جمعہ، 26 دسمبر، 2025

Jota Nabi ایبوہ نوح

 

گھانا میں جھوٹے نبی کا دعویٰ ٹائیں ٹائیں فِش

از قلم: ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

سوشل میڈیا کے عہد میں سادہ لوح انسانوں کو فریب کا شکار بنانا غیر معمولی حد تک آسان ہو چکا ہے۔ مذہبی جذبات، خوف اور قیامت کے تصورات کو بنیاد بنا کر عوامی ذہن کو یرغمال بنانا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ گھانا میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسی خطرناک رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔

گھانا کا ایک نوجوان، جو خود کو ایبوہ نوح کہلواتا ہے اور نبوت کا دعوے دار ہے، سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک پر غیر معمولی طور پر سرگرم رہا۔ اس نے یہ سنسنی خیز اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ انسانیت کو آنے والے ’’عظیم طوفان‘‘ سے بچانے کے لیے کشتیاں تیار کرے۔ اس نام نہاد نبی کے بقول 25 دسمبر کو پوری دنیا ایک تباہ کن طوفان کی لپیٹ میں آنے والی تھی، جو تین سے چار برس تک مسلسل جاری رہتا، اور اس عذاب سے صرف وہی لوگ نجات پا سکتے تھے جو اس کی تیار کردہ کشتیوں میں سوار ہوتے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی اس نے یہ تاثر دیا کہ وہ پہلے ہی کئی دیوہیکل لکڑی کی کشتیاں تیار کر چکا ہے۔ خوف اور نجات کی امید کے امتزاج نے ایک ہولناک منظر کو جنم دیا اور تقریباً تین لاکھ اسی ہزار افراد مختلف علاقوں سے آ کر ان کشتیوں میں سوار ہونے کی تیاری کرنے لگے۔

چند ہی ہفتوں میں اس نوجوان نے ٹک ٹاک پر دس لاکھ سے زائد فالوورز جمع کر لیے۔ اس نے اس پورے عمل کو ’’دنیا کی ازسرِ نو ترتیب‘‘ کا نام دیا، گویا وہ محض ایک پیش گو نہیں بلکہ عالمی تاریخ کا نیا معمار ہو۔ اس غیر معقول اور غیر سائنسی بیانیے کے باوجود ہزاروں افراد اس فریب کا شکار ہو گئے۔ بعض نے خوف کے زیرِ اثر اپنی جائیدادیں اور گھر فروخت کر دیے، جبکہ کئی لوگوں نے کشتی میں جگہ کی یقین دہانی کے بدلے بھاری رقوم اس جھوٹے نبی کے حوالے کیں۔

جب مقررہ دن آیا اور گھنٹوں کے انتظار کے باوجود طوفان کا کوئی نام و نشان نہ ملا تو ایبوہ نوح نے ایک نئی تاویل پیش کر دی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو ’’راضی کر لیا‘‘ ہے اور کشتیوں کی محدود تعداد کے باعث قیامت کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یہ تاویل اس حقیقت کی غماز ہے کہ جب جھوٹ بے نقاب ہونے لگے تو اس کے محافظ مزید جھوٹ گھڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

یہ جنون محض گھانا تک محدود نہ رہا بلکہ پڑوسی ممالک سے بھی لوگ وہاں پہنچنے لگے۔ بالآخر گھانا کے حکام نے مداخلت کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا، اگرچہ بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔ گرفتاری سے قبل جاری کردہ ایک ویڈیو میں اس نے کہا کہ اگر طوفان نہ آیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خدا نے انسانوں کو معاف کر دیا ہے، اور اس ’’بخشش‘‘ کے جشن کے لیے ایک بڑی تقریب منعقد کی جائے گی یعنی ناکامی کو بھی کامیابی میں بدلنے کی ایک اور چال۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس جھوٹے نبی نے ایک خاص قسم کا ٹاٹ کا لباس بھی ڈیزائن کر رکھا تھا، جسے وہ اپنے پیروکاروں کو توبہ کی علامت کے طور پر عنایت کرتا تھا۔

اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کی اس طرح کے فتنوں سے حفاظت فرمائے۔

آخری نبی حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لا چکے ہیں۔ اب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے ہماری زمین پر اللہ کے حکم سے نازل ہوں گے، اور وہ نبی نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے امتی بن کر آئیں گے۔ اب کوئی طوفانِ نوح نہیں آئے گا، بلکہ قیامت کی تمام علامتیں اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں بتا دی ہیں، جن کی مکمل تفصیلات صحیح احادیث میں موجود ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=WRN9tyCz_-8

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...