہم رمضان کو اپنی زندگی میں خیر کا نقطۂ
آغاز بنائیں، اور اس کے بعد کا وقت نیکیوں میں آگے بڑھنے اور مسلسل بہتری کا ذریعہ
ہو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”تم عمل سے زیادہ
اس کی قبولیت کی فکر کرو، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا:
(إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللَّہُ مِنَ الْمُتَّقِین)
اللہ تو صرف متقیوں سے ہی قبول کرتا ہے۔ (الاخلاص والنیۃ لابن ابی الدنیا)
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”عمل اور دل کے
درمیان ایک فاصلہ ہوتا ہے، اور اس فاصلے میں ایسی رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں جو عمل
کے اثر کو دل تک پہنچنے نہیں دیتیں،چنانچہ انسان بہت سے اعمال کرتا ہے، مگر اس کے
دل میں نہ محبت پیدا ہوتی ہے، نہ خوف، نہ امید، نہ دنیا سے بے رغبتی اور نہ آخرت کی
رغبت، اور نہ وہ نور پیدا ہوتا ہے جس سے وہ حق و باطل اور اللہ کے دوستوں اور
دشمنوں میں فرق کر سکے۔ اگر اعمال کا اثر دل تک پہنچ جائے تو دل روشن ہو جائے، حق
و باطل واضح نظر آئے اور اس کے حال میں مزید بہتری آجائے۔ (مدارج السالکین)
عبدالعزیز بن ابی رواد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہم
نے ایسے لوگوں کو پایا جو نیک اعمال میں بھرپور محنت کرتے تھے، اور جب وہ عمل کر لیتے
تو انہیں یہ فکر لاحق ہو جاتی کہ آیا یہ قبول ہوا یا نہیں“۔ (لطائف المعارف)
رمضان کے بعد کی ایمانی وروحانی حالت:
رمضان کے بعد ہم اپنی ایمانی وروحانی حالت وکیفیت
پر غور کریں تو عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ رمضان میں رُجوع الی اللہ، عبادتوں کی
کثرت اور روحانی فضا کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کے بعد ہم میں سے اکثر لوگ کئی قسموں
میں بٹ جاتے ہیں۔ لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان کے بعد بھی باجماعت نمازوں کا
اہتمام کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی سال بھر کی سنت پر عمل کرتے ہوئے قیام لیل اور
تہجد کا اہتمام کرتے ہیں، کثرت سے نفل پڑھتے ہیں اور معمول کے مطابق تلاوت قرآن
اور ذکر وشکر کا اہتمام کرتے ہیں، ساتھ ہی رمضان کی ہی طرح عام دنوں میں بھی چھوٹے
بڑے گناہوں سے بچتے ہیں۔ہم میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کی زندگی پر رمضان کا کوئی
اثر نہیں پڑتا؛ ان کا روزہ محض عادت اور نماز ایک معمول بن جاتی ہے۔ بلکہ بعض لوگ
(نعوذ باللہ) رمضان کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اس کے ختم ہونے کے منتظر رہتے ہیں، ان
کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ جلد از جلد دوبارہ اپنی خواہشات کو پورا کرسکیں اور گناہوں
کی طرف لوٹیں۔
یاد رکھیں! یہ تنزلی ایک خطرناک بیماری ہے۔ اس لیے
اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ رمضان کے بعد سستی، کاہلی اور غفلت ہمیں کہیں
دوبارہ گناہوں تک نہ لے جائے۔ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جھوٹا انسان پلٹ
کر اپنی خواہشات کی طرف چلا جاتا ہے، جبکہ نیک انسان کو اللہ کی رحمت کی امید رہتی
ہے، وہ مایوس نہیں ہوتا بلکہ عاجزی وانکساری کے ساتھ اس کے در پر پڑا رہتا ہے۔ (مدارج السالکین)
رمضان کے بعد ہمیں اپنی ایمانی اور روحانی کیفیت
پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا حال بھی یحییٰ بن معاذ
رحمہ اللہ کے اس قول کے مطابق ہو جائے، جس میں وہ فرماتے ہیں:”عمل سراب جیسا، دل
تقویٰ سے خالی، گناہ ریت کے ذروں کے برابر، اور پھر بھی جنت کی امید! افسوس! تم بغیر
شراب کے مدہوش ہو؛ کاش تم اپنی امید کو عمل میں بدل لیتے، اپنی موت کو یاد کر لیتے
اور اپنی خواہشات کے خلاف کھڑے ہو جاتے“۔ (تاریخ بغداد للخطیب البغدادی)
نیکیوں پر ثابت قدمی کیسے حاصل ہو؟
انسان کا نفس پرجوش ہوتا ہے، اس میں رغبت پیدا
ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی سستی اور کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جب
دل میں نیکی کا جذبہ پیدا ہو تو اسے سنبھالا جائے، اور جب سستی آئے تو خود کو
سنبھال کر اپنے نفس کو دوبارہ راستے پر لایا جائے۔اس لیے ہمیں صرف رمضان کا عبادت
گزار نہیں بننا چاہیے، اللہ تعالیٰ صرف رمضان ہی کا نہیں بلکہ شوال اور تمام مہینوں
کا رب ہے۔ لہٰذا رمضان میں بھی اور رمضان کے بعد بھی ہمیں اپنے نفس کو نیکیوں پر
قائم رکھنے پر توجہ دینا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”إذا أرادَ اللہُ بعبدٍ خیرًا
استعمَلَہُ، قِیلَ: وما یَستعمِلُہُ؟ قال: یفتَحُ لہُ عملًا صالحًا بین یدَیْ
موتِہ حتی یرضَی علیہ مَنْ حَوْلَہُ“
(جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا
ہے تو اسے نیک عمل کی توفیق دیتا ہے، یعنی اس کی موت سے پہلے اسے ایسا عمل نصیب
کرتا ہے جس سے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں)۔
رمضان کے بعد نیک اعمال پر ثابت قدم رہنے کے چند اہم
طریقے:
۱- نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، ان کی زندگیوں سے
سیکھنا اور ذکر کی مجلسوں میں شریک ہونا، کیونکہ ذکر کی مجلسیں بندہ مومن کے دل میں
ہمت اور عزم پیدا کرتی ہیں۔
۲- پانچوں نمازوں کی پابندی، خصوصاً مسجد میں ادا
کرنا، روزانہ قرآن کا کچھ حصہ سمجھ کر پڑھنا اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا۔
۳- اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگنا، اسی پر بھروسہ
رکھنا، ثابت قدمی کی دعا کرتے رہنا، اور برے ماحول، گناہوں، لغو باتوں اور وقت کے
ضیاع سے بچنا۔
نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب
سے زیادہ محبوب عمل کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلسل ہو چاہے کم ہی کیوں نہ ہو“
(سئل علیہ الصلاۃ والسلام أیُّ العملِ أحَبُّ إلی اللہِ؟ قال:
أدْومُہ وإن قَلَّ)۔
بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی یہ وصیت ہے کہ وہ
موت تک ثابت قدم رہیں اور نیک اعمال کو جاری رکھیں، فرمایا: (وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ
الْیَقِینُ)۔
ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں اس کی بہترین مثالیں
ملتی ہیں: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نمازِ ضحیٰ کی پابندی کرتی تھیں اور کہتی
تھیں کہ اگر میرے والدین بھی زندہ ہو جائیں تو بھی میں اسے نہ چھوڑوں، حضرت بلال
رضی اللہ عنہ وضو کے بعد دو رکعتوں کا اہتمام کرتے تھے، اور حضرت سعید بن المسیبؓ
پچاس سال تک تکبیرِ اولیٰ سے محروم نہ ہوئے۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں
آتا ہے کہ عاصم بن بیہقی نے ان کے ہاں ایک رات گزاری، انہوں نے امام احمدؒ کے لیے
پانی رکھا، مگر صبح دیکھا تو پانی ویسا ہی تھا، تو فرمایا: سبحان اللہ! کیا انسان
ہے، جس نے علم کی طلب کو پوری رات کا ورد بنادیا۔ (سیر أعلام النبلاء)
رمضان کے بعد سلفِ صالحین کا حال:
سلف صالحین کے نزدیک رمضان کے بابرکت مہینے کی بڑی
قدر تھی، معلّٰی بن فضل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ”وہ چھ ماہ اللہ تعالیٰ سے دعا
کرتے رہتے کہ انہیں رمضان نصیب ہو، اور پھر رمضان گزارنے کے چھ ماہ بعد تک یہ دعا
کرتے کہ ان کے اعمال قبول ہو جائیں“۔یوں ان کی پوری زندگی رمضان کے گرد گھومتی تھی؛
کبھی رمضان کے استقبال اور اس کی گھڑیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی فکر، اور کبھی
اس کی قبولیت کے لیے دعا و گریہ۔ یہ دراصل روزے اور اس مبارک مہینے کی حقیقت کو
گہرائی سے سمجھنے کا نتیجہ تھا۔حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہر وہ دن جس میں
اللہ کی نافرمانی نہ ہو، وہی عید ہے؛ مؤمن کے لیے ہر وہ دن عید ہے جو وہ اپنے رب کی
اطاعت، ذکر اور شکر میں گزارے“۔(لطائف المعارف)
سلفِ صالحین کی زندگیوں میں اللہ کی اطاعت، عبادت
اور ذکر کا ایسا شوق اور لگن دکھائی دیتا تھا کہ رمضان کے ختم ہونے پر بعض کے
چہروں پر اداسی چھا جاتی۔ جب ان سے کہا جاتا کہ یہ تو خوشی کا دن ہے، تو وہ جواب دیتے:”تمہاری
بات درست ہے، مگر میں ایک ایسا بندہ ہوں جسے میرے رب نے عمل کا حکم دیا تھا اور
مجھے نہیں معلوم کہ وہ قبول ہوا یا نہیں“۔وہیب بن الورد رحمہ اللہ نے عید کے دن
لوگوں کو ہنستے دیکھا تو فرمایا:”اگر ان کے روزے قبول ہو گئے ہیں تو یہ شکر گزاروں
کا طریقہ نہیں، اور اگر قبول نہیں ہوئے تو یہ ڈرنے والوں کا انداز نہیں“۔ (شعب الایمان
للبیہقی)
کسی شاعر نے عید کی حقیقت کو یوں بیان کیا:
لیس عید المحب قصد المصلی
وانتظار الأمیر والسلطان
إنما العید أن تکون لدی اللہ
کریما مقربا
وانفی أمان
(اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے کی عید یہ نہیں
کہ وہ بس عیدگاہ چلے جائے یا کسی حاکم کے انتظار میں رہے، بلکہ اصل عید یہ ہے کہ
وہ حقیقی معنوں میں اللہ کے نزدیک معزز، مقرب اور امن میں ہو)۔
ایک شخص عید کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس
آیا اور دیکھا کہ آپ ؓ خشک روٹی تناول فرما رہے ہیں۔ اس نے پوچھا: اے امیر المؤمنین!
آج عید کا دن ہے اور آپ یہ سادہ غذا؟ فرمایا: آج عید اس کی ہے جس کا روزہ اور قیام
قبول ہو گیا، جس کے گناہ معاف ہو گئے اور جس کی محنت قبول ہو گئی۔ آج بھی ہمارے لیے
عید ہے اور کل بھی، بلکہ ہر وہ دن عید ہے جس میں اللہ کی نافرمانی نہ ہو۔(صید
الفوائد۔ایمن الشعبان)حضرت وکیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عید کے دن سفیان
ثوری رحمہ اللہ کے ساتھ نکلے تو انہوں نے فرمایا:”آج کے دن ہم سب سے پہلے اپنی
نگاہوں کی حفاظت کریں گے“۔ (الورع لابن ابی الدنیا)
بعض اہلِ دل کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ عید کی
رات اپنے حال پر یوں گریہ کرتے تھے:
بحرمۃ غربتی کم ذا
الصدود ألا تعطف علیَّ ألا تجود
سرور العید قد عم النواحی وحزنی فی ازدیاد لا یبید
فإن کنت اقترفت خلال
سوء فعذری فی الہوی أن لا أعود
(میری بے بسی پر کب تک یہ بے رخی؟ کیا مجھ پر بھی
نظرِ کرم ہوگی؟ ہر طرف عید کی خوشی ہے، مگر میرا غم کم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اگر
مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہے تو میرا عذر یہی ہے کہ میں اب اس کی طرف نہیں لوٹوں گا)۔
بعض بزرگان دین کہتے ہیں کہ ہم نے ایسے لوگوں کو
دیکھا جن کے اعمال میں رمضان کے آنے سے کوئی اضافہ نہیں ہوتا تھا اور نہ اس کے
جانے سے کوئی کمی؛ یعنی وہ ہر حال میں عبادت اور نیکی پر ثابت قدم رہتے تھے۔ (مجلۃ
الفرقان- دولۃ الکویت) ایک دن عید سے پہلے
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی بیٹیوں نے کہا:”ابا جان! ہمارے پاس عید کے لیے نئے کپڑے
نہیں۔ انہوں نے فرمایا: بیٹیو! عید نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں، بلکہ عید اس کی ہے
جو اللہ سے ڈرتا ہو“۔(عمر بن عبدالعزیز – دکتور محمد جمعہ الحلبوسی)۔ایک دن حضرت
عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے بیٹے کو عید کے دن سادہ کپڑوں میں دیکھا تو رو پڑے۔ بیٹے
نے پوچھا: ابا جان! کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا: ڈرتا ہوں کہ تم بچوں کے پاس جاؤ گے
تو دل ٹوٹ جائے گا۔ بیٹے نے کہا: دل تو اس کا ٹوٹتا ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے۔
مجھے امید ہے کہ اللہ مجھ سے راضی ہوگا کیونکہ آپ مجھ سے راضی ہیں۔ یہ سن کر
عمرؒ بن عبدالعزیز نے اسے سینے سے لگایا
اور دعا دی۔
قتادہ
رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس کی رمضان میں مغفرت نہ ہوئی، اس کی پھر مغفرت کب ہوگی؟ (شرح کتاب وظائف رمضان)
انس بن مالکؓ فرماتے ہیں:”مومن کے لیے پانچ عیدیں
ہیں؛ ہر وہ دن جس میں وہ گناہ سے بچا رہے، وہ عید ہے؛ جس دن وہ ایمان کے ساتھ دنیا
سے جائے، وہ اس کی عید ہے؛ جب پل صراط سے گزر جائے، وہ عید ہے؛ جب جنت میں داخل ہو
وہ اس کے لیے عید ہے؛ اور جب اپنے رب کا دیدار کرے، وہ مومن کی سب سے بڑی عید ہے“۔
رمضان کی عبادتیں سعادت کی کنجیاں ہیں:
رمضان بابرکت اور عظیم مہینہ ہے، جس کا ہر لمحہ خیر
وبرکت سے پرُ ہے۔ اس مہینے میں اسلام کے اہم اعمال اور عبادتیں جمع ہو جاتے ہیں،
اور یہ انسان کے لیے سعادت کی تمام کنجیوں کا خزانہ بن جاتا ہے۔ اس مہینے میں توحید
و ایمان، صبر و تقویٰ، طہارت و صدقہ، شکر و محبت اور اخلاص و سچائی کی عملی تربیت
ہوتی ہے۔
ابن القیم
رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک کنجی مقرر کی ہے؛ نماز
کی کنجی طہارت ہے، حج کی کنجی احرام ہے، نیکی کی کنجی سچائی ہے، جنت کی کنجی توحید
ہے، علم کی کنجی اچھا سوال اور غور سے سننا ہے، کامیابی کی کنجی صبر ہے، رزق اور
علم میں زیادتی کی کنجی شکر ہے اور اللہ کی قربت کی کنجی محبت ہے“۔چونکہ رمضان ان
تمام خوبیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، اس لیے یہ درحقیقت ہر خیر کی کنجی اور
اللہ تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
بلند عزائم:
رمضان میں ہماری کیفیت کچھ اور ہی ہوتی ہے؛ ہم نیکیوں
کی طرف لپکتے ہیں، صدقہ کرتے، قرآن کی تلاوت میں مشغول رہتے، دل مطمئن رہتے، سینے
کھلے ہوتے اور دل اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ رمضان المبارک میں ہماری ہمتیں
پہاڑوں کی چوٹیوں جیسی بلند ہوتی ہیں۔ مگر رمضان کے بعد ہمارا حال بدل جاتا ہے؟
اکثر لوگوں کا یہ جذبہ اور یہ ہمتیں ماند پڑجاتی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کے
بعد ہم میں سے اکثر لوگ کوتاہیوں کا محاسبہ نہیں کرتے، سستی کا شکار ہو کر دوبارہ
غفلت، وقت کے ضیاع اور عبادتوں اور معاملات میں کوتاہی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔لیکن
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی قدر اس کی ہمت کے مطابق ہوتی ہے؛ جس کی ہمت بلند ہو، اس
کا مقام بھی بلند ہوتا ہے۔
شاعر کے بقول
وإذا کانَتِ النّفُوسُ
کِباراً تَعِبَتْ فی مُرادِہا
الأجْسامُ
(اگر ارادے بلند ہوں تو جسم بھی ان کے حصول میں
تھکنے سے نہیں گھبراتا۔)
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے بلند
ہمت وہ ہے جس کی لذت اللہ کی معرفت، اس کی محبت، اس سے ملاقات کی آرزو اور اس کی
رضا کے حصول میں ہو۔ ایسا شخص اپنی تمام تر توجہ اللہ کی طرف لگا دیتا ہے، جبکہ اس
کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی دلچسپی معمولی اور پست چیزوں تک
محدود رہ جاتی ہے۔ (الفوائد)
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کی بلند
ہمت کو دیکھیے،جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:“مجھ سے مانگو”، تو انہوں نے دنیا کی کوئی
چیز نہیں مانگی، بلکہ جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت طلب کرتے ہوئے کہا: مرافقتَکَ فی الجنۃ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اپنی ہمت کو
کبھی کم نہ سمجھو، کیونکہ انسان کو سب سے زیادہ گرانے والی چیز اس کی پست ہمت ہے۔
اس لیے رمضان کے بعد عبادتوں اور حسن معاملات میں اپنی ہمت کو بلند رکھیں، اسے
معمولی اور گھٹیا چیزوں میں ضائع نہ کریں، ورنہ انسان سستی، کمزوری اور ناکامی کا
شکار ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری ہمتوں کو بلند کرے، اخلاص اور استقامت عطا
فرمائے، اور ہمارے اعمال کو قبول فرما کر ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں