اتوار، 20 جولائی، 2025

 

از قلم: ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

شیخ عبدالوہاب حلبی ندویؒ

جنوبی کوریا کا آفتابِ علم و دعوت غروب ہو گیا

19 جولائی 2025ء بمطابق 24 محرم 1447ھ، عالمِ اسلام کے افق پر ایک ایسا غمناک دن طلوع ہوا جس نے ہر صاحبِ دل کو سوگوار کردیا۔ علم و عمل، اخلاص و ایثار اور دعوت و جہاد کے روشن مینار داعیِ اسلام ڈاکٹر شیخ عبدالوہاب بن الشیخ زاہد الحق الحلبی الندوی رحمہ اللہ 84 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔  شیخ عبدالوہاب حلبی  ندوی ؒگزشتہ چالیس برسوں سے جنوبی کوریا میں دعوت اسلام کا عظیم کام انجام دے رہے تھے، وہ علامہ سید ابوالحسن علی ندوی کے شاگرد خاص اور الموسوعۃ الفقہیہ پروجیکٹ کے رکن تھے۔

سن 1941ء میں شام کے تاریخی شہر حلب میں آنکھ کھولنے والے اس بچے کو شاید یہ علم نہ تھا کہ اللہ تعالٰی اس کے ہاتھ پر  ایک دن مشرق و مغرب کے لوگوں کو نورِ ہدایت سے سرفراز کرے گا۔ شیخ عبدالوہاب کو علم کا ذوق ہندوستان کی سرزمین تک لے آیا، جہاں 1968ء میں وہ علامہ ابوالحسن علی ندویؒ  کے شاگرد بنے ۔ شیخ عبدالوہابؒ خود اعتراف کرتے ہیں:

"شیخ ابو الحسن علی  ندوی نے مجھ پر خصوصی شفقت فرمائی، اور ان کے ہاتھ پر میں نے ابن کثیر کی عظیم تفسیر کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ پھر وہ مجھے دیگر جلیل القدر علماء کے سپرد کرتے گئے۔"

چنانچہ شیخ عبدالوہاب  نے حدیث کی مشہور کتاب "موطأ امام مالک" کو مولانا حبیب اللہ پالامپوریؒ کے حکم پر حفظ کیا، کتبِ ستہ کا درس مولانا محمد اسحاق ندویؒ سے حاصل کیا، اور فقہ میں مفتی محمد ظہور ندویؒ سے اجازت لی۔ ان کا علمی سفر ہندوستان کے علمی مراکز سے ہوتا ہوا دیوبند پہنچا، جہاں انہوں نے شیخ فخر الدین احمد دیوبندیؒ اور مولانا قاری طیبؒ سے علومِ فقہ و تفسیر حاصل کیے۔

شیخ حلبی ندوی نے ہندوستان کے بعد پاکستان کا سفر کیا، جہاں انہوں نے جامعہ کراچی سے ماسٹرز اور سندھ یونیورسٹی سے فقہِ مقارن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران ان کی معروف تصنیف فقہ الأئمۃ الأربعۃ منظرِ عام پر آئی۔ پھر ان کی علمی تشنگی انہیں مصر لے گئی، جہاں انھوں نے جامعہ الأزہر سے کلیۃ أصول الدین میں تعلیم حاصل کی۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب وہ شام کے منبر و محراب کے امین بنے، جامع البختی میں امام و خطیب، محکمہ افتاء میں مدرس، اور عفرین میں مدرسہ شرعیہ کے ناظم رہے۔ ان کے علم و عرفان کی خوشبو مکہ مکرمہ اور طائف کی درسگاہوں تک بھی پہنچی، جہاں جامعہ أم القریٰ اور کلیۃ الشریعہ میں وہ اسلامی فقہ کے پروفیسر رہے۔ اور پھر جامعہ فاروقیہ کراچی میں شعبۂ اعلیٰ تعلیم کے سربراہ مقرر ہوئے۔

شیخ عبدالوہاب حلبی ندوی کی حیات کا سب سے درخشاں باب جنوبی کوریا میں رقم ہوا۔ کویتی وزارتِ اوقاف میں ایک علمی نشست کے دوران جب کوریا میں اسلام کی پیاس کا ذکر آیا تو شیخ عبدالوہابؒ نے بلا تردد عرض کیا:

"میں تیار ہوں! اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں وہاں جانے کے لیے مستعد ہوں۔"

یقین، اخلاص اور توکل کا پیکر یہ مردِ درویش جب کوریا پہنچا، تو کوریائی مسلمانوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ کوریا میں شیخ عبدالوہاب ندوی نے حاجی محمد یون اور صبری سو جیسے ابتدائی مسلمانوں کے ساتھ مل کر دعوتِ دین کا آغاز کیا، اور پھر قمر الدین مون اور سلیمان لی کے ساتھ ایک دعوتی قافلہ تشکیل دیا، جو کوریا کے ہر گوشے میں پیغامِ حق لے کر پہنچا۔

1985ء میں ایک 12 سالہ لڑکے نے جب ان کے خطاب کے بعد کہا: "میں بھی آپ کی طرح مسلمان بننا چاہتا ہوں!" تو وہ لمحہ شیخ کے لیے گویا انعامِ الٰہی بن گیا۔ پھر نہ صرف وہ بچہ مسلمان ہوا بلکہ اس کی ماں بھی، اور ان کے بعد درجنوں  کوریائی شہریوں نے شیخ کے ہاتھ پر کلمہ پڑھا۔

اسی سال جنجو شہر میں ابو بکر صدیق مسجد کی بنیاد رکھی گئی، جس کے پیچھے حاجی عبداللطیف الشریف کی مالی معاونت اور شیخ عبدالوہاب کی خالص نیت کارفرما تھی۔ یہ مسجد جنوبی کوریا میں نہ صرف عبادت گاہ بنی، بلکہ شیخ عبدالوہاب حلبی ندوی ؒ نے اس مسجد کو کوریا میں دعوت اسلام کا ایک عظیم مرکز بنادیا۔

شیخ کے ہاتھوں 732 افراد نے جنجو مسجد میں اسلام قبول کیا، اور ملک بھر میں قائم شدہ 30 مساجد و مصلوں میں ہزاروں کوریائی باشندوں نے نورِ ایمان پایا۔ ان نومسلموں میں سب سے نمایاں نام عمر شن کا ہے، جو پہلے ایک پروٹسٹنٹ چرچ کے پادری تھے۔ اسی طرح ناصو یانگ کا واقعہ بہت زیادہ پراثر ہے، جو شیخ کی حکمت بھری گفتگو سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے اور  اپنا نام مصطفیٰ رکھا۔

11 ستمبر کے بعد جب اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جانے لگا، تو شیخ  عبدالوہاب ؒنے قلم اٹھایا اور "اسلام دینِ سلام" اور "معاملۃ المسلم لغیر المسلم" جیسی کتابیں تحریر کیں اور ان کتابوں کو انہوں نے جنوبی کوریا کے چرچوں، پولیس اسٹیشنوں اور عام شہریوں میں تقسیم کیں۔ ان کا یہ عمل غلط فہمیوں کی فصیلیں گرانے میں مؤثر ثابت ہوا، حتیٰ کہ ان کے اس اقدام کے بعد شدت پسند عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد خود مسلمان ہوگئی۔

عربی، انگریزی اور کوریائی زبانوں میں 30 سے زائد کتابوں کی تصنیف کے ذریعے شیخ عبدالوہاب  حلبی ندوی ؒ نے علم و ہدایت کے سوتے جاری رکھے۔ وہ داعی بھی تھے، معلم بھی؛ محدث بھی تھے، مفکر بھی اور ایک درویش منش مسافر ت بھی تھے ، جنھوں نے مشرق بعید میں ایمان کا  چراغ جلایا  اور وہاں کے لوگوں کے دلوں کو نور ایمان سے منور کیا۔

 

شیخ ڈاکٹر عبدالوہاب بن الشیخ زاہد الحق الحلبی الندویؒ کی وفات محض ایک شخص کی موت نہیں، بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ان کی علمی اور دعوتی زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ جب اخلاص علم سے جڑ جائے، اور ایمان کی حرارت؛ عملِ  دعوت سے ہم آہنگ ہو جائے، تو اللہ تعالٰی  فردِ واحد کے ذریعے پوری امت کی تقدیر بدل دیتا ہے۔

اللہ رب العزت ان کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی کوششوں کو قبول فرمائے، اور ان کے قائم کردہ چراغوں کو قیامت تک روشن رکھے۔إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...