از قلم : ڈاکٹر
مبصرالرحمن قاسمی
شیخ القراء مسجد
نبوی شریف
شیخ بشیر احمد
صدیق رحمہ اللہ کی وفات
(ہندوستان سے مدینہ منورہ تک کا سفر)
2 اکتوبر
2025 بروز
جمعرات کی صبحِ دمِ فجر، مدینہ منورہ کی مقدس فضا میں مسجد نبوی کے شیخ القراء، شیخ
بشير أحمد صديق (رحمہ الله) کی روح اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ نمازِ فجر بعد روضۂ
اقدس کے جوار میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، اور اہل علم، طلبہ و محبین کی ایک
بڑی جماعت نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ انہیں جنت البقیع کے پاکیزہ احباب صحابہ کرام
و تابعین کے پہلو میں سپردِ خاک کیا۔
ابتدائی
تعلیم:
شیخ بشير أحمد صديق کا تعلق ماقبل
تقسیم برصغیر کے خطہ پنجاب (مظفر گڑھ) کی بستی "لیہ" سے تھا، جہاں وہ
1357ھ / 1938ء میں پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حسنِ صوت، ذکاوتِ ذہن اور حفظ
و اتقان کی غیرمعمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ بچپن ہی میں قرآن مجید کو حفظ کر لیا
اور "حفص عن عاصم" میں مہارت حاصل کی۔ پھر علم القراءات کی وادیوں میں
قدم رکھا اور لاہور و کراچی کی عظیم درسگاہوں سے قراءات سبع و عشر کی تکمیل کی۔ اس
سفر میں انہیں ایسے جلیل القدر شیوخ کی صحبت نصیب ہوئی جن میں الشيخ عبد العزيز
الشوقي، الشيخ فتح محمد الفانيفتي، الشيخ حسن إبراهيم الشاعر اور شیخ القراء
بالشام حسین خطاب شامل ہیں۔
ہجرتِ مدینہ
و تدریس:
علم کا یہ پیکر 1385ھ میں شوقِ مدینہ
لیے، حرمِ نبوی کے پہلو میں آن پہنچا۔ جلد ہی اسے تدریس کے منصب پر فائز کر دیا
گیا۔ 1387ھ میں معهد القراءات بالمدینۃ المنورة میں مدرس مقرر ہوئے، پھر اس کے
مدیر بنائے گئے۔ نصف صدی سے زیادہ مدت تک وہ مسجد نبوی میں درس دیتے رہے۔ ان کے
حلقہ درس سے دنیا بھر کے طالبان علوم قرآن نے استفادہ کیا۔
علمی مقام و
خدمات:
شیخ بشير أحمد صديق کی شہرت محض مدرس
اور محدث قرآن کی نہ تھی بلکہ وہ ایک مرجع علمی تھے، جن کے سامنے قراءات کے
مشکل مسائل حل ہوتے تھے۔ ان کا خاص امتیاز ضبطِ اسانید اور دقتِ تعلیم تھا۔ انہوں
نے روایت و درایت دونوں کو جمع کیا۔ انہوں نے نہ صرف مدینہ منورہ میں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک (مغرب،
مشرق وسطیٰ، یورپ، افریقہ) میں بھی قرآنی مدارس کا جائزہ لیا اور قراء کی تصحیح
کی۔ کئی بار مراکش کے شاہی قصر میں رمضان المبارک میں تلاوت کے لیے مدعو کیے گئے۔
تلامذہ :
شیخ بشیر احمد صدیق کے حلقہ درس سے
عظیم قراء کرام کا ایک قافلہ تیار ہوا، جس
نے عالمِ اسلام میں قراءات کی خدمت کو آگے بڑھایا۔ انہی میں دو جلیل القدر ائمہ
حرم شیخ محمد ایوبؒ امام مسجد نبوی اور شیخ علی الجابرؒ جیسے نامور
شخصیات ہیں جنہوں نے خدمت قرآن کریم میں عالمی شہرت حاصل کی۔ اس کے ہند و پاک،
مغرب و الجزائر، مصر و شام سے لے کر جزائر الشرق تک درجنوں ممتاز قراء اور علماء
کرام نے ان کے حلقہ درس سے استفادہ کیا۔
تصانیف :
شیخ بشیر احمد صدیق ؒ نے علم القراءات
میں کئی گراں قدر تالیفات پیش کیں، جن میں:
1. أوضح المعالم في قراءة الإمام عاصم بروایۃ
شعبہ
2. جامع المنافع في قراءة الإمام نافع
بروايتي قالون وورش
اہم ہیں۔ اسی طرح انہوں نے قرآن کریم
کو مختلف روایات (خصوصاً ورش عن نافع) پر ریکارڈ بھی کروایا، جو آج محفوظ ہے۔
اللهم اجزه عن القرآن وأهله خير الجزاء، واجعل قبره روضة من
رياض الجنة، وارفع درجته في عليين مع النبيين والصديقين والشهداء والصالحين، وحسن
أولئك رفيقًا.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں