=========
میں مسلمانوں کے اخلاق، ان کے رویے اور ان کے طرزِ
زندگی سے بے حد متاثر ہوا-
میں مسلمانوں کو جس انداز میں اپنی زندگی گزارتے
ہوئے دیکھتا تھا، وہ مجھے بہت متاثر کرتا تھا۔ جتنا زیادہ میں انہیں دیکھتا، اتنا
ہی میرے دل میں سوال پیدا ہوتا کہ آخر ان کے پاس ایسا کیا ہے جو انہیں یہ سکون اور
مضبوطی دیتا ہے؟ اور جتنا زیادہ میں مطالعہ کرتا، اتنا ہی میں خود سے یہ پوچھنے
لگتا کہ ان کے عقائد میرے عقائد سے کس طرح مختلف ہیں؟
میرا
نام ڈاکٹر جیرالڈ ڈرکس ہے اور میں امریکہ کی ریاست کنساس سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں
دو بہن بھائیوں میں بڑا ہوں اور کنساس ہی میں پیدا ہوا اور پرورش پائی۔ تعلیم کے
لحاظ سے میں نے ہارورڈ کالج سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی، ہارورڈ ڈیوینٹی اسکول سے
ماسٹر آف ڈیوینٹی، یونیورسٹی آف ڈینور سے چائلڈ کلینیکل سائیکالوجی میں ماسٹرز،
اور وہیں سے کلینیکل سائیکالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
اسلام
سے میرا پہلا تعارف ہارورڈ میں تعلیم کے دوران ہوا، جب میں نے تقابلی مذاہب کا ایک
کورس پڑھا، جسے پروفیسر ولفریڈ کینٹویل اسمتھ پڑھاتے تھے، جو اسلام کے ماہر
تھے۔ اس وقت میں نے اسلام کا مطالعہ تو کیا، مگر اس پر زیادہ توجہ نہ دی، کیونکہ
وہ مجھے میرے اپنے عیسائی عقائد سے خاصا مشابہ محسوس ہوتا تھا۔ میں زیادہ دلچسپی
ایسے مذاہب میں رکھتا تھا جو میرے لیے اجنبی اور مختلف ہوں۔
کئی
سال بعد، میں اور میری اہلیہ عربی نسل کے گھوڑے پال رہے تھے اور ہمیں کچھ پرانے
عربی دستاویزات کا ترجمہ درکار تھا۔ اسی سلسلے میں ہماری ملاقات ڈینور، کولوراڈو
میں رہنے والے ایک عرب مسلمان، جمال، سے ہوئی۔ وہ ہمارے فارم پر آئے، گھوڑے دیکھے
اور ترجمے پر رضامند ہو گئے۔
واپسی
سے پہلے انہوں نے گھڑی دیکھی اور مؤدبانہ انداز میں پوچھا کہ کیا وہ وضو کے لیے
باتھ روم استعمال کر سکتے ہیں۔ پھر انہوں نے فرش پر اخبار بچھایا اور خاموشی سے
نماز ادا کی۔ انہوں نے نہ ہمیں اسلام کی تبلیغ کی اور نہ ہی کوئی بات کی، مگر ان
کا عمل بہت کچھ کہہ گیا۔
اگلے
ایک سال میں جمال نے ہمارے لیے کئی ترجمے کیے۔ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے
لگے۔ انہوں نے ہمیں مزید مسلمان خاندانوں سے متعارف کروایا۔ آہستہ آہستہ ہم غیر
مسلم دوستوں کے مقابلے میں زیادہ وقت اپنے مسلمان دوستوں کے ساتھ گزارنے لگے۔
میں
مسلمانوں کے اخلاق، ان کے رویے اور ان کے طرزِ زندگی سے بے حد متاثر ہوا۔ بغیر
اپنے مسلمان دوستوں کو بتائے، میں نے اپنی لائبریری سے اسلام پر لکھی ہوئی وہ
کتابیں نکالیں جو میں نے برسوں پہلے ہارورڈ میں پڑھی تھیں۔ اس بار میں انہیں کسی
امتحان کے لیے نہیں بلکہ یہ جاننے کے لیے پڑھ رہا تھا کہ میرے مسلمان دوستوں کی
زندگی میں یہ خوبصورتی کہاں سے آتی ہے۔
میں
نے مغربی مصنفین کی لکھی ہوئی اسلام پر کئی کتابیں پڑھیں، اس کے بعد قرآن مجید کے
انگریزی تراجم کا مطالعہ شروع کیا، جن میں عبداللہ یوسف علی اور مارماڈیوک پکتھال
کے تراجم شامل تھے۔ میں کسی ایک ترجمے پر اکتفا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
جوں
جوں میں پڑھتا گیا، میں نے محسوس کیا کہ اسلام کے بنیادی عقائد میرے اپنے عقائد سے
بہت قریب ہیں۔ میں تثلیث پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کو خدا کا بیٹا مانتا تھا، سوائے مجازی معنی کے۔
اس
کے باوجود، میں اپنی عیسائی شناخت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جب کسی نے مجھ سے
پوچھا کہ کیا میں مسلمان ہوں، تو میں فوراً اور شدت سے انکار کر دیتا تھا۔ ایک
ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں جانتا تھا کہ یہ دراصل میرے اپنے اندرونی کشمکش کا
اظہار ہے۔
میں
کہنے لگا کہ میں ایک خدا پر ایمان رکھتا ہوں، حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مانتا
ہوں، لیکن خود کو مسلمان نہیں کہتا۔ رمضان آیا تو میں نے اپنے مسلمان دوستوں کے
ساتھ روزے رکھے۔ میں روزانہ انگریزی میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے لگا۔ میں نے
انگریزی میں کلمہ پڑھا، قرآن کا مطالعہ کیا، مگر پھر بھی خود کو ایک "غیر
معمولی عیسائی" کہتا رہا۔
پھر
میں اور میری اہلیہ مشرقِ وسطیٰ کے سفر پر گئے۔ ہم ایک عرب دوست کے گھر ٹھہرے،
جہاں ان کے رشتہ دار بھی موجود تھے جو انگریزی نہیں جانتے تھے۔ ایک دن ان کے چچا
مجھے ایک فلسطینی مہاجر کیمپ، عمان (اردن) لے گئے۔
وہاں
ایک بزرگ شخص نے مجھے سلام کیا اور عربی میں پوچھا:
"کیا
آپ مسلمان ہیں؟"
اس
لمحے میرے پاس کوئی طویل وضاحت نہیں تھی۔ صرف دو ہی جواب ممکن تھے: ہاں یا نہیں۔
اور
اللہ کے فضل سے میں نے کہا: ہاں۔
اسی
لمحے میں نے اسلام کو اپنی شناخت کے طور پر قبول کرلیا۔
ترجمہ: ڈاکٹر مبصرالرحمن
ڈاکٹر موصوف کی اس کہانی کو ان ہی کی زبانی
سنیے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں