جمعہ، 26 دسمبر، 2025

STATUS - SOCIAL MEDIA

 

اسٹیٹس کا زمانہ

:- ڈاکٹر مبصر الرحمن قاسمی

آج سے کوئی دس پندرہ برس پہلے تک لوگ اپنے غم و الم اور دردِ دل کو کسی قریبی دوست یا ہم راز سے کہہ سن کر، خط و کتابت کے ذریعے یا شعر و سخن کا سہارا لے کر ہلکا کر لیا کرتے تھے۔ انسانی جذبات کے اس لطیف اظہار کی بے شمار مثالیں ہمیں عربی ادب، بالخصوص شاعری میں ملتی ہیں۔

مثال کے طور پر مشہور عرب شاعر ابو فراس الحمدانی نے روم کی اسیری کے زمانے میں ایک کبوتر سے مخاطب ہو کر اپنے دل کی کیفیت یوں بیان کی:

 

أَقولُ وَقَد ناحَت بِقُربي حَمامَةٌ

أَيا جارَتا هَل تَشعُرينَ بِحالي

مَعاذَ الهَوى ماذُقتِ طارِقَةَ النَوى

وَلا خَطَرَت مِنكِ الهُمومُ بِبالِ

أَتَحمِلُ مَحزونَ الفُؤادِ قَوادِمٌ

عَلى غُصُنٍ نائي المَسافَةِ عالِ

أَيا جارَتا ما أَنصَفَ الدَهرُ بَينَنا

تَعالِي أُقاسِمكِ الهُمومَ تَعالِي

 

اسی طرح برصغیر کے عظیم مفکر مولانا ابوالکلام آزاد نے احمد نگر کے قید خانے سے اپنے مخلص دوست نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی کے نام جو خطوط تحریر کیے، وہ بعد میں غبارِ خاطر کے نام سے معروف ہوئے۔ ان خطوط میں جہاں قید و بند کے شب و روز کی تفصیل ہے، وہیں تنہائی، کرب اور داخلی اضطراب کی دل آویز ترجمانی بھی ملتی ہے۔

اسی طرح  بہادر شاہ ظفر نے رنگون میں عالمِ اسیری کے دوران درد و تنہائی کا نوحہ کرتے ہوئے کہا:

لگتا نہیں ہے دل مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

مگر آج سوشل میڈیا کے عہد میں اظہارِ احساس کے یہ مہذب اور بامعنی طریقے تقریباً مفقود ہو چکے ہیں۔ نہ اب غم میں شاعری کی جاتی ہے، نہ خوشی میں خطوط لکھے جاتے ہیں، اور نہ ہی کسی خاص فرد کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ بس ایک اسٹیٹس لگا دیا جاتا ہے، جو قریبی اور اجنبی سب کے لیے یکساں ہوتا ہے، اور یوں دل کا بوجھ لمحاتی طور پر ہلکا کر لیا جاتا ہے۔

اسٹیٹسوں کے ان تصویری اور لفظی اشارات سے ہر دیکھنے والا بآسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ متعلقہ فرد کسی نہ کسی نشیب و فراز، داخلی کشمکش یا جذباتی مرحلے سے گزر رہا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...