پیر، 22 دسمبر، 2025

عربی زبان کی بولیاں

:- ڈاکٹر مبصر الرحمن قاسمی

عربی زبان کے الگ الگ لہجے

(عربی زبان کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک خاص تحریر)

==========

عربی زبان کی اصل تو ایک ہی ہے، لیکن اس کے لہجوں کی شاخیں بے شمار ہیں۔ آپ عرب دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کریں تو فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہاں کی بولیاں ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہیں۔ یہ فرق صرف روزمرہ گفتگو تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ عرب دنیا میں علاقوں کے بدلنے کے ساتھ لہجوں کا بدل جانا یہ ایک قدیم حقیقت ہے جسے علماء نے صدیوں پہلے اس وقت ہی محفوظ کر لیا تھا، جب عربوں نے زبان کے اصول و قواعد اور مختلف قبائل کے لہجوں کو باقاعدہ طور پر قلم بند کرنا شروع کیا۔

عربی زبان کا ہر لہجہ اپنی مخصوص لسانی خصوصیات کے باعث دوسرے لہجے سے جدا ہوتا ہے۔ کہیں کسی حرف کی جگہ دوسرا حرف استعمال ہوتا ہے، کہیں کسی اضافی حرف کا اضافہ ہو جاتا ہے، اور کہیں الفاظ یا افعال کی شکل ہی بنیادی طور پر بدل جاتی ہے۔

ذیل میں ہم نے فصیح عربی زبان کے چند نمایاں لہجوں کا تعارف پیش کیا ہے، جس کے لیے بنیادی طور پر مصری ادیب مصطفیٰ صادق الرافعی کی معروف کتاب "تاریخِ ادبِ عربی" سے رہنمائی لی گئی ہے۔ فصیح عربی کے علاوہ عامی لہجے مزید مختلف ہیں۔ جن میں مصری لہجہ، مغاربی لہجہ، عراقی لہجہ، شامی لہجہ اور خلیجی لہجہ شامل ہیں۔

 

1- کشکشہ:

اس میں فعل کے آخر میں آنے والے حرف (ک)کے ساتھ (ش) کا اضافہ کیا جاتا ہے، تاکہ تانیث کی طرف اشارہ ہو۔ اس لہجے کی اصل عرب قبائل مضر اور ربیعہ سے جا ملتی ہے۔یہ لسانی انداز بنیادی طور پر عراق میں پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ بعض خلیجی علاقوں سمیت شام اور اردن کے بعض حصوں میں بھی رائج ہے۔

مثالیں:

رأيتك رأيتكش

عليك عليكش

 

2- - کَسکَسہ:

اس میں فعل کے آخر میں آنے والے حرف (ک)کے ساتھ (س) کا اضافہ کیا جاتا ہے، یا اسے (س) میں بدل دیا جاتا ہے، تاکہ تانیث (مونث ہونے) کا مفہوم ظاہر ہو۔ بعض صورتوں میں (ک)کو (تس) میں بھی بدل دیا جاتا ہے۔ اس لہجے کی اصل عرب قبائل بکر بن وائل اور ہوازن سے منسوب ہے۔یہ لہجہ آج بھی زندہ ہے اور خلیج عرب کے بعض علاقوں میں بولاجاتا ہے، خصوصاً سعودی عرب کے نجد کے چند حصوں اور خاص طور پر منطقۂ قصیم میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔

مثالیں:

عليك عليس / عليتس

بك بس / بتس

 

3- شَنشَنہ:

اس میں لفظ کے آخر میں آنے والا حرف (ک)، خواہ مذکر کے لیے ہو یا مؤنث کے لیے، (ش) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ لہجہ آج بھی یمن اور جنوبی سعودی عرب میں رائج ہے۔

مثال:

لبيك اللهم لبيك  کو  لبيش اللهم لبيش

 

4- عَنعَنہ:

اس میں لفظ کے شروع میں آنے والی ہمزہ کو (ع)میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس کی اصل عرب قبائل تمیم اور قیس سے منسوب ہے۔ یہ انداز گفتگو آج بھی شمالی سعودی عرب، جنوبی اردن، اور مصر کے صعید اور نوبہ کے بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

مثالیں:

أنك  کو عنك

أسلم کو عسلم

سأل کو سعل

لا کو لع

 

5-فَحفَحہ:

اس میں حرف (ح) کو (ع) میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس لہجے کی اصل عرب قبیلہ ہُذَیل سے منسوب ہے۔ یہ لہجہ آج بھی جزیرۂ عرب کے جنوبی علاقوں کے بعض حصوں میں پایا جاتا ہے۔

مثالیں:

 حلت الحياة لكل حي کو علت العياة لكل عي

حتى کو عتى

 

6- عَجعَجَہ:

اس میں مشدد یاء کو (ج) میں بدل دیا جاتا ہے، یا اس کے برعکس ج کو یاء میں۔ اس لہجے کی اصل عرب قبیلہ قُضاعہ سے منسوب ہے۔ یہ انداز آج بھی کویت اور خلیج عرب کے بعض علاقوں میں رائج ہے۔

مثالیں:

أبو علي أبو علج

بالعشي بالعشج

اسی کی ایک الٹی صورت بھی پائی جاتی ہے، یعنی ج کو یاء میں بدل دینا۔ یہ انداز کبھی کبھار مصر میں بعض الفاظ میں سننے کو ملتا ہے، جیسے لفظ “أوي” جس کی اصل “أوج” (یعنی چوٹی) ہے، یا مسجد کو مسيد کہنا۔

 

7- وَتم:

اس میں حرف (س) کو (ت) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ لہجہ بعض یمنی قبائل میں استعمال ہوتا ہے۔

مثالیں:

الناس النات

مات ماس

 

8- لَخلَخانیہ:

اس میں کسی حرف کو حذف کر دیا جاتا ہے یا اسے اس کے بعد آنے والے حرف میں ملا دیا جاتا ہے۔ اس انداز کو عمان اور یمن کے علاقے الشِّحر کے لوگوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔

مثالیں:

في أمان الله فمان الله

ما شاء الله مشالله

 

9- قَطعَہ:

اس میں لفظ کو مکمل ادا کرنے سے پہلے ہی کاٹ دیا جاتا ہے، یعنی کلام کے آخر کا حرف گرا دیا جاتا ہے۔ اس لہجے کی اصل قبیلہ طَیِّء سے ملتی ہے۔ یہ انداز مصر میں بھی بعض الفاظ میں نظر آتا ہے۔

مثالیں:

يا ولد يا ولا

مساء الخير مسا الخير

 

يا أبا الحكم يا أبا الحَكا

 

10- طَمطَمانیّہ:

اس میں لامِ تعریف (ال) کو میم سے بدل دیا جاتا ہے۔ امام احمد کی ایک روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ سے ایک موقع پر یہ الفاظ منقول ہیں لیکن محدثین نے اس کی صحت پر کلام کیا ہے:

ليس من امبر أمصيام في أمسفر

جس کی اصل عبارت یہ ہے:

ليس من البر الصيام في السفر

اس لہجے کی جڑیں قدیم یمنی مملکت حِمیر تک جاتی ہیں، اور یہ آج بھی یمن کے بعض علاقوں میں زندہ ہے۔

 

11- اِستنطاء:

اس میں حرف (ع) کو (ن) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ انداز بنو بکر، ہذیل، ازد اور قیس قبائل کی زبان سے منسوب ہے، اور آج بھی عراق کے بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

مثالیں:

أعطينا أنطينا 

أعلى أنلى

 

12- تَلتَلَہ:

اس میں فعل کے شروع میں آنے والے حرفِ مضارع کو زیر کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ عرب دنیا کی سب سے زیادہ پھیلی ہوئی لسانی خصوصیات میں سے ایک ہے، جو مصر، شام، خلیج اور مغرب میں عام ہے۔ اس کی اصل قبائلِ اسد، تمیم اور ربیعہ کی زبان ہے۔

مثالیں:

نَعمَل نِعمِل

نَكتُب نِكتِب

 

13- عام لہجے:

مصر اور شام میں لوگ اپنی گفتگو کے دوران بعض حروف کو ان جیسے مخارج رکھنے والے دوسرے حروف سے بدل دیتے ہیں، جسے لسانیات میں تصحیف کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کئی علاقوں میں قاف کو کاف سے بدل دیا جاتا ہے، خاص طور پر شام، فلسطین اور مصر میں۔

مثالیں:

قال كال

اثنين اتنين

يبعث يبعت

شجرة سجرة

هذا هادا

جبکہ سوڈان اور یمن میں قاف کو غین میں بدلا جاتا ہے، جو قبیلہ تمیم کی زبان سمجھی جاتی ہے، جیسے:

قمر غمر

اور مراکش، الجزائر، تیونس اور لیبیا وغیرہ میں قاف کو جیم سے بدل دیا جاتا ہے، مثلاً:

قال جال


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...