از قلم۔ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی
شیخ محمد عبداللہ المقرمی کون تھے؟
(26
نومبر بروز بدھ کو مکہ مکرمہ میں شیخ محمد عبداللہ المقرمی کا انتقال ہوگیا،
شیخ محمد عبداللہ المقرمی تدبر قرآن کے ایک مشہور داعی تھے اور وہ متعدد برسوں سے اس میدان میں کام کررہے
تھے۔)
یمن کے شہر تعز کی وہ سرزمین، جو بلند
پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور روح پرور فضاؤں کا حسین امتزاج ہے، اپنے دامن میں ایسے
نابغۂ روزگار افراد پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے علم و عمل کی دنیا میں نمایاں نقوش
چھوڑے۔ انہی میں ایک روشن مثال شیخ محمد عبداللہ المقرمی کی ہے، جو تعز کے عزلہ
المقارمہ میں پیدا ہوئے اور جنہوں نے جدید علوم اور دینی معرفت کے سنگم پر ایک
نادر و مثالی شخصیت کے طور پر شہرت پائی۔
شیخ مقرمی ؒ نے الیکٹرک انجینئرنگ میں
بیچلر کی ڈگری کے ساتھ ساتھ متعدد اعلیٰ ڈپلومے اور تربیتی کورسز مکمل کیے تھے،
ساتھ ہی ریاضی اور فزکس میں انھیں گہری مہارت حاصل تھی۔ انگریزی زبان پر بھی وہ
غیر معمولی دسترس رکھتے تھے۔ مگر یہ تمام علوم ان کے نزدیک اصل مقصود نہیں تھے،
بلکہ ایک وسیلہ تھے اس وسیلے کے ذریعے وہ اس روحانی و فکری مقام تک پہنچے جس نے ان
کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
دعوت و تدریس کی طرف ان کا سفر کسی
اچانک تحریک کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ یہ برسوں کی خلوت، خود احتسابی اور قرآن و سنت
کے گہرے مطالعے کا حاصل تھا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کی صلاحیتوں کا بہترین
مصرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں، ان کے دلوں میں توحید، یقین، اخلاق
اور اللہ سے قربت کا نور بکھیر دیں۔
ان کی پوری دعوت کا محور ایک متوازن
اور فطری دین تھا، نہ غلو، نہ جبر، نہ اندھی تقلید؛ صرف خالص توحید، عبادت کی روح،
زہد، اور عقل و بصیرت کا حسین امتزاج۔
وہ کہا کرتے تھے:
“داعی کو سب سے پہلے خود وہ راستہ
اختیار کرنا چاہیے جس کی طرف وہ دوسروں کو بلاتا ہے۔”
شیخ مقرميؒ کی شخصیت میں تواضع، حکمت،
قلبی شفقت اور گہری بصیرت نمایاں تھی۔ عورت کے احترام اور خاندان کی تربیت پر وہ
غیر معمولی زور دیتے تھے۔
انہوں نے قرآن کی تدریس، ایمانی
موضوعات پر لیکچرز اور اصلاحی بیانات سے دعوت کا آغاز کیا۔ ان کی آواز مقامی
منبروں سے نکل کر آہستہ آہستہ ڈیجیٹل دنیا تک پہنچی۔ یمنی وزارتِ اوقاف کے مشہور
پروگرام "یمانیون حول الرسول" میں ان کی شرکت نے انھیں ہر گھر میں
متعارف کرا دیا۔
مکہ مکرمہ میں اپنے آخری برسوں کے
دوران انھوں نے تدبرِ قرآن کا ایک منظم اور منفرد منہج پیش کیا جسے علمی حلقوں میں
غیر معمولی پذیرائی ملی۔ ان کے نزدیک تدبرِ قرآن ایک ترتیب وار عمل ہے جسے وہ
مختصرا یوں بیان کیا کرتے تھے۔
نظر → تأمل → اعتبار → استبصار → تدبر
اور تدبر کی سب سے جامع تعریف وہ یوں
کرتے تھے:
“عواقبِ امور میں نظر کرنا۔”
وہ "موضوعی قرآنی مطالعے"
پر زور دیتے اور کہتے کہ دورِ حاضر کا سب سے بڑا ذہنی مرض "عِلَّةُ الشَّتات" ہے یعنی ذہن کا ایک چینل سے دوسرے اور
ایک ایپ سے دوسری پر بھٹکنا۔ اس کا علاج وہ "قرآنی موضوعات" میں دیکھتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ایک
موضوع کی تمام آیات کو جمع کرو، ربط قائم کرو، اور ذہنی انتشار ختم کرو۔ انھوں نے
قرآن کی روشنی میں انسان کی تربیت کا ایک تدریجی خاکہ مرتب کیا:
انسانِ مکلف → مسلم (جو کسی کو اذیت نہ دے) → مؤمن (جو نفع پہنچائے) → متقی → محسن
ان کے مطابق یہ سفر جست لگانے سے
نہیں، بلکہ مسلسل تربیت سے طے ہوتا ہے۔ قرآن کو وہ "کتابُ ذِکرِ الانسان" کہتے تھے یعنی وہ کتاب جو انسان کی
تعمیر کرتی ہے۔
مغربی تصورِ قلت (Theory of Scarcity) کو وہ "اللہ کی شان میں
بدگمانی" قرار دیتے تھے۔ ان کے بقول:
“رزق مدبّر
ہے، مکفول ہے۔ ایک روٹی میں شامل دانہ بھی اپنے مقررہ نصیب کے ساتھ آتا ہے۔”
وہ "أنا فعلت" یا "أنا
سعيت" جیسے جملوں کو غفلت سمجھتے تھے اور سورۃ الکہف کے قصے سے مثال دیتے تھے۔
ان کا پیش کردہ چار نکاتی فریم ورک
فیصلہ سازی کے لیے ایک مکمل اصولی نظام ہے:
1.
نیت درست کرو
2.
مکمل غور و فکر کرو
3.
اہلِ خبرہ سے مشورہ لو
4.
عزم کے بعد استخارہ کرو
پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو۔ وہ حضرت ہاجرہؓ،
حضرت ام موسیٰؓ اور حضرت یوسفؑ کے واقعات سے استدلال کرتے اور کہتے: تھے
“جب انسان عاجز ہو کر اللہ کے سپرد ہو
جاتا ہے تو مصیبت منفعت میں بدل جاتی ہے، اور دشمن بھی اس کے لیے کام کرنے لگتا
ہے۔”
آخری برسوں میں وہ مأرب میں ایک عظیم
الشان مسجد کی تعمیر کی نگرانی کر رہے تھے۔ مکہ مکرمہ میں حرم کے قرب میں روزانہ
تدبرِ قرآن کے دروس دیتے اور طلبہ کے دلوں میں قرآن کی محبت راسخ کرتے تھے۔
26 نومبر 2025، جمعرات کے دن اسی مقدس شہر میں وہ
اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان
کے درجات بلند فرمائے ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں