اتوار، 28 دسمبر، 2025

2025 میں ہم سے جدا ہونے والے چند اہم علمائے کرام

اور اسلامی مفکرین ودانشوران

==============

سال 2025 امت مسلمہ کے لیے علمی و فکری محاذ پر ایک کٹھن سال رہا، جس میں کئی عظیم علماء، مفکرین اور ادبا اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کی وفات سے امت نے علمی، فکری، ادبی اور تدریسی خدمات اور دعوتی اثرات کے اہم ستون کھو دیے، البتہ ان کی علمی میراث سے ان شاء الله امت مسلمہ ہمیشہ سیراب ہوتی رہے گی۔

1- حضرت مولانا محمد عاقل صاحب سہارنپوری (وفات: 28 اپریل 2025)

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عاقل صاحب سہارنپوریؒ ہندوستان کے جلیل القدر عالم دین تھے، آپ جامعہ مظاہرِ علوم کے ذمہ دار رہے۔ آپؒ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے تربیت یافتہ تھے، آپ نے اپنی پوری زندگی علم  دین کی اشاعت اور حدیث رسول کی خدمت کے لیے وقف کی۔

 

2- حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ (وفات: 4 مئي 2025)

حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ نے دینی اور عصری علوم کے حسین امتزاج کی ایک درخشاں مثال قائم کرتے ہوئے مہاراشٹر کے قصبہ اکل کوا میں جامعہ اسلامیہ اشاعتُ العلوم کی بنیاد رکھی، جو آج ایک عظیم تعلیمی و دعوتی تحریک کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ آپؒ نے دینی تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے نوجوان نسل کو اس قابل بنایا کہ وہ دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکے۔ دارالعلوم دیوبند سے آپؒ کا گہرا تعلق اور مجلسِ شوریٰ کی رکنیت، آپ کے علمی وقار، بصیرت اور اعتماد کا روشن ثبوت ہے۔ محدود وسائل کے باوجود آپؒ نے قلیل مدت میں ایک ہمہ گیر اور منظم تعلیمی منصوبہ کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ آج ملک و بیرونِ ملک ہزاروں حفاظِ قرآن اور علمائے کرام اسی شجرِ طیبہ کی شاخیں ہیں، جو آپ کی محنتوں کا ثمر بن کر کتاب و سنت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔

 

3- ڈاکٹر حلمی محمد القاعودؒ ( وفات: 13 مئي 2025)

ڈاکٹر حلمی محمد القاعودؒ مصر کے ممتاز نقاد، ادیب اور مفکر تھے، انھوں نے بلاغت، تنقیدِ اور ادبِ مقارن کے میدان میں اہم ترین خدمات انجام دیں۔ مرحوم ڈاکٹر القاعود نے تقریباً دو سو کتابیں اور مقالات تصنیف کیں، جن میں بلاغت اور ادب کی جدید تشریحات شامل ہیں۔ ان کی سب سے اثرانگیز تصانیف میں الورد والهالوك نمایاں ہے، جس میں مصر کے ستر کی دہائی کے عرب شعرا کا تجزیہ کیا گیا۔ انہوں نے تدریس کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک فکری مشن کے طور پر اپنایا، اور عرب دنیا کے کئی شاگرد ان کے زیرِ تربیت نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔

 

4- شیخ عبدالوہاب الحلبی الندویؒ (وفات: 19 جولائي 2025)

شیخ عبدالوہاب الحلبی الندویؒ نے اپنی پوری زندگی علم، اخلاص اور دعوتِ دین کے لیے وقف کر دی۔ آپؒ علامہ سید ابوالحسن علی ندویؒ کے خاص شاگرد تھے اور جنوبی کوریا میں تقریباً چار دہائیوں تک اسلام کی روشنی پھیلاتے رہے۔ اپنی بے لوث محنت، حکمت اور دعوتی بصیرت کے ذریعے انہوں نے جنوبی کوریا میں مساجد، علمی مراکز اور دعوتی اداروں کی بنیاد رکھی، جن کے ذریعے ہزاروں دلوں کو اسلام سے روشناس کرایا۔ آپؒ نے عربی، انگریزی اور کوریائی زبانوں میں متعدد مؤثر تصانیف پیش کیں، جن کے ذریعے اسلام کی حقانیت اور اس کی آفاقی تعلیمات کو عام کیا۔ آپ کی زندگی اخلاص، استقامت اور دعوتِ دین کے عملی نمونے سے عبارت تھی، جو آج بھی اہلِ علم اور داعیانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

 

5- ڈاکٹر صابر عبدالدایم یونس (وفات: 17 اگست 2025)

ڈاکٹر صابر عبدالدایم یونس نے ازہر یونیورسٹی اور جامعہ ام القریٰ میں تدریس کے ساتھ ادب و تنقید کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ شاعر، نقاد اور محقق تھے، انہوں نے ادبِ اسلامی، صوفیانہ ادب اور شعری جمالیات پر درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی علمی سرگرمیوں نے ادبی مکالمے کو فروغ دیا اور عالمی سطح پر اسلامی ادبِ کے علم و شعور کو بڑھایا۔

 

6- مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ (وفات: 23 ستمبر 2025)

شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ معاصر سعودی تاریخ کے تیسرے مفتیِ اعظم تھے۔ انہوں نے تقریباً 35 برس تک میدانِ عرفات میں خطبہ عرفہ دیا اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ علم، تدریس، افتاء اور اسلامی رہنمائی کے لیے وقف کیا۔ ان کی علمی بصیرت، اعتدال اور حکمت نے انہیں عالمِ اسلام میں اعتماد اور احترام کا محور بنا دیا۔

 

7- شیخ القراء شیخ بشیر احمد صدیقؒ (وفات: 2 اکتوبر 2025)

شیخ القراء شیخ بشیر احمد صدیقؒ نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک مسجد نبوی  شریف میں قراءات سبع و عشر کی تدریس کے فرائض انجام دیے۔ آپؒ نے مرجع علمی کی حیثیت سے قراءات سبع وعشرہ کے دشوار مسائل حل کیے اور دنیا بھر میں قرآن کریم کے طلبا کی تربیت کی۔ ان کی تصانیف، أوضح المعالم اور جامع المنافع آج بھی قراءات کے مطالعہ کے لیے اہم مصادر ہیں۔

 

8- شیخ عبد اللہ بن عمر نصیف (وفات:12 اکتوبر 2025)

شیخ عبد اللہ بن عمر نصیف کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے سابق ڈایرکٹر اور رابطہ عالم اسلامی سمیت عالمِ اسلام کی متعدد اہم تنظیموں کے سربراہ تھے۔ انہوں نے جیولوجی اور اسلامی علوم میں نمایاں خدمات انجام دی، کئی تحقیقی مقالے اور کتابیں تصنیف کیں ، الإسلام والشیوعیہِ العلوم والشریعہ والتعلیم، انبثاق التضامن الاسلامی ان کی نمایاں تصنیفات ہیں۔

 

9- ڈاکٹر زغلول النجار (وفات: 9 نومبر 2025)

ڈاکٹر زغلول النجار مصری عالم دین اور محقق تھے، انہوں نے قرآن کریم کے سائنسی اعجاز کو جدید تحقیق کے ساتھ جوڑنے میں عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کے قلم سے 85 تحقیقی مقالے منظرعام پر آئے اور انھوں نے 300 سے زائد ماسٹرز و ڈاکٹریٹ کے مقالوں کی نگرانی کی۔ قرآن کریم کے اعجاز کے حوالے سے انھوں نے 150 سے زیادہ کتابیں تحریر کیں، من آيات الإعجاز العلمي اور الحيوان في القرآن الكريم ان کی نمایاں تصنیفات ہیں،  ان کی کتابیں اور سیمینارز قرآن کی سائنسی تشریحات کے فروغ کا سبب بنے۔

 

10 - شیخ محمد عبداللہ المقرمی (وفات: 26 نومبر 2025)

شیخ محمد عبداللہ المقرمی تدبر قرآن کے ممتاز داعی اور محقق تھے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور یمن کے مختلف شہروں میں تدبر قرآن کے دروس دیے ۔ ان کا تدبر قرآن کا منفرد اصولی فارمولہ (نظر تأمل اعتبار استبصار تدبر) علمی حلقوں میں بے حد مقبول ہوا۔

 

11- ڈاکٹر احمد عمر ہاشم (وفات: 12 دسمبر 2025)

ڈاکٹر احمد عمر ہاشم مصر کے معروف عالم دین اور محقق تھے۔ لمبے عرصے تک جامعہ ازہر میں مدرس رہے، 200 سے زائد ماسٹرز و پی ایچ ڈی کے مقالوں کے نگراں رہے اور 120 سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی معاصر حدیثی انسائیکلوپیڈیا علوم حدیث میں نمایاں خدمات کی علامت ہے۔

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...