اتوار، 14 دسمبر، 2025

سورینام میں مسلمان

 از قلم- ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

یہ بات شاید بہت سے مسلمانوں کے لیے، بلکہ ممکن ہے کہ اکثر کے لیے، حیرت کا باعث ہو کہ دنیا کے نقشے پر ایک ملک ایسا بھی ہے جس کا نام سورینام ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہاں مسلمانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد آباد ہے۔ یہی تو ان بھولے بسے مسلمانوں کی اصل محرومی ہے کہ وہ اپنے ہی بھائیوں کی نگاہوں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔

سورینام کہاں واقع ہے؟

سورینام جنوبی امریکہ کے شمال میں، بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر واقع ہے۔ مشرق میں اس کی سرحد فرانسیسی گویانا سے ملتی ہے، مغرب میں ہسپانوی گویانا، جنوب میں برازیل اور شمال میں بحرِ اوقیانوس اس کے دامن کو چھوتا ہے۔ اس کا کل رقبہ ایک لاکھ تریسٹھ ہزار دو سو پینسٹھ مربع کلو میٹر ہے اور اس کا دارالحکومت شہر پاراماریبو ہے۔

اس خطے سے یورپی اقوام کا تعارف نویں صدی ہجری کے اواخر میں ہوا۔ ہسپانویوں نے 898ھ میں، یعنی سقوطِ اندلس کے صرف ایک سال بعد، اس سرزمین کو دریافت کیا اور اپنی پرانی سامراجی روش کے مطابق محض قدم رکھنے پر ہی اس کی ملکیت کا دعویٰ کر بیٹھے اور اسے ’’نصرانی سرزمین‘‘ قرار دے دیا۔ بعد میں انگریزوں اور ہالینڈ والوں کے درمیان اس پر کشمکش رہی، یہاں تک کہ 1078ھ میں ہالینڈ نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، اگرچہ اس سے پہلے انگریز کئی بار اس پر قابض ہو چکے تھے۔ بالآخر 1374ھ میں سورینام کو داخلی خود مختاری ملی اور پھر ہالینڈ اور ڈچ اینٹیلز کے ساتھ ایک اتحاد قائم ہوا۔

سورینام میں مسلمانوں کی آمد

ہالینڈ والوں نے اس سرزمین کو آباد کرنے کے لیے افریقہ سے غلام لا کر بسائے۔ ظلم، استبداد اور ناروا سلوک نے ان غلاموں کو بغاوت پر آمادہ کیا۔ ایک مسلمان کی قیادت میں افریقیوں نے جنگلوں میں پناہ لی اور استعمار کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بالآخر 1172ھ میں ہالینڈ والوں کو ان سے مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ افریقی مسلمان بعد میں ’’جیوکا‘‘ یعنی جنگل کے سیاہ فاموں کے نام سے معروف ہوئے۔

جب یہ شورش تھمی تو ہالینڈ نے اپنی دوسری نوآبادیوں، خصوصاً ہندوستان، چین اور انڈونیشیا سے مزدور لانے شروع کیے۔ اسی دوران شام کے بعض خاندان بھی یہاں آ بسے، یوں مسلمانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔

مسلمانوں کا تناسب

یہ سن کر شاید تعجب ہو، مگر سورینام کی کل آبادی کا تقریباً چالیس فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ایک غیر مسلم اکثریتی ملک میں یہ تناسب غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس اضافے کے چند نمایاں اسباب ہیں:

اوّل: ہر سال بڑی تعداد میں لوگوں کا اسلام قبول کرنا۔


دوم: غیر مسلم آبادی کا ملک سے ہجرت کر جانا۔


سوم: مسلمانوں میں شرحِ پیدائش کا زیادہ ہونا۔

اسی بنا پر سورینام غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کی بلند ترین شرح رکھنے والا ملک شمار ہوتا ہے، اور بعید نہیں کہ آنے والے وقت میں اسے عالمِ اسلام کے ملکوں کی صف میں شمار کیا جائے اور وہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی کا رکن بن جائے۔

مسلم معاشرہ اور اس کے مسائل

ابتدا میں افریقہ سے لائے گئے غلام ہی سورینام کے اولین مسلمان تھے، مگر ظلم، خاندانی انتشار، جہالت، مشقت بھرے کام اور غیر اسلامی ماحول میں پرورش پانے والی نسلوں نے انہیں رفتہ رفتہ معاشرے میں جذب کر دیا، یہاں تک کہ ان کی شناخت مٹتی چلی گئی۔ بعد میں جب انڈونیشیا سے مسلمان مزدور آئے، اور پھر ہندوستان سے ایسے لوگ پہنچے جن کی اکثریت مسلمان تھی، تو یہ آمد سورینام کے لیے گویا نویدِ خیر ثابت ہوئی۔ مساجد آباد ہوئیں، اذان کی صدائیں بلند ہوئیں، اسلامی شعائر آزادی سے ادا ہونے لگے، اور بہت سے افریقی دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آئے۔

ہندوستانی مسلمانوں نے آزادی کے فوراً بعد 1375ھ میں جمعیۃ المسلمین السورینامیۃ (اہلِ سنت والجماعت، فقہ حنفی) کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ انہوں نے بڑی بڑی مساجد تعمیر کیں، ابتدائی و ثانوی مدارس قائم کیے، علماء کی ایک جامع تنظیم بنائی، اور ہندی زبان میں ’’اسلام‘‘ کے نام سے رسالہ شائع کیا۔ دعوت اور دینی سرگرمیوں میں ہندوستانی مسلمان سب سے زیادہ سرگرم سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری طرف جاوہ (انڈونیشیائی) مسلمانوں نے فقہ شافعی پر الاتحاد الاسلامی السورینامی قائم کیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو وہاں کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن گیا۔ مذہبی تعصب اور فقہی گروہ بندی نے دعوتی کوششوں کو نقصان پہنچایا اور ایسی تنظیمیں فرقہ واریت اور باہمی اختلاف کو جنم دینے لگیں، بلکہ کبھی کبھی نزاع کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہیں۔

اس پر مزید یہ کہ قادیانی فتنہ بھی وہاں مسلمانوں کے لیے ایک سنگین آزمائش بن کر کھڑا ہے۔ ان کی تعداد تقریباً دس ہزار بتائی جاتی ہے۔ اپنی گمراہ کن عقائد کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسلمانوں کی وحدت کی راہ میں بھی سخت رکاوٹ ڈالی۔ 1367ھ میں جب ’’اسلامی انجمنِ سورینام‘‘ قائم کی گئی تاکہ حنفیوں اور شافعیوں کے درمیان فقہی تعصب ختم کیا جا سکے، تو قادیانی عناصر اس میں در آئے اور سازشوں کے ذریعے نہ صرف اس انجمن کو ناکام بنا دیا بلکہ اتحادِ امت کی اس کوشش کو بھی خاک میں ملا دیا، جو اس دور افتادہ ملک میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...