11/12/2025
چالیس برس
زندگی کے چالیس برسوں کو
چند سطروں میں سمیٹا نہیں جاسکتا؛ اس کے لیے تو کئی جلدیں درکار ہیں۔ انسان اس طویل
سفر میں کتنے ہی نشیب و فراز، یادوں، تذکروں، اشخاص، دوستوں، اساتذہ، رشتہ داروں،
جاننے پہچاننے والوں اور موسموں کے بدلتے رنگوں سے گزرتا ہے۔ زندگی کے اس پڑاؤ تک
پہنچنا انسان کی زندگی کا بڑا امتحان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منزل کو نبوت کا
معیار اور انسانی عقل کی پختگی کا نشان قرار دیا گیا ہے۔
آج بروز جمعرات، بعد نماز
ظہر ریڈیو قرآن کریم کے ڈائریکٹر اور کویت یونیورسٹی میں علم نفسیات کے پروفیسر
ڈاکٹر عبدالرحمن اباذراع سے خصوصی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ لگ بھگ نصف گھنٹے تک
گفتگو ہوتی رہی۔ باتوں ہی باتوں میں ڈاکٹر صاحب نے عمر کے متعلق دریافت کیا۔ میں
نے کہا: “چالیس کو عبور کر چکا ہوں۔” یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ آپ کو اس چالیس
سالہ سفر کے بارے میں ضرور لکھنا چاہیے۔ انسان اس طویل سفر میں جن مرحلوں سے گزرتا
ہے، ان میں کئی ایسے واقعات اور پڑاؤ ہوتے ہیں جو آنے والوں کے لیے فائدہ مند
ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ انسان انسان ہی سے سیکھتا ہے۔
پھر ڈاکٹر صاحب نے انسانی
زندگی کے مراحل پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ انسان ابتدائی دس برس میں
بادشاہ کی مانند ہوتا ہے؛ اسے اپنے بارے میں کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی، ہر چیز اسے
دستیاب ملتی ہے، والدین اس کی خدمت کے لیے اپنی زندگی نچھاور کردیتے ہیں۔ پھر گیارہ
سے بیس برس تک وہ ایک ایسے دور میں داخل ہوتا ہے جہاں زندگی کی تعمیر کے خیالات
جنم لیتے ہیں، اور وہ اپنی بساط کے مطابق محنت شروع کردیتا ہے۔ وہ مختلف سطحوں پر
تعلقات قائم کرتا، انہیں نبھانے کی کوشش کرتا اور اپنے مستقبل کے لیے زندگی کا ایک
“محل” تعمیر کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔
لیکن جب وہ اکیس برس سے
آگے کا مرحلہ شروع کرتا ہے تو رفتہ رفتہ دوست، احباب، رشتہ داریاں اور زندگی کی کئی
چیزیں اس سے دور ہونے لگتی ہیں، اور ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، ایک ایسا دور
جہاں اس کی توجہ زیادہ تر مادیات پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ پھر تیس کے بعد ایک اور مرحلہ
شروع ہوتا ہے جس میں انسان سنبھلنے لگتا ہے اور گیارہ سے بیس برس کے دور کے مقاصد
کی طرف دوبارہ پلٹنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور جب وہ چالیس برس کو
پہنچتا ہے تو اپنے آپ کو ذہنی وجسمانی طور پر ایک مکمل انسان کے روپ میں دیکھتا
ہے۔ فیصلوں میں سنجیدگی آجاتی ہے، نگاہوں میں ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے، اللہ کی نعمتوں
کے شکر کا إحساس پیدا ہوتا ہے اور گزشتہ چالیس برسوں کا پورا ریکارڈ اس کے سامنے
کھلا ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں انسان مکمل طریقے سے اس حیثیت میں ہوتا ہے کہ اگر وہ
تھوڑی سی بھی کوشش کرلے تو وہ انسانی زندگی کے مقصد اور اس عظیم کائنات کے بنانے
والے کو پہچان سکتا ہے۔ گویا یہ مرحلہ انسانی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ یا تو
انسان ہدایت کی طرف بڑھتا ہے یا پھر دائمی ضلالت وگمراہی اس کا نصیب ہوتی ہے۔
✍:- مبصر
الرحمن
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں