اتوار، 28 دسمبر، 2025

2025 میں ہم سے جدا ہونے والے چند اہم علمائے کرام

اور اسلامی مفکرین ودانشوران

==============

سال 2025 امت مسلمہ کے لیے علمی و فکری محاذ پر ایک کٹھن سال رہا، جس میں کئی عظیم علماء، مفکرین اور ادبا اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کی وفات سے امت نے علمی، فکری، ادبی اور تدریسی خدمات اور دعوتی اثرات کے اہم ستون کھو دیے، البتہ ان کی علمی میراث سے ان شاء الله امت مسلمہ ہمیشہ سیراب ہوتی رہے گی۔

1- حضرت مولانا محمد عاقل صاحب سہارنپوری (وفات: 28 اپریل 2025)

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عاقل صاحب سہارنپوریؒ ہندوستان کے جلیل القدر عالم دین تھے، آپ جامعہ مظاہرِ علوم کے ذمہ دار رہے۔ آپؒ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے تربیت یافتہ تھے، آپ نے اپنی پوری زندگی علم  دین کی اشاعت اور حدیث رسول کی خدمت کے لیے وقف کی۔

 

2- حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ (وفات: 4 مئي 2025)

حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ نے دینی اور عصری علوم کے حسین امتزاج کی ایک درخشاں مثال قائم کرتے ہوئے مہاراشٹر کے قصبہ اکل کوا میں جامعہ اسلامیہ اشاعتُ العلوم کی بنیاد رکھی، جو آج ایک عظیم تعلیمی و دعوتی تحریک کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ آپؒ نے دینی تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے نوجوان نسل کو اس قابل بنایا کہ وہ دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکے۔ دارالعلوم دیوبند سے آپؒ کا گہرا تعلق اور مجلسِ شوریٰ کی رکنیت، آپ کے علمی وقار، بصیرت اور اعتماد کا روشن ثبوت ہے۔ محدود وسائل کے باوجود آپؒ نے قلیل مدت میں ایک ہمہ گیر اور منظم تعلیمی منصوبہ کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ آج ملک و بیرونِ ملک ہزاروں حفاظِ قرآن اور علمائے کرام اسی شجرِ طیبہ کی شاخیں ہیں، جو آپ کی محنتوں کا ثمر بن کر کتاب و سنت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔

 

3- ڈاکٹر حلمی محمد القاعودؒ ( وفات: 13 مئي 2025)

ڈاکٹر حلمی محمد القاعودؒ مصر کے ممتاز نقاد، ادیب اور مفکر تھے، انھوں نے بلاغت، تنقیدِ اور ادبِ مقارن کے میدان میں اہم ترین خدمات انجام دیں۔ مرحوم ڈاکٹر القاعود نے تقریباً دو سو کتابیں اور مقالات تصنیف کیں، جن میں بلاغت اور ادب کی جدید تشریحات شامل ہیں۔ ان کی سب سے اثرانگیز تصانیف میں الورد والهالوك نمایاں ہے، جس میں مصر کے ستر کی دہائی کے عرب شعرا کا تجزیہ کیا گیا۔ انہوں نے تدریس کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک فکری مشن کے طور پر اپنایا، اور عرب دنیا کے کئی شاگرد ان کے زیرِ تربیت نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔

 

4- شیخ عبدالوہاب الحلبی الندویؒ (وفات: 19 جولائي 2025)

شیخ عبدالوہاب الحلبی الندویؒ نے اپنی پوری زندگی علم، اخلاص اور دعوتِ دین کے لیے وقف کر دی۔ آپؒ علامہ سید ابوالحسن علی ندویؒ کے خاص شاگرد تھے اور جنوبی کوریا میں تقریباً چار دہائیوں تک اسلام کی روشنی پھیلاتے رہے۔ اپنی بے لوث محنت، حکمت اور دعوتی بصیرت کے ذریعے انہوں نے جنوبی کوریا میں مساجد، علمی مراکز اور دعوتی اداروں کی بنیاد رکھی، جن کے ذریعے ہزاروں دلوں کو اسلام سے روشناس کرایا۔ آپؒ نے عربی، انگریزی اور کوریائی زبانوں میں متعدد مؤثر تصانیف پیش کیں، جن کے ذریعے اسلام کی حقانیت اور اس کی آفاقی تعلیمات کو عام کیا۔ آپ کی زندگی اخلاص، استقامت اور دعوتِ دین کے عملی نمونے سے عبارت تھی، جو آج بھی اہلِ علم اور داعیانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

 

5- ڈاکٹر صابر عبدالدایم یونس (وفات: 17 اگست 2025)

ڈاکٹر صابر عبدالدایم یونس نے ازہر یونیورسٹی اور جامعہ ام القریٰ میں تدریس کے ساتھ ادب و تنقید کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ شاعر، نقاد اور محقق تھے، انہوں نے ادبِ اسلامی، صوفیانہ ادب اور شعری جمالیات پر درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی علمی سرگرمیوں نے ادبی مکالمے کو فروغ دیا اور عالمی سطح پر اسلامی ادبِ کے علم و شعور کو بڑھایا۔

 

6- مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ (وفات: 23 ستمبر 2025)

شیخ عبدالعزیز آلِ شیخ معاصر سعودی تاریخ کے تیسرے مفتیِ اعظم تھے۔ انہوں نے تقریباً 35 برس تک میدانِ عرفات میں خطبہ عرفہ دیا اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ علم، تدریس، افتاء اور اسلامی رہنمائی کے لیے وقف کیا۔ ان کی علمی بصیرت، اعتدال اور حکمت نے انہیں عالمِ اسلام میں اعتماد اور احترام کا محور بنا دیا۔

 

7- شیخ القراء شیخ بشیر احمد صدیقؒ (وفات: 2 اکتوبر 2025)

شیخ القراء شیخ بشیر احمد صدیقؒ نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک مسجد نبوی  شریف میں قراءات سبع و عشر کی تدریس کے فرائض انجام دیے۔ آپؒ نے مرجع علمی کی حیثیت سے قراءات سبع وعشرہ کے دشوار مسائل حل کیے اور دنیا بھر میں قرآن کریم کے طلبا کی تربیت کی۔ ان کی تصانیف، أوضح المعالم اور جامع المنافع آج بھی قراءات کے مطالعہ کے لیے اہم مصادر ہیں۔

 

8- شیخ عبد اللہ بن عمر نصیف (وفات:12 اکتوبر 2025)

شیخ عبد اللہ بن عمر نصیف کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے سابق ڈایرکٹر اور رابطہ عالم اسلامی سمیت عالمِ اسلام کی متعدد اہم تنظیموں کے سربراہ تھے۔ انہوں نے جیولوجی اور اسلامی علوم میں نمایاں خدمات انجام دی، کئی تحقیقی مقالے اور کتابیں تصنیف کیں ، الإسلام والشیوعیہِ العلوم والشریعہ والتعلیم، انبثاق التضامن الاسلامی ان کی نمایاں تصنیفات ہیں۔

 

9- ڈاکٹر زغلول النجار (وفات: 9 نومبر 2025)

ڈاکٹر زغلول النجار مصری عالم دین اور محقق تھے، انہوں نے قرآن کریم کے سائنسی اعجاز کو جدید تحقیق کے ساتھ جوڑنے میں عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کے قلم سے 85 تحقیقی مقالے منظرعام پر آئے اور انھوں نے 300 سے زائد ماسٹرز و ڈاکٹریٹ کے مقالوں کی نگرانی کی۔ قرآن کریم کے اعجاز کے حوالے سے انھوں نے 150 سے زیادہ کتابیں تحریر کیں، من آيات الإعجاز العلمي اور الحيوان في القرآن الكريم ان کی نمایاں تصنیفات ہیں،  ان کی کتابیں اور سیمینارز قرآن کی سائنسی تشریحات کے فروغ کا سبب بنے۔

 

10 - شیخ محمد عبداللہ المقرمی (وفات: 26 نومبر 2025)

شیخ محمد عبداللہ المقرمی تدبر قرآن کے ممتاز داعی اور محقق تھے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور یمن کے مختلف شہروں میں تدبر قرآن کے دروس دیے ۔ ان کا تدبر قرآن کا منفرد اصولی فارمولہ (نظر تأمل اعتبار استبصار تدبر) علمی حلقوں میں بے حد مقبول ہوا۔

 

11- ڈاکٹر احمد عمر ہاشم (وفات: 12 دسمبر 2025)

ڈاکٹر احمد عمر ہاشم مصر کے معروف عالم دین اور محقق تھے۔ لمبے عرصے تک جامعہ ازہر میں مدرس رہے، 200 سے زائد ماسٹرز و پی ایچ ڈی کے مقالوں کے نگراں رہے اور 120 سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی معاصر حدیثی انسائیکلوپیڈیا علوم حدیث میں نمایاں خدمات کی علامت ہے۔

 


جمعہ، 26 دسمبر، 2025

STATUS - SOCIAL MEDIA

 

اسٹیٹس کا زمانہ

:- ڈاکٹر مبصر الرحمن قاسمی

آج سے کوئی دس پندرہ برس پہلے تک لوگ اپنے غم و الم اور دردِ دل کو کسی قریبی دوست یا ہم راز سے کہہ سن کر، خط و کتابت کے ذریعے یا شعر و سخن کا سہارا لے کر ہلکا کر لیا کرتے تھے۔ انسانی جذبات کے اس لطیف اظہار کی بے شمار مثالیں ہمیں عربی ادب، بالخصوص شاعری میں ملتی ہیں۔

مثال کے طور پر مشہور عرب شاعر ابو فراس الحمدانی نے روم کی اسیری کے زمانے میں ایک کبوتر سے مخاطب ہو کر اپنے دل کی کیفیت یوں بیان کی:

 

أَقولُ وَقَد ناحَت بِقُربي حَمامَةٌ

أَيا جارَتا هَل تَشعُرينَ بِحالي

مَعاذَ الهَوى ماذُقتِ طارِقَةَ النَوى

وَلا خَطَرَت مِنكِ الهُمومُ بِبالِ

أَتَحمِلُ مَحزونَ الفُؤادِ قَوادِمٌ

عَلى غُصُنٍ نائي المَسافَةِ عالِ

أَيا جارَتا ما أَنصَفَ الدَهرُ بَينَنا

تَعالِي أُقاسِمكِ الهُمومَ تَعالِي

 

اسی طرح برصغیر کے عظیم مفکر مولانا ابوالکلام آزاد نے احمد نگر کے قید خانے سے اپنے مخلص دوست نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی کے نام جو خطوط تحریر کیے، وہ بعد میں غبارِ خاطر کے نام سے معروف ہوئے۔ ان خطوط میں جہاں قید و بند کے شب و روز کی تفصیل ہے، وہیں تنہائی، کرب اور داخلی اضطراب کی دل آویز ترجمانی بھی ملتی ہے۔

اسی طرح  بہادر شاہ ظفر نے رنگون میں عالمِ اسیری کے دوران درد و تنہائی کا نوحہ کرتے ہوئے کہا:

لگتا نہیں ہے دل مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

مگر آج سوشل میڈیا کے عہد میں اظہارِ احساس کے یہ مہذب اور بامعنی طریقے تقریباً مفقود ہو چکے ہیں۔ نہ اب غم میں شاعری کی جاتی ہے، نہ خوشی میں خطوط لکھے جاتے ہیں، اور نہ ہی کسی خاص فرد کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ بس ایک اسٹیٹس لگا دیا جاتا ہے، جو قریبی اور اجنبی سب کے لیے یکساں ہوتا ہے، اور یوں دل کا بوجھ لمحاتی طور پر ہلکا کر لیا جاتا ہے۔

اسٹیٹسوں کے ان تصویری اور لفظی اشارات سے ہر دیکھنے والا بآسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ متعلقہ فرد کسی نہ کسی نشیب و فراز، داخلی کشمکش یا جذباتی مرحلے سے گزر رہا ہے۔

Jota Nabi ایبوہ نوح

 

گھانا میں جھوٹے نبی کا دعویٰ ٹائیں ٹائیں فِش

از قلم: ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی

سوشل میڈیا کے عہد میں سادہ لوح انسانوں کو فریب کا شکار بنانا غیر معمولی حد تک آسان ہو چکا ہے۔ مذہبی جذبات، خوف اور قیامت کے تصورات کو بنیاد بنا کر عوامی ذہن کو یرغمال بنانا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ گھانا میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسی خطرناک رجحان کی ایک نمایاں مثال ہے۔

گھانا کا ایک نوجوان، جو خود کو ایبوہ نوح کہلواتا ہے اور نبوت کا دعوے دار ہے، سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک پر غیر معمولی طور پر سرگرم رہا۔ اس نے یہ سنسنی خیز اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ انسانیت کو آنے والے ’’عظیم طوفان‘‘ سے بچانے کے لیے کشتیاں تیار کرے۔ اس نام نہاد نبی کے بقول 25 دسمبر کو پوری دنیا ایک تباہ کن طوفان کی لپیٹ میں آنے والی تھی، جو تین سے چار برس تک مسلسل جاری رہتا، اور اس عذاب سے صرف وہی لوگ نجات پا سکتے تھے جو اس کی تیار کردہ کشتیوں میں سوار ہوتے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی اس نے یہ تاثر دیا کہ وہ پہلے ہی کئی دیوہیکل لکڑی کی کشتیاں تیار کر چکا ہے۔ خوف اور نجات کی امید کے امتزاج نے ایک ہولناک منظر کو جنم دیا اور تقریباً تین لاکھ اسی ہزار افراد مختلف علاقوں سے آ کر ان کشتیوں میں سوار ہونے کی تیاری کرنے لگے۔

چند ہی ہفتوں میں اس نوجوان نے ٹک ٹاک پر دس لاکھ سے زائد فالوورز جمع کر لیے۔ اس نے اس پورے عمل کو ’’دنیا کی ازسرِ نو ترتیب‘‘ کا نام دیا، گویا وہ محض ایک پیش گو نہیں بلکہ عالمی تاریخ کا نیا معمار ہو۔ اس غیر معقول اور غیر سائنسی بیانیے کے باوجود ہزاروں افراد اس فریب کا شکار ہو گئے۔ بعض نے خوف کے زیرِ اثر اپنی جائیدادیں اور گھر فروخت کر دیے، جبکہ کئی لوگوں نے کشتی میں جگہ کی یقین دہانی کے بدلے بھاری رقوم اس جھوٹے نبی کے حوالے کیں۔

جب مقررہ دن آیا اور گھنٹوں کے انتظار کے باوجود طوفان کا کوئی نام و نشان نہ ملا تو ایبوہ نوح نے ایک نئی تاویل پیش کر دی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو ’’راضی کر لیا‘‘ ہے اور کشتیوں کی محدود تعداد کے باعث قیامت کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یہ تاویل اس حقیقت کی غماز ہے کہ جب جھوٹ بے نقاب ہونے لگے تو اس کے محافظ مزید جھوٹ گھڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

یہ جنون محض گھانا تک محدود نہ رہا بلکہ پڑوسی ممالک سے بھی لوگ وہاں پہنچنے لگے۔ بالآخر گھانا کے حکام نے مداخلت کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا، اگرچہ بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔ گرفتاری سے قبل جاری کردہ ایک ویڈیو میں اس نے کہا کہ اگر طوفان نہ آیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خدا نے انسانوں کو معاف کر دیا ہے، اور اس ’’بخشش‘‘ کے جشن کے لیے ایک بڑی تقریب منعقد کی جائے گی یعنی ناکامی کو بھی کامیابی میں بدلنے کی ایک اور چال۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس جھوٹے نبی نے ایک خاص قسم کا ٹاٹ کا لباس بھی ڈیزائن کر رکھا تھا، جسے وہ اپنے پیروکاروں کو توبہ کی علامت کے طور پر عنایت کرتا تھا۔

اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کی اس طرح کے فتنوں سے حفاظت فرمائے۔

آخری نبی حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لا چکے ہیں۔ اب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے ہماری زمین پر اللہ کے حکم سے نازل ہوں گے، اور وہ نبی نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے امتی بن کر آئیں گے۔ اب کوئی طوفانِ نوح نہیں آئے گا، بلکہ قیامت کی تمام علامتیں اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں بتا دی ہیں، جن کی مکمل تفصیلات صحیح احادیث میں موجود ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=WRN9tyCz_-8

 

پیر، 22 دسمبر، 2025

عربی زبان کی بولیاں

:- ڈاکٹر مبصر الرحمن قاسمی

عربی زبان کے الگ الگ لہجے

(عربی زبان کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک خاص تحریر)

==========

عربی زبان کی اصل تو ایک ہی ہے، لیکن اس کے لہجوں کی شاخیں بے شمار ہیں۔ آپ عرب دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کریں تو فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہاں کی بولیاں ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہیں۔ یہ فرق صرف روزمرہ گفتگو تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ عرب دنیا میں علاقوں کے بدلنے کے ساتھ لہجوں کا بدل جانا یہ ایک قدیم حقیقت ہے جسے علماء نے صدیوں پہلے اس وقت ہی محفوظ کر لیا تھا، جب عربوں نے زبان کے اصول و قواعد اور مختلف قبائل کے لہجوں کو باقاعدہ طور پر قلم بند کرنا شروع کیا۔

عربی زبان کا ہر لہجہ اپنی مخصوص لسانی خصوصیات کے باعث دوسرے لہجے سے جدا ہوتا ہے۔ کہیں کسی حرف کی جگہ دوسرا حرف استعمال ہوتا ہے، کہیں کسی اضافی حرف کا اضافہ ہو جاتا ہے، اور کہیں الفاظ یا افعال کی شکل ہی بنیادی طور پر بدل جاتی ہے۔

ذیل میں ہم نے فصیح عربی زبان کے چند نمایاں لہجوں کا تعارف پیش کیا ہے، جس کے لیے بنیادی طور پر مصری ادیب مصطفیٰ صادق الرافعی کی معروف کتاب "تاریخِ ادبِ عربی" سے رہنمائی لی گئی ہے۔ فصیح عربی کے علاوہ عامی لہجے مزید مختلف ہیں۔ جن میں مصری لہجہ، مغاربی لہجہ، عراقی لہجہ، شامی لہجہ اور خلیجی لہجہ شامل ہیں۔

 

1- کشکشہ:

اس میں فعل کے آخر میں آنے والے حرف (ک)کے ساتھ (ش) کا اضافہ کیا جاتا ہے، تاکہ تانیث کی طرف اشارہ ہو۔ اس لہجے کی اصل عرب قبائل مضر اور ربیعہ سے جا ملتی ہے۔یہ لسانی انداز بنیادی طور پر عراق میں پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ بعض خلیجی علاقوں سمیت شام اور اردن کے بعض حصوں میں بھی رائج ہے۔

مثالیں:

رأيتك رأيتكش

عليك عليكش

 

2- - کَسکَسہ:

اس میں فعل کے آخر میں آنے والے حرف (ک)کے ساتھ (س) کا اضافہ کیا جاتا ہے، یا اسے (س) میں بدل دیا جاتا ہے، تاکہ تانیث (مونث ہونے) کا مفہوم ظاہر ہو۔ بعض صورتوں میں (ک)کو (تس) میں بھی بدل دیا جاتا ہے۔ اس لہجے کی اصل عرب قبائل بکر بن وائل اور ہوازن سے منسوب ہے۔یہ لہجہ آج بھی زندہ ہے اور خلیج عرب کے بعض علاقوں میں بولاجاتا ہے، خصوصاً سعودی عرب کے نجد کے چند حصوں اور خاص طور پر منطقۂ قصیم میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔

مثالیں:

عليك عليس / عليتس

بك بس / بتس

 

3- شَنشَنہ:

اس میں لفظ کے آخر میں آنے والا حرف (ک)، خواہ مذکر کے لیے ہو یا مؤنث کے لیے، (ش) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ لہجہ آج بھی یمن اور جنوبی سعودی عرب میں رائج ہے۔

مثال:

لبيك اللهم لبيك  کو  لبيش اللهم لبيش

 

4- عَنعَنہ:

اس میں لفظ کے شروع میں آنے والی ہمزہ کو (ع)میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس کی اصل عرب قبائل تمیم اور قیس سے منسوب ہے۔ یہ انداز گفتگو آج بھی شمالی سعودی عرب، جنوبی اردن، اور مصر کے صعید اور نوبہ کے بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

مثالیں:

أنك  کو عنك

أسلم کو عسلم

سأل کو سعل

لا کو لع

 

5-فَحفَحہ:

اس میں حرف (ح) کو (ع) میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس لہجے کی اصل عرب قبیلہ ہُذَیل سے منسوب ہے۔ یہ لہجہ آج بھی جزیرۂ عرب کے جنوبی علاقوں کے بعض حصوں میں پایا جاتا ہے۔

مثالیں:

 حلت الحياة لكل حي کو علت العياة لكل عي

حتى کو عتى

 

6- عَجعَجَہ:

اس میں مشدد یاء کو (ج) میں بدل دیا جاتا ہے، یا اس کے برعکس ج کو یاء میں۔ اس لہجے کی اصل عرب قبیلہ قُضاعہ سے منسوب ہے۔ یہ انداز آج بھی کویت اور خلیج عرب کے بعض علاقوں میں رائج ہے۔

مثالیں:

أبو علي أبو علج

بالعشي بالعشج

اسی کی ایک الٹی صورت بھی پائی جاتی ہے، یعنی ج کو یاء میں بدل دینا۔ یہ انداز کبھی کبھار مصر میں بعض الفاظ میں سننے کو ملتا ہے، جیسے لفظ “أوي” جس کی اصل “أوج” (یعنی چوٹی) ہے، یا مسجد کو مسيد کہنا۔

 

7- وَتم:

اس میں حرف (س) کو (ت) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ لہجہ بعض یمنی قبائل میں استعمال ہوتا ہے۔

مثالیں:

الناس النات

مات ماس

 

8- لَخلَخانیہ:

اس میں کسی حرف کو حذف کر دیا جاتا ہے یا اسے اس کے بعد آنے والے حرف میں ملا دیا جاتا ہے۔ اس انداز کو عمان اور یمن کے علاقے الشِّحر کے لوگوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔

مثالیں:

في أمان الله فمان الله

ما شاء الله مشالله

 

9- قَطعَہ:

اس میں لفظ کو مکمل ادا کرنے سے پہلے ہی کاٹ دیا جاتا ہے، یعنی کلام کے آخر کا حرف گرا دیا جاتا ہے۔ اس لہجے کی اصل قبیلہ طَیِّء سے ملتی ہے۔ یہ انداز مصر میں بھی بعض الفاظ میں نظر آتا ہے۔

مثالیں:

يا ولد يا ولا

مساء الخير مسا الخير

 

يا أبا الحكم يا أبا الحَكا

 

10- طَمطَمانیّہ:

اس میں لامِ تعریف (ال) کو میم سے بدل دیا جاتا ہے۔ امام احمد کی ایک روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ سے ایک موقع پر یہ الفاظ منقول ہیں لیکن محدثین نے اس کی صحت پر کلام کیا ہے:

ليس من امبر أمصيام في أمسفر

جس کی اصل عبارت یہ ہے:

ليس من البر الصيام في السفر

اس لہجے کی جڑیں قدیم یمنی مملکت حِمیر تک جاتی ہیں، اور یہ آج بھی یمن کے بعض علاقوں میں زندہ ہے۔

 

11- اِستنطاء:

اس میں حرف (ع) کو (ن) میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ انداز بنو بکر، ہذیل، ازد اور قیس قبائل کی زبان سے منسوب ہے، اور آج بھی عراق کے بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

مثالیں:

أعطينا أنطينا 

أعلى أنلى

 

12- تَلتَلَہ:

اس میں فعل کے شروع میں آنے والے حرفِ مضارع کو زیر کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ عرب دنیا کی سب سے زیادہ پھیلی ہوئی لسانی خصوصیات میں سے ایک ہے، جو مصر، شام، خلیج اور مغرب میں عام ہے۔ اس کی اصل قبائلِ اسد، تمیم اور ربیعہ کی زبان ہے۔

مثالیں:

نَعمَل نِعمِل

نَكتُب نِكتِب

 

13- عام لہجے:

مصر اور شام میں لوگ اپنی گفتگو کے دوران بعض حروف کو ان جیسے مخارج رکھنے والے دوسرے حروف سے بدل دیتے ہیں، جسے لسانیات میں تصحیف کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کئی علاقوں میں قاف کو کاف سے بدل دیا جاتا ہے، خاص طور پر شام، فلسطین اور مصر میں۔

مثالیں:

قال كال

اثنين اتنين

يبعث يبعت

شجرة سجرة

هذا هادا

جبکہ سوڈان اور یمن میں قاف کو غین میں بدلا جاتا ہے، جو قبیلہ تمیم کی زبان سمجھی جاتی ہے، جیسے:

قمر غمر

اور مراکش، الجزائر، تیونس اور لیبیا وغیرہ میں قاف کو جیم سے بدل دیا جاتا ہے، مثلاً:

قال جال


معجم الدوحة التاريخي للغة العربية- urdu

:- ڈاکٹر مبصر الرحمن قاسمی

 

عربی زبان کی وسیع ترین تاریخی لغت

 معجم الدوحة التاريخي للغة العربية

 کی تکمیل اور آغاز

https://www.dohadictionary.org

===========

تیرہ برس سے زائد عرصے پر محیط تحقیق، تجربے اور باقاعدہ دستاویزی کام کے بعد آج بروز پیر قطر میں معجم الدوحة التاريخي للغة العربية کی تکمیل کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ عربی زبان کا ایک بے مثال اور منفرد لسانی منصوبہ ہے، جو عربی الفاظ کی تاریخ کو زمانی اور معنوی تناظر میں محفوظ کرتا ہے، اور صدیوں پر محیط ان کے استعمال اور معنوی ارتقا کو مستند شواہد کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

اس ڈکشنری کی نمایاں خصوصیات، اس کے تاریخی پہلو کے علاوہ، درجِ ذیل ہیں:

1-  معجم الدوحة کی تیاری کے لیے ایک خاص اور منفرد متنی ذخیرہ (Corpus) تیار کیا گیا ہے، جو صرف اسی منصوبے کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا۔ اس ذخیرے میں عربی زبان کے مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے متون شامل ہیں، تاکہ زبان کے آغاز سے لے کر آج تک اس کے استعمال اور ارتقا کو واضح طور پر دیکھا جا سکے۔ یوں یہ لغت عربی زبان کی پوری تاریخی تصویر ایک ہی جگہ پیش کرتی ہے۔

 

2- یہ معجم ہر عربی لفظ کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ سب سے پہلے کب اور کہاں استعمال ہوا۔ جہاں ممکن ہو، وہاں یہ لفظ کو قدیم زمانے کے کتبوں اور نقوش تک لے جاتا ہے، اور صرف مثال ہی نہیں دیتا بلکہ اس نقش سے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کرتا ہے، تاکہ قاری کو لفظ کی اصل اور تاریخی پس منظر واضح طور پر سمجھ آ سکے۔

 

3- اس معجم میں عام لوگوں کی روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے الفاظ کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ ایسے تمام الفاظ کو واضح سائنسی اصولوں اور منظم طریقۂ کار کے تحت جمع کر کے درج کیا گیا ہے، تاکہ زبان کا وہ پہلو بھی محفوظ رہے جو عوام کی بول چال اور سماجی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔

 

4- اس معجم میں سائنسی، علمی اور فنی میدانوں میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کو بھی پوری توجہ کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ انہیں بھی عام الفاظ ہی کی طرح ایک منظم اور اصولی طریقے سے درج کیا گیا ہے، تاکہ عربی زبان کے علمی اور عملی دونوں پہلو ایک ہی جگہ واضح طور پر سامنے آ سکیں۔

 

5- اس ڈکشنری میں بعض عربی الفاظ کو ان سے ملتی جلتی سامی زبانوں کے الفاظ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس سے یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ مختلف سامی زبانیں آپس میں کس طرح مربوط ہیں اور عربی الفاظ کا ان زبانوں سے کیا لسانی رشتہ بنتا ہے۔

 

6- جو الفاظ دوسری زبانوں سے عربی میں داخل ہوئے ہیں، ان کی اصل زبان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، مثلاً فارسی، یونانی، ہندی، ترکی یا دیگر زبانیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ الفاظ کہاں سے آئے اور عربی زبان میں کس راستے سے شامل ہوئے۔

 

7- معجم الدوحة میں غیر ضروری انسائیکلوپیڈیائی معلومات سے اجتناب کیا گیا ہے۔ تعریفوں میں غیر ضروری طوالت، فلسفیانہ توجیہات یا غیر متعلق تشریحات سے گریز کیا گیا ہے، اور صرف وہی معلومات پیش کی گئی ہیں جو ایک خالص لسانی معجم کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوں۔

مثال کے طور پر، آج اس ڈکشنری کے لانچ کے بعد جب ہم نے لفظ "کاشف" تلاش کیا تو اس کے معانی، اس کا اولین استعمال، اور یہ کہ اب تک کن کن مشہور شاعروں اور عربی کی کن کن امہات الکتب میں یہ لفظ کن کن معانی میں استعمال ہوا ہے سب کچھ مستند اور مدلل تفصیلات کے ساتھ سامنے آ گیا۔

یوں معجم الدوحة التاريخي للغة العربية  عربی زبان کی تاریخی زندگی کا ایک مستند، منظم اور سائنسی ریکارڈ بن گیا ہے۔ یہ معجم لسانیات، تاریخِ زبان، ادبیات اور تقابلی مطالعات سے وابستہ محققین کے لیے ایک بنیادی اور ناگزیر ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے، اور عربی لغت نویسی کے میدان میں ایک نئی علمی جہت کا اضافہ ہے۔

https://www.dohadictionary.org

 


فیچر پوسٹ

Watan se Mohabbat Aur Islam

✍ ڈاکٹر مبصرالرحمن قاسمی  وطن سے محبت ۔۔ دین اسلام کی رہنمائی ((ما أطيبَك من بلدٍ! وما أحبَّك إليَّ! ولولا أن قومي أخرجوني منك،...