اتوار، 22 مارچ، 2026

ramzaan k baad bhi roza

 

§      ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

روزے کی عبادت: رمضان سے آگے بھی جاری سفر


روزہ یہ ہے کہ انسان نیت کے ساتھ طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات سے باز رہے۔ یہی روزہ اسلام میں مقرر کیا گیا ہے اور یہی صورت سابقہ امتوں میں بھی تھی۔ اس کے علاوہ جو کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے وہ دراصل بدلی ہوئی اور گھڑا ہوا عمل  ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ...   ترجمہ: پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں۔

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کے حوصلے کو بلند کرتی ہے، ارادے کو مضبوط بناتی ہے، نفس کو پاک کرتی ہے اور روح کو بلند مقام تک پہنچاتی ہے۔ اس میں انسان اپنی فطری خواہشات، خاص طور پر کھانے اور شہوت کی رغبت کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔ یہی مجاہدہ اسے اپنے نفس پر قابو پانے کے قابل بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  ۔ ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (البقرہ: 183)

روزہ کئی مقاصد کے لیے فرض کیا گیا ہے، جن میں ایک اہم مقصد نفس کی تربیت اور تقوی ہے، تاکہ ایسا انسان تیار ہو جو اپنے نفس پر قابو پا سکے اور دین کے دشمنوں کا مقابلہ کر سکے، خواہ وہ مقابلہ ہتھیار سے ہو یا زبان سے۔رمضان کے روزوں کو درست طریقے سے ادا کرنے کے لیے اسلام نے نفل روزوں کو بطور تمہید رکھا ہے۔ سلفِ امت رمضان سے چھ ماہ پہلے اس کی تیاری شروع کر دیتے تھے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتا تو کم از کم رجب سے آغاز کرتے تھے۔ وہ دل کو تیار کرنے اور نفس کو رمضان کے استقبال کا عادی بنانے کے لیےنفلی روزے رکھتے جیسے کوئی کھلاڑی مقابلے سے پہلے مشق کرتا ہے۔

نفلی روزے سال بھر رکھے جا سکتے ہیں، سوائے چند دنوں کے جن میں روزہ رکھنا منع ہے، جیسے عید کے دونوں دن، ایامِ تشریق (عید الاضحیٰ کے بعد کے تین دن) اور یومِ شک (شعبان کی تیسویں تاریخ)، جس کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے۔

اسلام نے نفلی روزوں کی ترغیب دی ہے اور ان پر بڑا اجر رکھا ہے۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ (یعنی جہاد یا اس کے سفر) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا۔ ]سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2246 [

نفلی اور فرض روزے وقت، مقدار اور طریقے میں ایک جیسے ہیں، فرق صرف نیت کے وقت کا ہے۔ نیت ہر عمل کے لیے ضروری ہے۔ فرض روزے میں نیت رات سے کرنا لازم ہے، جبکہ نفلی روزے میں جمہور کے نزدیک دوپہر سے پہلے تک نیت کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ فجر کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ مالکیہ کے نزدیک نفل میں بھی نیت رات ہی سے ضروری ہے، اور حنابلہ کے نزدیک زوال سے پہلے اور بعد میں بھی نیت کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ مغرب سے پہلے ہو۔ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ نیت اسی وقت درست ہوگی جب آدمی فجر سے روزے کی حالت میں ہو اور اس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو۔

نفلی روزے دو قسم کے ہیں:

نفل مطلق:اس میں مسلمان سال کے کسی بھی دن روزہ رکھ سکتا ہے، سوائے ان دنوں کے جن میں روزہ رکھنا منع ہے۔ البتہ بعض دنوں کو خاص کر کے روزہ رکھنا مکروہ ہے، جیسے صرف جمعہ، ہفتہ یا اتوار۔ ہاں اگر یہ کسی عادت کے مطابق ہو یا یومِ عرفہ یا عاشورہ کے ساتھ آجائے تو جائز ہے۔ افضل ترین نفلی روزہ حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے، یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن چھوڑ دینا۔

نفل مُقَیَّد:یہ وہ روزے ہیں جو کسی خاص حالت یا وقت کے ساتھ متعلق ہوں۔ جیسے وہ نوجوان جو نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اس کے لیے روزہ رکھنا زیادہ ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی خواہشات پر قابو پا سکے۔

اسی طرح نفلی روزے وقت کے اعتبار سے بھی ہوتے ہیں:

ہفتہ وار روزے:پیر اور جمعرات کے روزے۔ نبی کریم ﷺ ان دنوں کا اہتمام کرتے تھے اور فرمایا کہ ان دنوں اعمال اللہ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔( إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ)  ]سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2436 [

ماہانہ روزے: ہر مہینے تین دن کے روزے، خاص طور پر تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔( صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ)  ]سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2422[

سالانہ روزے: اس کی کئی صورتیں ہیں، جیسے:

ماہِ محرم  میں کثرت سے روزوں کا اہتمام : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔ (أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم) [رواه مسلم].

اشہرِ حرم  یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب میں کثرت سے روزے رکھنا:  نبی کریم ﷺ نے فرمایا   : حرمت والے مہینوں میں  کچھ روزے رکھو اور کچھ چھوڑ(  صُمْ من الحُرُمِ واتْرُكْ) [رواه أبو داود].

شوال کے چھ روزے: آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے  نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے  رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے۔ (من صام رمضان ثم أتبعه ستًّا من شوال، كان كصيام الدهر)[رواه مسلم].)

یومِ عرفہ اور عاشورہ کے روزے  :

آپ ﷺ نے فرمایا عرفہ کے دن کا روزہ، مجھے اللہ سے امید ہے کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی، اور یوم عاشورہ کا روزہ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔

صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفِّر السنة التي قبله، والسنة التي بعده، وصيام يوم عاشوراء أحتسب على الله أن يكفِّر السنة التي قبله))؛ [رواه مسلم].)

ماہِ شعبان  میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھنا: حضرت عائشہ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺکو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ، آپ شعبان کے سارے روزے رکھتے ، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے ہی شعبان روزے رکھتے تھے ۔( كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يُفطر، ويُفطر حتى نقول لا يصوم، فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر إلا رمضان، وما رأيته أكثر صيامًا منه في شعبان، كان يصوم شعبان كله، كان يصوم شعبان إلا قليلًا) [رواه البخاري ومسلم].

جو شخص پورا سال نفلی روزے رکھنا چاہے، اس کے لیے بھی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ ممنوعہ دنوں میں روزہ نہ رکھے اور اس کی صحت یا ذمہ داریوں پر اس کا برا اثر نہ پڑے۔ والله اعلم ونسأل الله تعالى أن يوفقنا لكل خير

 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ramzaan k baad bhi roza

  §       ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی روزے کی عبادت: رمضان سے آگے بھی جاری سفر روزہ یہ ہے کہ انسان نیت کے ساتھ طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھان...